آئینی عدالت :سپر ٹیکس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم

 

 

 

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپر ٹیکس کیس سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کیا،جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کےتحت سپر ٹیکس کےنفاذ کو آئینی قراردیا گیا ہے۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق سپر ٹیکس کا نفاذ انکم ٹیکس سے آزاد اور ایک الگ ٹیکس کے طور پر تصور کیا جائے گا۔

آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سیکشن 4C کےخلاف فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیکشن 4C کے تحت ٹیکس کا نفاذ ٹیکس سال 2022 اور اس کےبعد کے سالوں پر لاگو ہوگا۔

فیصلےکے مطابق پارلیمنٹ انکم ٹیکس آرڈیننس کےتحت آمدن پر ٹیکس لگانے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنےکی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی۔عدالت نے کہاکہ سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کے علاوہ ہے، اس کا متبادل نہیں۔

فیصلے میں کہاگیا ہےکہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس رجیم کےتحت آتی ہیں جب کہ سرمایے میں اضافے پر بھی اسی سیکشن کےتحت سپر ٹیکس کا اطلاق ہوگا۔پیٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کےمطابق ہوگا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ فلاحی اور پینشن فنڈز سپر ٹیکس سے استثنیٰ کےلیے سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانے کے پابند ہوں گے۔

 

فیصلے کے مطابق قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز ہے ۔مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے سپر ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔

عدالت نے واضح کیاکہ ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن سپرٹیکس سے بھی مستثنیٰ ہوگی اور جس آمدن پر قانون کے تحت ٹیکس نہیں اس پر سپر ٹیکس کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔جائیداد یا شیئرز کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ کی صورت میں سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جب کہ وراثت یا مخصوص مدت کےبعد حاصل آمدن پر بھی سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔زرعی زمین کی فروخت یا آمدن پر بھی سپر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

 

 

Back to top button