باجوہ کا ڈاکٹرائن اس کے ساتھ کیوں نہیں گیا؟

سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خاندان کے 12 ارب روپے سے زائد کے اثاثوں کی تفصیلات لیک کرنے کے الزام میں لاہور کے صحافی شاہد اسلم کی گرفتاری نے ثابت کیا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ شاہد اسلم کی گرفتاری نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ حق پاکستان میں صرف چند لوگوں کو ہی ہے کہ وہ آئین اور قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کریں اور پھر اس کا پرچار کریں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق آرمی چیف کے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات لیک کرنے کے الزام میں گرفتار صحافی شاہد اسلم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے ملزم کے  چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا اس بنیاد پر کی کہ ابھی تک ملزم نے تفتیشی افسر کو اپنے زیر استعمال موبائل اور لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ نہیں دیا۔ اس سے پہلے شاہد اسلم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ڈیٹا لیک کرنے کے الزام کو رد کیا ہے۔ ایف آئی اے بھی ابھی تک یہ الزام ثابت نہیں کر پائی اور نہ ہی یہ بتا پائی ہے کہ صحافی کو کس قانون کے تحت زیر حراست رکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر کا حوالہ دیتی ہیں جس میں سابق آرمی چیف دبئی میں پیدل سڑک کراس کرتے ہوئے ایک لال بتی پر کھڑے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ دبئی کی شاہراہ پر کھڑے جنرل باجوہ نے کبھی تصور نہیں کیا ہو گا کہ انہیں زندگی میں کبھی راجہ بازار یا چاندنی چوک کے چوراہے پر یوں سُرخ بتی کے سبز ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ گمنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘ کے مقولے پر عمل درآمد کرتے جنرل باجوہ نے کب سوچا ہو گا کہ یوں اُن کی ویڈیو زمانے میں نیک نامی کماتی پھرے گی۔ چھ برس تک مملکت پاکستان کے سیاہ و سفید پر حکمرانی کرنے والے جنرل باجوہ کا دوبئی میں سُرخ بتی کے احترام میں کھڑے ہونا یہ پیغام دے رہا تھا کہ پاکستان کے آئین کو توڑنا مشکل نہیں مگر بیرون ملک سگنل توڑنا بے حد مشکل ہے۔

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ جس ملک میں بار بار آئین توڑا جاتا رہا ہو وہاں یہ مناظر انتہائی دل خراش محسوس ہوتے ہیں۔ کشمیر سے لے کر حکومتوں کی تشکیل تک، نواز شریف اور آصف زرداری کے سیاسی مستقبل کو گول کرنے سے لے کر پراجیکٹ عمران تک، معاشی اور خارجہ پالیسی اور عدالتی و میڈیائی پالیسیاں ترتیب دینے والے ففتھ جنریشن وار فیئر کے خالق جنرل باجوہ اب متحدہ عرب امارات کی سڑکوں پر قانون اور آئین کی عملداری کے مظاہرے کر رہے ہیں اور دوسری طرف مملکت پاکستان میں اُن کے بنائے گئے چھوٹے چھوٹے کپتانی دیوتا سُرخ لکیر مٹانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ بہرحال اس سب کے باوجود یہ حق پاکستان میں چند لوگوں کو ہی ہے کہ وہ آئین اور قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کریں اور پھر اس کا پرچار کریں۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ علی وزیر اور جنرل باجوہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک کرنے کے الزام میں گرفتار صحافی شاہد اسلم کے پاس یہ اختیار کہاں کہ وہ ان مقدس کرداروں کی طرف اُنگلی اُٹھائیں۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ عمران خان کی زیر قیادت ہائبرڈ رجیم کی تیاری میں استعمال ہونے والی طاقت اور تشکیل میں لگائے جانے والے تمام جزئیات کا اعتراف منظر عام پر آ چکا مگر بے اختیار سیاسی قوتیں اعتراف کرنے والوں کا احتساب کو تیار نہیں۔ پاکستانی عدالتوں کی ملی بھگت سے سیاسی انجینیئرنگ کے منصوبے منظرعام پر آ چکے ہیں مگر جس دیدہ دلیری سے ’نظام‘ بنانے کا اعتراف کیا گیا، اُسے محض انکشاف سے زیادہ کی حیثیت نہیں دی گئی۔کبھی کسی معاشرے میں یہ سُنا ہے کہ جج صاحبان کے فیصلے پسندیدہ جماعت کے وکلا سے تحریر کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہو اور پھر بھی کسی جانب سے کوئی سوال نہ ہو؟ سوال یہ ہے کہ انصاف کٹہرے میں کھڑا ہے مگر منصف کب کھڑا ہو گا؟

