بالاکوٹ: انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچ گئے؟

26 فروری 2019 کو انڈیا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد پاک فوج نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی اور بتایا کہ پاکستانی طیاروں کے فضا میں آنے کے بعد وہ جلدبازی میں اپنے بم گرا کر واپس چلے گئے۔
دوسری جانب انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی ایک فضائی کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔
اس حوالے سے ایئر مارشل (ریٹائرڈ) مسعود اختر کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے دنوں میں تو چوبیس گھنٹے کامبیٹ ایئر پیٹرولنگ ہوتی ہے یعنی میزائیلوں سے لیس لڑاکا طیارے مسلسل گشت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اِس دوران کوئی بھی طیارہ ملکی فضائی حدود سے پچاس کلومیٹر قریب آتا ہے تو اُس کا سامنا کرنے کےلیے پیٹرولنگ یا گشت کرنے والے طیارے تیار ہو جاتے ہیں اور غیر ملکی طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ امن کے دنوں میں اگر کوئی غیر ملکی طیارہ 10 کلومیٹر تک اندر آ جائے تو اِسے مارا نہیں جاتا بلکہ وارننگ دے کر واپس جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر کشیدگی ہے اور طیارے پیٹرولنگ کر رہے ہیں تو جوابی کارروائی میں کوئی وقت نہیں لگتا۔ اگر طیارہ زمین پر ہے اور پائلٹ کاک پِٹ میں موجود ہے تو طیارہ اگلے تین منٹ میں فضا میں ہوگا۔ انہون نے مزید بتایا کہ اگر پائلٹ ایئر ڈیفنس الرٹ ہٹ میں موجود ہے تو وہاں سے طیارے تک پہنچنے، کاک پِٹ میں بیٹھنے اور فضا میں بلند ہونے میں پانچ منٹ لگتے ہیں۔
بالاکوٹ کے واقعے میں پاکستانی طیارے پہلے ہی کامبیٹ ایئر پیٹرولنگ کر رہے تھے اِس لیے جیسے ہی انہیں پتہ چلا اور پاکستانی کامبیٹ کنٹرولرز نے انہیں سمت بتائی وہ وہاں پہنچ گئے۔
ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کا کہنا ہے کہ شاید دونوں جانب سے ہدایات دی گئیں تھیں کہ براہ راست جھڑپ نہیں کرنی۔ اِسی لیے پاکستانی طیاروں نے انہیں مار گرانے کی کوشش کرنے کے بجائے واپس جانے پر مجبور کیا جب کہ انڈین طیاروں نے بھی پاکستانی طیاروں کا سامنا نہیں کیا، جلدی سے پے لوڈ گرایا اور تیزی سے وہاں سے نکل گئے۔
واضح رہے کہ اگر انڈین طیاروں نے بالا کوٹ کے قریب بم گرائے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ تقریباً 40 کلومیٹر پاکستانی حدود کے اندر آئے تھے۔ لڑاکا طیارے 40 کلومیٹر کا فاصلہ چار سے پانچ منٹ میں طے کر لیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ایئر فورسز کے ردِعمل کا وقت بھی آٹھ منٹ یا اس سے زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ طیارے کے پروں کے نیچے جو بھی چیز لگی ہوتی ہے وہ پے لوڈ کہلاتی ہے۔ مثلاً میزائیل، بم اور راکٹ، یہ سب پے لوڈ میں شامل ہیں۔ طیارے کی رفتار بڑھانے کےلیے طیارے کو ہلکا کرنا پڑتا ہے تا کہ تیزی سے کسی جگہ سے نکلا جا سکے اور پیچھے سے آنے والے طیارے آپ کو مار نہ سکیں۔ اس واقعے میں انڈین طیاروں نے اِسی لیے پے لوڈ یعنی اپنا گولہ بارود گرا کر اپنا وزن کم کیا اور تیزی سے وہاں سے نکل گئے۔
انڈین ایئر فورس کی جانب سے پاکستانی حدود میں آ کر بم گرانے کے واقعے میں انڈیا کی جانب سے میراج طیارے استعمال کیے گئے جب کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کےلیے ایف سولہ اور جے ایف سترہ لڑاکا طیارے تھے۔
ایئر مارشل مسعود اختر کے مطابق ایف سولہ بلاک 52 میراج سے بہتر طیارہ ہے جب کہ جے ایف سترہ تھنڈر اور ایف سولہ کے بعض دوسرے ورژن میراج برابر کے ہیں۔ مسعود اختر کا کہنا ہے کہ انڈیا نے اپنے میراج طیاروں کو فرانس سے اپ گریڈ کروایا ہے لیکن اس کے باوجود ایف سولہ کو ہتھیاروں اور ریڈار کے لحاظ سے میراج پر فوقیت حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید تھرڈ جنریشن طیاروں میں نائن جی کی صلاحیت ہوتی ہے۔ نائن جی کا مطلب ہے کہ جب طیارہ موڑ کاٹتا ہے تو اس کا وزن نو گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ دونوں طیاروں کے پاس نائن جی صلاحیت ہے اور بی وی آر یعنی بیونڈ ویژول رینج یعنی نظر سے دور ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائیل بھی دونوں کے پاس ایک طرح کے ہیں۔
ایئر مارشل مسعود اختر کے مطابق اس واقعے میں دونوں طرف سے رولز آف انگیجمنٹ یہ تھے کہ اگر مارنا پڑ جائے تو مار دو لیکن کوشش یہ ہوگی کہ جھڑپ سے بچنا ہے تاکہ جنگ بڑھ نہ جائے۔ پاکستان کی جانب سے کوشش تھی کہ انڈین طیاروں کو روکا جائے اور دھمکایا جائے تاکہ وہ بھاگ جائیں۔ مسعود اختر کے مطابق انڈین پائلٹوں کو بھی کہا گیا ہوگا کہ آپ نے دشمن طیارے کو تلاش کرکے لڑنا نہیں ہے اور جلدی نکلنا ہے۔ انہوں نے بھی بس یہ دکھانا ہی تھا کہ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کی ہے۔ ایئر مارشل مسعود اختر کے بقول دونوں جانب سے جنگ کو بڑھانا مقصد نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب زمینی سرحد پر سپاہی لڑتے ہیں تو اُس سے ایک بڑی جنگ چھڑنے کا امکان کم ہوتا ہے لیکن اگر طیارہ کئی میل اندر گرا دیا جائے تو حالات کافی خراب ہو سکتے ہیں۔ عام حالات میں جنگ کے قواعد مختلف ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر کسی غیرملکی طیارے کو گرانا ہے تو اِس طرح کے اُس کا ملبہ اپنی سرحد کے 10 کلومیٹر اندر گرے۔ اِس کی وجہ بتاتے ہوئے مسعود اختر کا کہنا تھا اِس سے یہ ثابت ہوگا کہ دوسروں نے حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ اگر ملبہ پڑوسی ملک میں پایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے اندر گھس کر کارروائی کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button