ایران کے بعد لیبیا، پاکستان عالمی سفارت کاری کے نئے محاذ پر سرگرم

ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں میں فعال کردار ادا کرنے کے بعد اب پاکستان نے ایک اور اہم عالمی تنازع میں خاموش مگر مؤثر سفارتی پیش رفت کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد گزشتہ برس سے لیبیا کے مشرقی اور مغربی اقتدار کے مراکز کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ اس سفارتی کوشش کو امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جبکہ قطر اور ترکیہ بھی پاکستان کے کردار کے حامی ہیں۔ اگر یہ ثالثی کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف برسوں سے تقسیم لیبیا میں سیاسی استحکام کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان کا عالمی سفارتی وقار بھی نمایاں طور پر مضبوط ہوگا۔

مبسرین کے مطابق پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان خاموش ثالثی کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سفارتی عمل گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہوا تھا، تاہم اس کی تفصیلات اب سامنے آئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق لیبیا کے مشرقی اور مغربی اقتدار کے مراکز نے خود پاکستان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد اسلام آباد نے پس پردہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس پیش رفت کو امریکہ کی مکمل آگاہی حاصل ہے، جبکہ سعودی عرب بھی ان کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق قطر اور ترکیہ نے بھی پاکستان کو اس عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیبیا گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے سیاسی تقسیم، مسلح کشیدگی اور اقتدار کی کشمکش کا شکار ہے۔ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک مشرقی اور مغربی انتظامیہ میں تقسیم ہو گیا تھا اور متعدد بین الاقوامی کوششوں کے باوجود مستقل سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا۔ذرائع کے مطابق زیر غور منصوبے میں 36 ماہ پر مشتمل عبوری اقتدار کی شراکت داری کی تجویز شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک مشترکہ عبوری حکومت اور صدارتی کونسل قائم کی جائے گی تاکہ دونوں فریقوں کو قابل قبول سیاسی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مغربی حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ عبوری وزیراعظم رہیں گے، جبکہ مشرقی لیبیا کی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کی سربراہی سونپنے کی تجویز زیر غور ہے۔ منصوبے میں بجٹ، انتظامی اختیارات اور ریاستی اداروں کی تقسیم جیسے حساس معاملات پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد صرف معاہدہ کرانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اگر فریقین کسی حتمی سمجھوتے پر پہنچتے ہیں تو پاکستان اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں بھی فعال کردار ادا کرے گا۔

مبصرین کے بقول یہ سفارتی پیش رفت پاکستان کے اس بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے جس کے تحت اسلام آباد حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی اور عالمی تنازعات میں مصالحت کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا تھا، جس کے بعد لیبیا میں یہ نئی ذمہ داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم امتحان قرار دی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیبیا میں امریکہ، ترکیہ، مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم پاکستان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے دونوں متحارب دھڑوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ یہی غیر جانبدارانہ حیثیت پاکستان کو ایک قابل قبول ثالث کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف لیبیا میں سیاسی استحکام کی جانب اہم پیش رفت نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارتی ساکھ اور عالمی ثالث کے طور پر اس کے کردار کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔

Back to top button