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں اسے ستم ظریفی کہیے یا کمال ڈھٹائی کہ سیاسی انجینیئرنگ کے الزامات وہ عمرانڈوز لگا رہے ہیں جو خود سیاسی انجینیئرنگ کی پیداوار ہیں اور جن کے خلاف سچائی کمیشن بننا چاہئے۔ بیتے پچھتر سال میں اشرافیہ اور عوام کے درمیان کھینچی جانے والی لکیر مزید گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ حق دو تحریک کے مولانا ہدایت اللہ کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ گوادر کے باسیوں کی آواز بنے مگر بے پناہ طاقت کے بے حد طاقتور کردار جب یہ دھمکی دیں کہ آئندہ احتجاج ہوا تو سب کو جیل اندر بند کر دیا جائے گا تو شخصی آزادیوں کا چنیدہ حق محض چند لوگوں کو حاصل ہو جاتا ہے۔ تبدیلی، آئین پر عملداری کے نعرے کے ساتھ ہو یا شخصی آمریت کے ساتھ محض نظر کا دھوکا ہے اور کچھ نہیں۔ انصاف کے اعلی ایوانوں میں قانون اندھا ہے اور انصاف بہرا جو دیوتاؤں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مشغول۔۔۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ دھیرے دھیرے چبوتروں پر کھڑے یہ بُت کب ٹوٹیں گے، کون توڑے گا اور ان کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا؟

عاصمہ کہتی ہیں کہ دیو مالائی کہانیوں کے غیر حقیقی کردار اس لیے تخلیق کئے جاتے تھے کہ اُنھیں کوئی چھو نہ سکے، مگر اس قدر حقیقی رنگ ان میں بھر دیے جاتے کہ کردار حقیقت کا روپ دھار لیتے۔ یہ کردار چھوئے تو نہیں جا سکتے مگر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بولتے نہیں، سُنتے نہیں مگر ان کی بولیاں حکم چلاتی ہیں، یہ مقدس ہیں اور انھیں طاقوں میں سجایا جاتا ہے، یہ محترم ہیں اور احترام ان کے لائق، ان کو ہاتھ لگانے والے ہاتھ توڑ دیے جاتے ہیں اور ان کے خلاف اُٹھنے والے قلم کاٹ دیے جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں سوال کی عادت نہ رہی ہو وہاں ایسے کردار دیوتا بن جاتے ہیں اور جہاں سوال ہوا وہاں ان کی اہمیت محض کرداروں سے زیادہ نہیں۔ انصاف اور احتساب چُنیدہ ہو تو طاقت دیوتا بن جاتی ہے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم جس معاشرے میں بستے ہیں یہاں چند کردار دیومالائی حیثیت رکھتے ہیں۔ محدود آزادی، محدود جمہوریت، محدود انصاف، محدود احتساب، محدود آزادی رائے، محدود انسانی حقوق تک رسائی، محدود نقل و حرکت اور محدود سانس لینے کی اجازت نے ان کرداروں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں چھوٹے چھوٹے کئی رانگ نمبر اکٹھے ہو گئے ہیں یا ایسے کردار تراش دیے گئے ہیں کہ جنھیں مقدس بنا دیا گیا۔ محدود آزادیوں کے اس معاشرے کو ہم جمہوری معاشرہ مانتے ہیں اور کم سے کم کو زیادہ سے زیادہ بنا کر اپنی اپنی مصلحتوں کے مزاروں پر چراغ جلاتے ہیں۔

Back to top button