کیا نواز شریف نے واپسی کا اعلان ڈیل ہونے کے بعد کیا ہے؟


ایک ایسے وقت میں جب افواہیں زوروں پر ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا عمران خان سے مکمل مایوس ہوکر لیگی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے میں آگئے ہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جلد وطن واپسی کا عندیہ دے کر سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے پاکستان واپسی کے حوالے سے اعلان کسی دھماکے سے کم نہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے معاملات تقریبا طے پا چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 23 دسمبر کو لندن سے اپنے خطاب میں نواز شریف نے قدرے دھیما لہجہ اپناتے ہوئے نہ تو ماضی کی طرح فوجی قیادت پر تنقید کی اور نہ ہی کسی ادارے کو براہ راست ٹارگٹ۔ تاہم انہوں نے اپنا پرانا بیانیہ دہرایا کہ ووٹ کی عزت پامال کرنا بند کیا جائے اور آئین کی پاسداری کی جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا بدلا ہوا لہجہ ان افواہوں کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتا اب اب ان کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہو چکا ہے عمران خان مکمل طور پر ناکام حکمران ثابت ہوئے ہیں لہٰذا پی ٹی آئی کو اقتدار سے فارغ کر کے ہی ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم یاد رہے کہ چونکہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں اور علاج کی غرض سے پنجاب حکومت اور لاہور ہائی کورٹ کی خصوصی عدالت کی اجازت سے لندن میں مقیم ہیں لہذا وطن واپس آتے ہی گرفتاری لازمی ہے۔ لیکن لندن میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کچھ عرصہ جیل میں گذارنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں ۔اس دوران ان کی بریت کی اپیل پر فیصلہ آنے یا اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں ن لیگ کے لئے اقتدار کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ خواجہ رفیق کی برسی کی تقریب سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے نواز شریف اپنی تقریر کے اختتام پر جلد وطن واپسی کا عندیہ دیا جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف نے موجودہ حکومت کے جلد خاتمے کا دعویٰ کیا۔سابق وزیراعظم نے حاضرین سے کہا کہ نئے پاکستان کے نام پر نالائقوں اور کھلنڈروں کا ٹولہ عوام پر مسلط کر دیاگیا جس نے نئے پاکستان کا نام لے کر پرانے پاکستان کا بھی بیڑا غرق کردیا، پاکستان میں غربت و تنہائی ہے اور ملک کی باہر رسوائی ہے۔ قائد ن لیگ نے کہاملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون چلاتو ووٹ کو عزت نہیں ملی، ووٹ کو عزت دو والی بات ہوتی تو حالات مختلف ہوتے، آئین و جمہوریت ملک سے بار بار غداری ہوتی رہی یہ وہ سوال ہیں جسے ہر پاکستانی کو یاد رکھناچاہئے، انہوں نے کہا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ آر ٹی ایس بند کرے اور آپ کو آپ کاحق نہ دے،یاد رکھیں آپ کی طاقت سے ووٹ کو عزت ملے گی اور عوام کو نظرئیے کےلئے کھڑا ہونا ہوگا بہت جلد پاکستان میں ملاقات ہوگی۔
نواز شریف کے خطاب سے قبل مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق سپیکر ایاز صادق نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اگلے ماہ نواز شریف کو لینے لندن جا رہے ہیں۔ میاں صاحب سے اپنے حالیہ دورہ لندن میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ وہ اس بارے ذیادہ تفصیل تو نہیں بتا سکتے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جلد کچھ ہونے والا ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ 20 جنوری کو دوبارہ لندن جائیں گے۔ پھر بولے ’لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا لے کر جاؤ گے؟ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ میں نواز شریف کو لینے جا رہانہوں۔ ایاز صادق نے کہا کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں اور میری مسکراہٹ آپ سب کو بتا سکتی ہے کہ حالات کیا ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ بعد ازاں مریم نواز نے بھی نواز شریف کی تصویر کے ساتھ ایک معنی خیز ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا ’میں نے سنا ہے آپ ایک کھلاڑی ہیں۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی، میں ہی کوچ ہوں۔‘
نواز شریف اور ایاز صادق کی طرف سے جلد واپسی کے عندیے دیئے جانے کے باجود سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کی فضا پوری طرح ہموار نہیں ہوئی اور کچھ اہم معاملات ہونا ابھی باقی ہیں۔ سنیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ نواز شریف کو انتخابات سے قبل واپس آنا ہی پڑے گا تاہم جب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوتی اور معاملات طے نہیں ہوتے، وہ پاکستان نہیں آئیں گے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اس وقت واپس آئیں گے جب موجود حکومت کے جانے کی بات طے ہو جائے گی۔ ’میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے جانے کی بات چیت چل رہی ہے لیکن ابھی یہ طے نہیں ہو پایا کہ اگلا وزیراعظم کون ہو گا اور اگلے الیکشن کب کروائے جائیں گے؟

Back to top button