ایاز امیر نے اپنے قاتل بیٹے کو کمبخت نشئی قرار دے دیا

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار ایاز امیر نے اپنی اہلیہ کو قتل کرنے والے بیٹے شاہنواز کو ایک کمبخت نشئی قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وقوعہ کی صبح اس نے مجھے فون کر کے کہا کہ مجھے ٹرمینیٹر مارنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا بکواس کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ انہوں نے فولادی کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اس پر میں نے اس سے کہا کہ اپنی ماں سے بات کراؤ یعنی وقوعے کے وقت اسکی ذہنی حالت یہ تھی۔
پولیس کی حراست سے رہائی پانے کے بعد ایاز امیر نے اپنے بیٹے شاہنواز کے ہاتھوں اپنی بہو سارہ انعام کے قتل بارے ایک تفصیلی تحریر لکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے پہلی اطلاع پر تو یقین ہی نہیں آیا لیکن جب سارہ کی موت کا پتا چلا تو جیسے ہر جانب اندھیرا چھا گیا ہو۔ الفاظ نا کافی ہیں اور باتیں فضول ہیں۔ میں سارہ سے ایک دو بار ہی ملا تھا لیکن وہ ایک ذہین، خوبصورت اور معصوم لڑکی تھی۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے کمبخت بیٹے کو سارہ کے سامنے کہا تھا کہ تم اس کے قابل نہیں لیکن قابل ہونے کی کوشش کرو لیکن اب سوچتا ہوں کہ مجھے کچھ اور بھی کہنا چاہیے تھا۔ ذہن میں خیال اٹھتے ہیں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو شاید یہ نہ ہوتا اور فلاں چیز ہو جاتی تو شاید یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ سینئر صحافی لکھتے ہیں کہ ایسے اندوہناک واقعے کے بعد انسان اپنے بارے میں سوچنے لگتا ہے کہ مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوئی۔ میرا ایسا کون سا کرنا تھا جسکا اثر میری اولاد پر پڑا۔ میری اپنی بھی غلطیاں ہوں گی اور تربیت کی کمی بھی ہوگی لیکن میں نے کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ ایک تو معصوم جان کا ضیاع ہوا یے اور دوسرا اس کے خاندان کو ناقابل تلافی صدمہ سہنا پڑا ہے۔ اس معصوم جان نے کیا قصور کیا تھا، اس کے ماں باپ نے کیا جرم تھا کیا تھا کہ انہیں یہ ہولناک دن دیکھنا پڑا؟
ایاز امیر کے مطابق ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان کو اکٹھا نہ رکھ پائے۔ اگر خاندان ٹوٹ جائے تو بچوں پر برا اثر پڑتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر ٹوٹے ہوۓ خاندان کے ساتھ ایسے واقعات نہیں ہوتے۔ ایسے میں انسان صرف اپنی قسمت کو ہی رو سکتا ہے۔ میرا صدمہ تو الفاظ کی حد تک ہے لیکن اصل نقصان تو سارہ اور اسکے خاندان کا ہوا۔ اسکے والدین جس کرب سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہو سکتا۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ میں ایک بات وضاحت کیلئے کہہ دوں کہ اگر کسی اور طرح کا واقعہ ہوتا، کوئی لڑائی ہوئی ہوتی، فائرنگ کا کیس ہوتا، کچھ زخمی ہوئے ہوتے کچھ گرے پڑے ہوتے تو میرا ردعمل یقینا مختلف ہوتا۔ لیکن یہاں تو دماغ شل ہو گیا۔ مجھے جیسے ہی واقعے کا پتہ چلا تو میں نے ہدایت کی کہ شاہنواز کو بھاگنے نہیں دینا۔ اب جب کچھ دن بیت چکے ہیں تو میرا دل سارہ کیلئے رو رہا ہے، کوئی تدبیر ہو کہ وہ واپس آ جائے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ وہ دوسرے جہاں جا چکی ہے۔ میری دعا ہے کہ جو خوشیاں اسے یہاں نصیب نہ ہوئیں، پروردگار اسے وہاں نصیب ہوں۔
ایاز امیر نے کہا کہ جب مجھے شاہ نواز اور سارہ ملے تھے تو میں نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ تم اس کے قابل نہیں۔ میں نے شاہنواز کو تاکید کی کہ اپنی عادتیں بدلو اور سارہ سے کہا کہ اسے کبھی پیسے نہیں بھیجنا، ویسے میری ذاتی عادات بھی کبھی مثالی نہیں رہیں۔ میری کئی شادیاں ہوئیں اور ٹوٹیں۔ جیسے کہ کہہ چکا ہوں ایسی باتوں کا اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ میری بیٹے سے زیادہ ملاقات نہیں ہوتی تھی، وہ اپنی دنیا میں رہتا تھا لیکن جب بات کرنے کا موقع ملتا تو میں اسے کہتا کہ زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اسے برباد نہ کرو۔ زندگی میں بہت کچھ ہے ، خوشیوں کو سمیٹنے کی کوشش کرو۔ ایک بات البتہ واضح ہے کہ ذلیل اور خطرناک نشوں کے سامنے انسان بے بس ہو جا تا ہے۔
