ایم کیو ایم کو ایک اور جھٹکا، فیصل سبزواری نے اپنا گروپ بنا لیا

ایم کیو ایم پاکستان کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل سبزواری نے اپنی پارٹی قیادت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنا گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق پچھلے کافی عرصے سے توڑ پھوڑ کا شکار متحدہ قومی موومنٹ میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اس وقت مزید تیز ہوگیا ہے جب ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے خالد مقبول صدیقی اور عامر خان کو چھوڑ کر وسیم اختر اور نسرین جلیل کے ساتھ مل کر اپ ا ایک الگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے فیصل سبزواری نے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم سے بے دخل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے پارٹی کے سینئر رہنما عامر خان کا پتہ کاٹ کر نہ صرف سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کیا تھا بلکہ عامر خان کو آپ ے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور بھی کردیا تھا۔ ایم کیو ایم کے انتہائی باخبر ذرائع نے 9 مارچ کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی کا حال بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دوران میٹنگ پیپلزپارٹی کے رہنما اور سینئر وزیر سید ناصر حسین شاہ نے فیصل سبزواری کے سینیٹ الیکشن میں 22 ووٹ لینے کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایم کیو ایم سے تعاون کا آغاز سبزواری کے بے حد اصرار اور درخواست پر 22 واں ووٹ دلوا کر کر دیا تھا بلکہ ہمارے لوگون نے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ترجیحی ووٹ بھی فیصل سبزواری کو دیے جس وجہ سے ان کی کامیابی ممکن ہو پائی۔
ذرائع کے مطابق اس انکشاف پر نہ صرف ملاقات میں شریک ایم کیو ایم رہنما ہکا بکا رہ گئے بلکہ اپ ا بھانڈا پھوٹنے پر فیصل سبزواری کا رنگ اٗڑ گیا اور وہ فوری طور پر کسی سے ملاقات کا بہانہ بنا کر اجلاس سے فرار ہوگئے۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم کی میڈیا ٹاک کے انتظار میں باہر موجود کئی رپورٹرزکے مطابق اجلاس کے دوران فیصل سبزواری جب ایم کیو ایم کے بہادر آباد آفس سے نکلے تو ان کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور وہ شدید بدحواسی کے عالم میں وسیم اختر کی جانب سے دلائی گئی پراڈو میں بیٹھ کر چلے گئے۔ پی پی پی وفد کے بہادر آباد سے جانے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے کئی رہنما پھٹ پڑے اور فیصل سبزواری کے رویے کو منافقانہ اور خودغرضانہ قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے بھی پیپلز پارٹی ایم کیو ایم سے نہیں بلکہ فیصل سبزواری سے خفیہ مذاکرات کررہی ہے جنہوں نے بعض شرائط منوانے کے عوض یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کے لئے رضامندی بھی ظاہر کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل سبزواری نے اب اپنا ایک علیحدہ گروپ تشکیل دے دیا ہے جس میں کہ سابق مئیر کراچی وسیم اختر اور نسرین جلیل شامل ہیں۔
ان حالات میں ڈاکٹر فاروق ستار کو فارغ کر کے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں بنائی جانے والی نئی ایم کیو ایم کا شیرازہ تیزی سے بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ مہاجر پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونی انتشار کے باعث خالد مقبول صدیقی کی قیادت پہلے ہی متنازعہ ہو چکی ہے اور ان کی اپنی جماعت پر گرفت کمزور تر ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں شدید اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ ئے جب سینیٹ کے لیے فیصل سبزواری، روف صدیقی، ظفر کمالی، خالدہ اطیب اور عبدالقادر خانزادہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے گئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان 5 امیدواروں کی حمایت میں ایم کیو ایم پاکستان کے صرف تین اراکین اسمبلی ان کے ساتھ الیکشن کمیشن پہنچے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پر ایم کیو ایم بری طرح گروپ بندیوں کا شکار ہوگئی تھے اور سینٹ کی سیٹ جیتنے کے لئے فیصل سبزواری کو پیپلزپارٹی کی مدد لینا پڑی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں 3 دھڑے بن چکے ہیں۔ پہلا دھڑا خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چل رہا ہے۔ دوسرے دھڑے کے سربراہ عامر خان ہیں جبکہ فیصل سبزواری نے تیسرا تشکیل دے دیا ہے۔ذرائع کہتے ہیں کہ سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر شروع ہونے والا تنازعہ فوری حل ہوتا نظر نہیں آتا اور کوئی بعید نہیں کہ بات اب ہاتھا پائی تک پہنچ جائے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم میں اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے خالد مقبول صدیقی عامر خان سے راستے جدا کر لیں اور ڈاکٹر فاروق ستار کو واپس لے آئیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ سے ہٹائے جانے کے بعد نہ تو پارٹی چھوڑی ہے اور نہ ہی اپنا کوئی علیحدہ گروپ بنایا ہے۔
