بجلی کی قیمت 65روپے فی یونٹ، شہری چیخ اٹھے

پاکستان میں جہاں ایک طرف بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ وہیں دوسری طرف پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے اضافے کی درخواست کر دی ہے۔
خیال رہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت 65 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ کم سے کم فی یونٹ قیمت 22 روپے تک چارج کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب لیسکو نے اضافی قیمت بقایاجات کی صورت میں صارفین سے وصول کرنا شروع کر دی ہے، رواں ماہ صارفین کو12سے19روز کے اضافی بلز چارج کئے گئے ہیں،اضافی بلز 7روپے فی یونٹ کے حساب سےبھجوائےگئے ہیں،قیمتوں میں اضافے پرعملدرآمدیکم جولائی سے کیا گیاہے،رواں ماہ کےبلوں میں گزشتہ ماہ کا اضافی بل بھی شامل کیاگیا ہے۔
بلوں میں 100یونٹ تک نان پروٹیکٹڈصارفین سے22 روپے فی یونٹ ،101یونٹ سے 200یونٹ تک استعمال پرتقریباً32روپے فی یونٹ چارج کیا گیا۔201سے 300یونٹس تک استعمال پر قیمت تقریباً 37 روپے فی یونٹ ہو گئی،301سے 400 یونٹس تک تقریباً 43روپے فی یونٹ قیمت چارج ہونے لگی۔401سے 500یونٹ تک تقریباً 47 روپے فی یونٹ کےحساب سے بل چارج کئےگئے،501یونٹ سے 600یونٹ تک 49 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل آنے لگے۔601سے 700یونٹس تک تقریباً 52 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل چارج کئے گئے،700یونٹ سے زائداستعمال پرصارفین کو ٹیکسز شامل ہونےپر65 روپے فی یونٹ چارج ہوگا۔
دوسری جانب بجلی کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد متوسط اور غریبوں کے ساتھ ساتھ سفید پوش بھی بجلی کے بل ادا کر نے سے قاصر ہوگئےہیں۔200سے کم یونٹ استعما ل کرنے والے بھی ہزاروں روپے کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ایسے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے مز ید پانچ روپے فی یونٹ مہنگی کرنئ کے بعد صورتحال مزید خراب ہو جا ئے گی۔ بجلی کے بلوں میں تیزی سے اضافے نے شہریوں کی زندگی کے تمام امور درہم برہم کر کے رکھ دیئے. ہزاروں روپے کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں ذریعہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں لیکن بجلی کے بلوں جس تیزی کے ساتھ اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس سے شہریوں کا بجلی کے بل ادا کر نے کی سکت ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ شہریوں نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لئے گھروں کی اشیا سونا چاندی تک فروخت کر نا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان میں بجلی کی ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کے مطابق سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقسیم کار کمپنیاں 146 ارب روپے صارفین سے اضافی ریکور کرنا چاہتی ہیں۔نیپرا نے جولائی میں بجلی کے ٹیرف میں چار روپے 96 پیسے اضافہ کیا تھا جو کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قلیل مدتی قرضہ پروگرام کی منظوری دیتے وقت رکھی گئی ایک شرط تھی۔
نیپرا کے اعلامیے کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں نے چوتھی سہ ماہی کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ٹیرف میں اضافے کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔بیان کے مطابق سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمپنیوں نے 146 ارب روپے کی ریکوری کی درخواست کی ہے جس کا اثر 5.4 روپے فی یونٹ تک ہوگا۔
پاکستان میں جہاں ایک طرف بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ وہیں دوسری طرف پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے اضافے کی درخواست کر دی ہے۔
خیال رہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت 65 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ کم سے کم فی یونٹ قیمت 22 روپے تک چارج کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب لیسکو نے اضافی قیمت بقایاجات کی صورت میں صارفین سے وصول کرنا شروع کر دی ہے، رواں ماہ صارفین کو12سے19روز کے اضافی بلز چارج کئے گئے ہیں،اضافی بلز 7روپے فی یونٹ کے حساب سےبھجوائےگئے ہیں،قیمتوں میں اضافے پرعملدرآمدیکم جولائی سے کیا گیاہے،رواں ماہ کےبلوں میں گزشتہ ماہ کا اضافی بل بھی شامل کیاگیا ہے۔
بلوں میں 100یونٹ تک نان پروٹیکٹڈصارفین سے22 روپے فی یونٹ ،101یونٹ سے 200یونٹ تک استعمال پرتقریباً32روپے فی یونٹ چارج کیا گیا۔201سے 300یونٹس تک استعمال پر قیمت تقریباً 37 روپے فی یونٹ ہو گئی،301سے 400 یونٹس تک تقریباً 43روپے فی یونٹ قیمت چارج ہونے لگی۔401سے 500یونٹ تک تقریباً 47 روپے فی یونٹ کےحساب سے بل چارج کئےگئے،501یونٹ سے 600یونٹ تک 49 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل آنے لگے۔601سے 700یونٹس تک تقریباً 52 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل چارج کئے گئے،700یونٹ سے زائداستعمال پرصارفین کو ٹیکسز شامل ہونےپر65 روپے فی یونٹ چارج ہوگا۔
دوسری جانب بجلی کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد متوسط اور غریبوں کے ساتھ ساتھ سفید پوش بھی بجلی کے بل ادا کر نے سے قاصر ہوگئےہیں۔200سے کم یونٹ استعما ل کرنے والے بھی ہزاروں روپے کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ایسے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے مز ید پانچ روپے فی یونٹ مہنگی کرنئ کے بعد صورتحال مزید خراب ہو جا ئے گی۔ بجلی کے بلوں میں تیزی سے اضافے نے شہریوں کی زندگی کے تمام امور درہم برہم کر کے رکھ دیئے. ہزاروں روپے کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں ذریعہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں لیکن بجلی کے بلوں جس تیزی کے ساتھ اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس سے شہریوں کا بجلی کے بل ادا کر نے کی سکت ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ شہریوں نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لئے گھروں کی اشیا سونا چاندی تک فروخت کر نا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان میں بجلی کی ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا کے مطابق سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تقسیم کار کمپنیاں 146 ارب روپے صارفین سے اضافی ریکور کرنا چاہتی ہیں۔نیپرا نے جولائی میں بجلی کے ٹیرف میں چار روپے 96 پیسے اضافہ کیا تھا جو کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قلیل مدتی قرضہ پروگرام کی منظوری دیتے وقت رکھی گئی ایک شرط تھی۔
نیپرا کے اعلامیے کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں نے چوتھی سہ ماہی کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ٹیرف میں اضافے کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔بیان کے مطابق سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمپنیوں نے 146 ارب روپے کی ریکوری کی درخواست کی ہے جس کا اثر 5.4 روپے فی یونٹ تک ہوگا۔