انسان ان نشوں کا غلام بن جاتا ہے۔ اور نشہ بھی محض شراب کا نہیں بلکہ چرس کا بھی۔ اسکے علاوہ نیند کی گولیوں کا استعمال بھی کم نہیں تھا۔ سگریٹ بھی مسلسل پیئے جانا تھا۔ ہاں یہ سوال ضرور اٹھ سکتا ہے کہ اگر نشہ بری چیز ہے تو وہ نشے کی نوبت تک پہنچا کیسے؟ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اس میں تمہارا کتنا ہاتھ تھا؟ میں اس کا کیا جواب دے سکتا ہوں۔ اولاد غلط راستے پر چل نکلے تو بہت سے محرکات ہوتے ہیں۔ میں محرکات بارے صفحات کالے کرتا رہوں تو اس سے کیا سارہ کے ماں باپ کی تشفی ہو سکے گی؟ وہ معصوم جان تو گئی۔ اس کے والد زندہ رہتے ہوۓ مر گئے۔ لیکن ایک سوال دل میں اٹھتا ہے۔ پہلی بار جب میں سارہ سے ملا تھا تو میں نے پوچھا کہ تم اس لڑکے کو جانتی نہیں تھی اس کی عادات سے بھی واقف نہیں تھی لیکن شادی فوری کر لی۔ اس پر سارہ نے کہا کہ میں سب کچھ جانتی ہوں اور سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا۔ ایسے جواب کے بعد میں کیا کرتا۔ ویسے بھینیا تو یہ سب پہلی بار ہورہا ہوتا۔
شاہنواز کی دو شادیاں پہلے ہو چکی تھیں جو فوری ختم بھہ ہو گئیں۔ اس کی پہلی شادی تو آٹھ دن بھی نہ چلی۔ آٹھویں روز میری پہلی بہو نے مجھے فون کر کے کہا کہ انکل میں اس شخص کیساتھ نہیں رہ سکتی۔ وہ لڑکی بھی کافی خوبصورت، ذہین اور سمجھ دار تھی۔ میری دوسری بہو بھی بہت پڑھی لکھی اور سمجھ دار خاتون تھی۔ شاہنواز کی سارہ انعام سے یہ تیسری شادی تھی۔ ویسے تو اسلام آباد پھیلا ہوا شہر ہے لیکن جسے عرف عام میں ایلیٹ طبقہ کہا جاتا ہے اس کی دنیا نسبتا چھوٹی اور محدود ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی جانکاری رکھتے ہیں۔اسلام آباد کا جو ایک خاص طبقہ ہے اس میں لوگ شاہنواز کو جانتے تھے۔ اس کی عادات سے واقفیت رکھتے تھے۔ اسکا چکوال آنا ہوتا تو ایسی ہی حرکات کیا کرتا تھا۔ لہٰذا میں حیران ہوتا تھا کہ اس کو شادی کے لیے لڑکیاں کیسے مل جاتی ہیں۔
ایاز امیر کے بقول شاہنواز کرتا تو کچھ تھا نہیں۔ ویلا انسان تھا جسے میں پیسے بھیجتا تھا۔ آج کے زمانے میں ویلے انسان کیا کرتے ہیں؟ ساری ساری رات انٹرنیٹ کی دنیا میں گھومتے رہتے ہیں۔طرح طرح کی ویب سائٹس، طرح طرح کی آن لائن گفتگو۔ یہ بھی ایک علیحدہ کائنات بن چکی ہے، اس کی خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ہیں۔ پھر منشیات کی دنیا میں ایک اور دنیا آباد ہے۔ ساری رات آپ نیٹ پر بیٹھے ہوں اور نشہ بھی جاری ہو۔ ہھر ٹوٹا ہوا خاندان ہو جس نے بچوں کی اچھی تربیت نہ کی ہوگی، ایسے میں بے راہ روی کی داستان ہی جنم لے گی۔
وقوعہ کی صبح جب شاہنواز نے مجھے فون کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ٹرمینیٹر (Terminator) مارنے آئے ہیں۔ میں نے کہا کیا بکواس کر رہے ہو؟ اس نے کہا، انہوں نے فولادی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ ماں سے بات کراؤ۔ یہ اسکی ذہنی حالت تھی ۔ بہرحال اللہ ہی رحم کرے۔ سارہ کا سوچتا ہوں تو نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے والد کا خیال آتا ہے تو دل پکڑ لیتا ہوں۔ میرا ارادہ تھا کہ شاہنواز کو نہیں دیکھوں گا، اس کی کوئی امداد نہیں کروں گا کیونکہ وہ کسی امداد کا مستحق نہیں۔ لیکن یہ اسلام آباد پولیس کی مہربانی کہ اس نے مجھے بھی اسی تھانے میں بند کر دیا جہاں پر شاہنواز ریمانڈ کاٹ رہا تھا لامحالہ لوگ مجھے ملنے آتے تو کچھ کھانا اس کی طرف بھی پہنچا دیتے، بہرحال اپنے وقت پر مقدمہ چلے گا اور میری دعا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
