باپ کی جانشین بیٹی، پہلی خاتون وزیراعلی پنجاب مریم نواز

پنجاب میں نون لیگ کو حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت ملنے کے بعد نواز شریف نے اپنی سیاسی جانشین بیٹی مریم نواز کو پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ کیا۔ مریم نواز کی ایک پہچان نواز شریف کی بیٹی ہونا تو ہے ہی تاہم مشکل وقت میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے اور اس کو ملک بھر میں متحرک کرنے کیلئے دیوانہ وار اور بے خوف کاوشوں پر انھیں نون لیگ کی آئرن لیڈی کا خطاب دیا جاتا ہے۔
پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلی بننے والی مریم نواز 28 اکتوبر 1973 کو پاکستانی سیاست دان اور پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف گھر پیدا ہوئیں ، ، مریم نے اپنی عملی سیاست کا آغاز2012 میں کیا اس سے قبل وہ خاندان کے فلاحی کاموں کی سرپرست رہیں ،وہ ایک عرصے تک شریف ٹرسٹ، شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات سر انجام دیتی رہیں، 2013 کے عام انتخابات کے دوران انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا ، انتخابات کے بعد انہیں وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا لیکن عمران خان کی جانب سے اقربا پروری کی بنیاد پر ان کی تقرری کو تنقید کا نشانہ بنانے اور ان کی ڈگری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد انہوں نے 2014 میں استعفیٰ دے دیا تھا۔
اس کے بعد مریم نے پی ٹی آئی کی جانب سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کا کنٹرول سنبھال لیا،مارچ 2017 میں انہیں برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن یعنی بی بی سی کی جانب سے دنیا کی 100 طاقتور ترین خواتین میں منتخب کیا گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد دسمبر 2017 میں انہیں نیویارک ٹائمز کی جانب سے دنیا بھر کی 11 طاقتور خواتین کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
مریم نوا ز2017 میں سیاسی طور پر اس وقت سرگرم ہوئیں جب ان کے والد کو پاناما پیپرز کیس اور متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے ذریعے منی لانڈرنگ کے سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا اور سزا سنائی گئی، انہوں نے حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخابات کے دوران اپنی والدہ کلثوم نواز کے لیے مہم چلائی۔ جون 2018 میں انہیں حلقہ NA-127 اور PP-173 سے 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دیا گیا تھا، تاہم جولائی میں انہیں قومی احتساب بیورو یعنہ نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ کیس میں مبینہ کرپشن کے الزام میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ ان کے والد نواز شریف کو 9 ماہ طویل ٹرائل میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، انہیں "اپنے والد کی جائیدادیں چھپانے میں اہم کردار” پائے جانے کے بعد جرم پر اکسانے کے جرم میں 7 سال کی سزا سنائی گئی، جس میں نیب کے ساتھ عدم تعاون پر مزید ایک سال قید کی سزا بھی شامل تھی ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کے نتیجے کے طور پر وہ 10 سال کے لیے سیاست سے نااہل ہوگئیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف مریم کی اپیل کے بعد انہیں اور ان کے والد کو 19 ستمبر 2018 کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں ایون فیلڈ کرپشن کیس میں ضمانت اور ان کی متعلقہ قید کی سزائیں معطل کر دیں،تاہم انہیں 8 اگست 2019 کو نیب لاہور کی جانب سے چودھری شوگر ملز کرپشن کیس کے سلسلے میں ایک اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا، انہیں کوٹ لکھپت جیل میں قید کیا گیا جہاں ان کے والد نواز شریف بھی قید تھے ،اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر 6 نومبر 2019 کو مریم نواز کی ضمانت کی درخواست منظور ہو گئی اور اس طرح ان کی رہائی کا پروانہ جاری کر دیا گیا ۔
19 نومبر کو ان کے والد نواز شریف ضمانت پر رہا ہونے کے صرف 20 دن بعد برطانیہ روانہ ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف کا جلاوطنی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اس کے باوجودانہوں نے 4سال کے لیے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کا انتخاب کیا اور اکتوبر 2023 میں پاکستان واپس آ گئے،مریم اپنے والد کی برطانیہ میں 4سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران مسلم لیگ (ن) کو فرنٹ فٹ پر لیڈ کرتی نظر آئیں ،2019 میں انہیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مقرر کیا گیا،اس کے بعد انہوں نے ملک بھر میں حکومت مخالف ریلیوں کی قیادت کی۔ 29 ستمبر 2022 کو شہباز شریف کے وزیر اعطم بننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی بدعنوانی کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ان کے رشتہ داروں کیخلاف بہت سے مقدمات کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا اور پھر وہ دوبارہ الیکشن لڑنے کی اہل ہو گئیں۔
3 جنوری 2023 کو مریم کو مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر کے طور پر مقرر کیا گیا، جس سے وہ مسلم لیگ ن کے سینئر ترین رہنماؤں میں سے ایک بن گئیں، اس فیصلے کی منظوری شہباز شریف نے دی جو پارٹی کے صدر بھی تھے، انہیں پارٹی کی "چیف آرگنائزر” بھی مقرر کیا گیا تھا جس میں پارٹی کو ہر سطح پر تنظیم نو کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ مریم نواز 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی امیدوار کے طور پر لاہور سے قومی اسمبلی کےحلقہ NA-119 سے پاکستان کی قومی اسمبلی کی نشست اور PP-159 لاہور- سے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے منتخب ہوئیں ، یہ مریم نواز کا پہلا باقائدہ الیکشن تھا ،انتخابات کے بعد مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) نے صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیااور اس کام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلم لیگ (ن)نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اتحاد بھی کر رکھا ہے، اس طرح مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آئیں۔
اب دیکھنا ہے کہ اپنے والد نواز شریف کی جانشین بیٹی مریم نواز اپنے باپ کی میراث کو بچانے اور دوبارہ سے پنجاب کو نون لیگ کا قلعہ بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔
