خان صاحب، تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ جا چکی ہے


پچھلے 9 برس سے تحریک انصاف کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں حکمران جماعت کی ناکامی کے بعد آئندہ عام انتخابات میں بھی عمران خان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں اور کپتان کے سیاسی مخالفین یہ کہنے میں حق بجانب دکھائی دیتے ہیں کہ تبدیلی جا نہیں رہی بلکہ جا چکی ہے۔
خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی شکست پر زوردار تبصرہ کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ اگلے الیکشن میں تو شاید کوئی تحریک انصاف کا ٹکٹ لینا والا بھی نہیں ہو گا، جو لوگ پی ٹی آئی کا ٹکٹ لے بھی لیں گے انہیں ووٹ مانگنے کے لیے ہیلمٹ پہن کر عوام میں جانا ہو گا۔ لیکن اکثر سیاسی تجزیہ کار مریم کی جانب سے کیے گے اس سیاسی طنز کو حقیقت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کپتان حکومت کی بیڈ گورننس اور مہنگائی کے علاوہ منتخب رہنماؤں کا عوام سے رابطہ نہ ہونا اسکی شکست کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انکا کہنا یے کہ ضمنی انتخابات میں تواتر حکومتی امیدواروں کی ناکامی ثابت کرتی ہے کہ پی ٹی آئی تیزی سے عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تمام ضمنی انتخابات میں حکومتی جماعت کو 12 میں سے 11 نشستوں پر شکست کا سامنا رہا اور اب کے پی کے بلدیاتی الیکشن نے حکومت کی جانب سے مقبولیت کے دعووں کی کلی کھول کر رکھ دی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اس سب کے باوجود اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی ہٹانے سے انکاری ہیں اور حقیقت تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور یہ ہارنے والی جماعت پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ شکست سے سبق حاصل کرکے اصلاح کرتی ہے یا خود فریبی کی ریت میں سر چھپا کر خود کو بھی دھوکہ دیتی ہے اور اپنے وابستگان کو بھی۔ لیکن عمران خان کی شکست کے بعد کی ٹویٹ بتا رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح خود کو دھوکہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی شکست کوئی انہونی نہیں کیو کہ یہ نتائج نوشتہ دیوار تھے۔ اس شکست کی وجوہات بھی سارے جہاں کو معلوم ہیں۔ چوراہے میں کھڑے کسی بھکاری سے پوچھ دیکھیے وہ بھی اسبابِ زوالِ تحریک انصاف پر پورا مقالہ پڑھ کر سنا دے گا۔ لیکن اس شکست کی وجوہات بس ایک کپتان ہی نہ جانے ہے، عوام تو ساری جانے ہے۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کی دوسری باری ہے۔ وفاق میں بھی اسی کی حکومت ہے۔ وزرائے کرام بھی اس انتخابی عمل میں پوری قوت کے ساتھ بروئے کار آئے اور حتیٰ کہ جناب سپیکر بھی، لیکن اس سب کے باوجود انتخابی نتائج کسی ڈراؤنے خواب کی طرح آئے۔ یہ معمولی شکست نہ تھی۔ لازم تھا کہ اس کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا۔ صوبائی تنظیم کوئی جائزہ لیتی اور اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاتا۔
لیکن ہوا کیا؟ عمران خان نے خود ہی وجوہات کا تعین بھی فرما دیا اور حل بھی تجویز کر دیا۔ شکست کی شکست کی وجہ وجہ مناسب امیدواروں کا نہ ہونا طے پائی ہے اور حل یہ دیا گیا کہ آئندہ خان صاحب خود ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملات دیکھیں گے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے شکست کی وجہ اور اس کا حل دونوں ہی خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ شکست کی وجہ یہ نہیں کہ امیدواران مناسب نہیں تھے۔ بلدیاتی انتخابات میں اب پرویز خٹک اور علی امین گنڈا پور نے تو حصہ نہیں لینا تھا، مقامی قیادت ہی نے لینا تھا۔ اس مقامی قیادت کو صوبائی قیادت اور حکومت کی بھرپور تائید حاصل رہی۔
پشاور میئر کے امیدوار ہی کو دیکھ لیجیے۔ جن صاحب کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا انہیں گورنر کے پی کے کی آشیر باد حاصل تھی۔ وہ بہت بڑی مالدار شخصیت بھی تھے۔ دو مرتبہ وہ ابو ظہبی تحریک انصاف کے صدر اور یو اے ای تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر رہ چکے۔ اب اگر پارٹی نے پیسے کی بنیاد پر ٹکٹ دیے یا گورنر کے امیدوار کی وزیراعلیٰ کیمپ نے سپورٹ نہیں کی تو اس سے امیدوار کیسے نامناسب ہو گئے؟ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی میں نہ کوئی ڈسپلن ہے نہ ہی کوئی اصول۔ اے ٹی ایم ڈھونڈے گئے اور دھڑے بندیاں کارفرما رہیں۔ عالم یہ ہے کہ گورنر، سپیکر اور وفاقی اور صوبائی وزرا کے حلقوں میں بھی پارٹی ہار چکی ہے۔ صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اپنے ہی بھائی کی شکست پر پارٹی سے خفا ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اسی طرح اصلاح احوال کے لیے خان صاحب کی جانب سے جو ’میں خود ذاتی طور پر دیکھوں گا‘ والا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، یہ بھی اپنی اہمیت بالکل ویسے ہی کھو چکا ہے جیسے خان صاحب کے جانب سے نوٹس لینے کے دعوے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ آج دن تک کپتان کی جانب سے مہنگائی سے لے کر پیٹرول تک اور بجلی گیس سے لے کر سریے کی قیمتوں تک اور آٹے سے لے کر چینی تک جس جس چیز کا بھی نوٹس لیا گیا اور ’ذاتی طور پر‘ دیکھا گیا اس کا حشر نشر ہو گیا۔ لہذا عوام میں خان صاحب کا خود دیکھنے والا اعلان اب کسی وعدے کی بجائے ایک دھمکی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ لہذا اگر عمران خان نے حقیقت سے پردہ پوشی کرتے ہوئے خود کو فریب دینے اور عوام کو ماموں بنانے کی روش ترک نہ کی تو اس کا وہی نتیجہ نکلے گا جو کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں نکلا ہے۔

Back to top button