بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتکار پریشان

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نے صنعت کےلیے 1.95 روپے فی یونٹ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور گیس روکے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان فیصلوں کو مسترد کردیا۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگو نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بجائے ایڈہاک اور تکلیف دہ فیصلے کیے جارہے ہیں جو مقامی صنعت کےلیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے درمیان مذاکرات کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے جو ایک حیران کن اور قابل اعتراض ہے۔ وزارت توانائی کے ترجمان نے ٹیرف میں اضافے کی ضرورت کو ماضی میں آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے بدعنوانی پر مبنی معاہدوں کو قرار دیا۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر یہ مسئلہ تھا تو معاہدے کو ٹھیک کرنے کی ضرورت تھی جو ‘ادائی اور حاصل’ کے طریقہ کار کو نکالتے ہوئے تمام سول اور مجرمانہ علاج کو نافذ کرنے، او اینڈ ایم لاگت کو کم کرنے، واپسی کو لاگت کو تبدیل کرتے ہوئے ڈالر سے روپے میں کرنے سمیت رپورٹ میں دی گئی دیگر متعلقہ تجاویز پر عمل پیرا ہونا چاہیے تھا’۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے سلسلے میں انکوائری کا حکم دینے پر موجودہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے کہا کہ کم قیمت پر بجلی کی فروخت میں بیس ٹیرف میں کمی اور بجلی کی دستیابی کےلیے نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا 40 ارب روپے سالانہ مالی بوجھ اٹھانے کا اعلان حالیہ اعلان کردہ بیس ٹیرف اضافے کے مقابلے میں بہت معمولی ہے کیوں کہ بجلی کی کھپت پر ایک روپے کا اضافہ صارفین سے 100 ارب روپے سے زیادہ وصول کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اضافے اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے کسی بھی حصے سے جڑے ہوئے ہیں تو اس فنڈ میں اضافے کو منجمد کرنے کےلیے کافی حد تک قائل کیا جاسکتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے خود ہی سست معاشی ترقی کی پیش گوئی کی ہے، اس طرح کی جعل سازی کو جواز نہیں بنایا جاسکتا’۔
