ایس پی اسلم چوہدری پر بنی فلم ’’چوہدری‘‘ تیار ہو گئی


کراچی میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو انکاونٹر اسپیشلسٹ کے طور پر معروف ایس ایس پی چوہدری اسلم کے نام سے ناواقف ہو، جرائم کے سمندر میں ایک ڈولفن کی طرح کودنے والے چودھری اسلم نے بے شمار پولیس مقابلوں، اور دہشت گرد مخالف آپریشنز کے دوران درجنوں جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کیا، اپنی اسی جدوجہد کے دوران وہ ایک بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔ اُن کی جرات مندی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ’’چوہدری ‘‘کے نام سے ایک فلم بنائی گئی ہے جسے آئندہ برس مئی میں ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
9 جنوری 2014 کو ایک خودکُش حملے میں ڈرائیور اور محافظ کے ساتھ ہلاک ہو جانے والے چوہدری اسلم نہ تو خاندان یا ذات کے لحاظ سے چوہدری تھے، نہ چوہدری کا خطاب اُن کے نام کا حصّہ تھا لیکن وہ چوہدری اسلم کے نام ہی سے جانے جاتے تھے لہذا فلم بھی چوہدری کے نام سے بنائی گئی ہے۔ بظاہر ریاستی اداروں اور سرکاری حکام کے لیے وہ ’ہیرو‘ تھے مگر متنازع ’پولیس مقابلوں‘ میں ہلاک ہونے والوں کے متاثرین اور لواحقین کی رائے میں وہ ’ولن‘ قرار پائے۔ بحر حال وہ ایک جرات مند پولیس آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔
بتایا گیا چوہدری کی شوٹنگ گزشتہ تین سال سے جاری تھی اور اب اس کا ایک ٹریلر جاری کرتے ہوئے اسے 27 مئی 2022 کو ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ فلم ’چوہدری‘ میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کا کردار طارق اسلم ادا کرتے دکھائی دیں گے جبکہ اس کی دیگر کاسٹ میں شمعون عباسی، یاسر حسین، ارباز خان، عدنان شاہ ٹیپو، زارا عابد اور اصفر مانی سمیت دیگر اداکار بھی شامل ہوں گے۔ چوہدری اسلم کے کردار سمیت ان کا ساتھ دینے والے بہادر پولیس افسران اور اہلکاروں کے کرداروں کو بھی دکھایا گیا، ٹریلر میں شمعون عباسی اور یاسر حسین کے کرداروں کو بھی دکھایا گیا ہے۔ فلم کی کہانی صرف چوہدری اسلم کے سندھ پولیس میں شمولیت سے ہوتی ہے، جس کا اختتام ان کی شہادت تک ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، ’’چوہدری‘‘ کی ہدایات عظیم سجاد نے دی ہے جبکہ کہانی ذیشان جنید نے لکھی ہے اور اسے نیہا لاج نے پروڈیوس کیا ہے، فلم کو ’’لاج پروڈکشن‘‘ کے بینر تلے آئندہ برس مئی میں ریلیز کیا جائیگا۔
چوہدری اسلم نے سندھ پولیس میں 30 سال تک خدمات انجام دی تھیں، 1984 میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی حیثیت سے پولیس فورس کا حصہ بننے والے چوہدری کو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں بھرپور عزائم کی کئی بار قیمت چکانا پڑی، 1998 میں انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور اپنے کام میں پیشہ ورانہ مہارت کے باعث 2005 انہیں سپرنٹنڈنٹ کا منصب سونپا گیا تھا۔ 2006 میں لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے بدنام زمانہ ڈکیت مشتاق بروہی کے قتل کے الزام میں انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا، سولہ ماہ تک جیل میں بند رہنے کے بعد دسمبر 2007 میں سندھ ہائی کورٹ نے چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں کو ضمانت پر بری کر دیا۔ایس پی انوسٹی گیشن شرقی 2 کی حیثیت سے چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں نے لیاری سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن ڈکیت کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا۔ ستمبر 2011 میں وہ ایک بار پھر اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنے جب ڈیفنس سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں وہ بال بال بچے جبکہ اپریل 2012 میں لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے علاقے میں کیے جانے والے محاصرے میں بھی ان کا نام میڈیا میں زیر گردش رہا۔ اپنے پروفیشنل کیریئر میں متعدد مشکلات، کیسز اور تنازعات کا سامنا کرنے والے افسر کو 9 جنوری 2014 میں ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

Back to top button