سائفر اچانک غائب ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

امریکی سائفر کے شورو غل کے بعد اچانک سے وزیراعظم ہائوس کے ریکارڈ سے غائب ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ آیا سائفر موجود بھی تھا یا صرف پراپیگنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس حالے سے آج کل سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے، سائفر کے حق اور مخالفت میں صارفین کھل کر رائے کا اظہار کر رہے ہیں، وفاقی کابینہ نے ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے جو سابق وزیراعظم عمران خان، ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور سابق سینئر وزرا کے خلاف قانونی کارروائی کا تعین کرے گی۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے اور لوگ اس حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں، پاکستان ک ے وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے معمول کے ’’ڈپلومیٹک سائفر‘‘ کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے پاکستان کے قومی مفاد کو نقصان پہنچے گا توڑ مروڑ کر اپنے سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا۔
کچھ صارفین سوشل میڈیا پر یہ بھی سوال اُٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈپلومیٹک سائفر وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب تھا تو وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بحث کس دستاویز پر کروائی؟ فخر الرحمان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ ڈپلومیٹک سائفر وزیراعظم ہاؤس کے ریکارڈ سے غائب ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا تھا اور اس پر ڈپلومیٹک سائفر پر بحث ہوئی تھی، پی ٹی آئی کے حامی شاہ زیب ورک نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ لیک ہونے والی مبینہ آڈیوز سے دو باتوں کی تصدیق ہوتی ہے کہ سائفر اصلی ہے اور وزیراعظم کو ہٹانے کا خطرہ موجود تھا اور عمران خان نے ڈپلومیٹک اور سیکرٹ ایکٹ کو مقدم رکھا۔
وزیراعظم ہاؤس سے ڈپلومیٹک سائفر غائب ہونے کی خبریں نشر ہونے کے بعد حکومت نے وضاحت جاری کی کہ سائفر کی وہ کاپی جو وزیراعظم ہاؤس میں اعظم خان نے موصول کی تھی وہ غائب ہوئی ہے، اصل سائفر دفتر خارجہ میں موجود ہے۔
واضح رہے اعظم خان سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری تھے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے ایک طنزیہ ٹویٹ میں لکھا شکر ہے صرف سائفر غائب کیا ہے وزیراعظم ہاؤس کو آگ نہیں لگا دی۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈپلومیٹک سائفر کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کارروائی کرنا درست عمل نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے اس حوالے سے لکھا عمران خان کے خلاف سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ریاست کے خلاف بغاوت جیسے مقدمات قائم کرنا یا گرفتار کرنا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا۔

Back to top button