اپوزیشن سینیٹ الیکشن نہ روک پائے تو حکومت کتنی سیٹیں لے گی؟

موجودہ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے 12 مارچ تک خالی ہونے والی 52 نشستوں پر سینیٹ انتخابات ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کی سینیٹ میں اقلیت اکثریت میں اور اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔ چنانچہ پی ڈی ایم اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ کا الیکشن ہونے سے پہلے ہی اسمبلیوں سے استعفے دے کر اس کا الیکٹورل کالج ختم کردیا جائے تاکہ حکومت ایوان بالا میں برتری حاصل نہ کر پائے۔
اس وقت سینیٹ میں 104 کے ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے 63 اور حکومتی جماعتوں کے 41 سینیٹرز ہیں ، موجودہ اسمبلیوں سے انتخابات ہونے سے سینٹ میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 41 سے بڑھ کر 55اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد 63 سے کم ہو کر 49 ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ اسکے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں جماعت اسلامی، اے این پی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پی این پی مینگل اور وفاق سے مسلم لیگ (ن) کا سینیٹ میں صفایا ہو جائے گا جبکہ مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے ریٹائر ہونے والے 20 سینیٹرز میں سے 12 سینیٹرز دوبارہ منتخب نہیں ہو سکیں گے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مسلم لیگ (ن) کے دونوں سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر اور راحیلہ مگسی کی خالی نشستوں پر ون ٹو ون مقابلے میں پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہونے پر جیت جائے گی۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کے لئے بلوچستان سے 2 اور کے پی کے کی خالی کردہ ایک نشست دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا جبکہ نواز لیگ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کی خالی کردہ 12 نشستوں میں سے بمشکل 5 نشستیں دوبارہ حاصل کر سکے گی۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی 7 سینٹ نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں 8 خالی جنرل نشستوں پر ایک سینیٹر کو کامیابی کے لئے کم از کم 47 اراکین کے ووٹ درکار ہوں گے جبکہ خواتین کی 2 اقلیتی اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست پر کامیابی کے لئے 123 ارکان کے ووٹ چائیے ہوں گے۔ اس وقت پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 172 اور حکومتی اتحاد کے اراکین پنجاب اسمبلی کی تعداد 196ہے۔ کے پی کے کے 145 کے ایوان میں ایک جنرل نشست کے لئے کم از کم 18 اراکین کے ووٹ درکار ہوں گے جبکہ خواتین اقلیت اور ٹیکنو کریٹ کی نشست کے لئے 70 ووٹ چاہیں ہوں گے۔
سندھ اسمبلی کے 168 کے ایوان میں جنرل نشست پر کامیابی کے لئے ایک سینیٹر کو کم از کم 24 ووٹ درکار ہوں گے اور مخصوص نشست کے لئیے 24 ووٹ لینے والا سینیٹر منتخب ہو سکے گا۔ بلوچستان کے 65 کے ایوان میں 10ووٹ لینے والا جنرل نشست پر اور 33 ارکان کے ووٹ لینے والا مخصوص نشست پر سینیٹر منتخب ہو جائے گا۔
سندھ سے پیپلز پارٹی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی اپنی خالی کردہ نشستیں دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ لیکن ایم کیو ایم کے لیے اپنی خالی کردہ چاروں نشستیں حاصل کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ بلوچستان سے جے یو آئی کے موجودہ سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کو دوبارہ منتخب ہونے کے لئے دس اور کے پی کے میں مولانا عطاء الرحمن کو کامیابی کے لیے 18 اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹ درکار ہوں گے۔ موجودہ اسمبلیوں سے سینیٹ کی خالی نشستوں پر 12 مارچ سے قبل انتخابات ہونے سے وفاق، پنجاب، کے پی کے اور سندھ سے پی ٹی آئی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ چنانچہ اپوزیشن اتحاد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا چاہتا ہے تاکہ حکومت ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو۔
