سائفر کا پھندا عمران اور قریشی سے 15روز کے فاصلے پر

سائفر کا پھندا عمران اور قریشی سے 15روز کے فاصلے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں تحقیقات اور مقدمے کا چالان جلد از جلد پیش کرنے کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی کاروائی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور کیس کے ٹرائل کا آغاز دس ستمبر کے آس پاس ہو سکتا ہے مقدمے کی کاروائی کھلی عدالت میں نہیں بلکہ یہ ان کیمرہ ٹرائل ہو گا . عمران خان نے تحقیقات کے دوران ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ سائفر کی کاپی اُن سے کھو گئی ہے جس کے بعد ان کے خلاف کیس کی بنیاد مزید مظبوط ہو گئی ہے. سنئیر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ان کے نائب شاہ محمود قریشی کیخلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت سائفر کیس کا ٹرائل آئندہ دو ہفتوں کے دوران شروع ہونے کا امکان ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے والے کوشش کر رہے ہیں کہ اگلے ہفتے تک حال ہی میں تشکیل دی گئی سپیشل کورٹ میں ٹرائل کے آغاز کیلئے چالان مکمل کر لیں۔ ایف آئی اے نے اس کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو گرفتار کر رکھا ہے۔ اگر عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ریلیف ملتا ہے اور ان کی درخواست ضمانت منظور ہو جاتی ہے اور سزا معطل ہوتی ہے تو اس صورت میں بھی وہ جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ انہیں سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق خصوصی عدالت آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں حالیہ ترمیم سے چند ماہ قبل قائم کی گئی تھی یہ سپیشل کورٹ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کیخلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرانے سے قبل بھی موجود تھی۔ رپورٹس کے مطابق، ملک بھر میں کہیں بھی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تو اس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کرتے ہیں۔ یہ تمام ٹرائل ان کیمرا ہوں گے۔ اگرچہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ اسپیشل کورٹ سیکریٹ ایکٹ میں تازہ ترین ترامیم کے بعد قائم کی گئی ہے لیکن اصل میں وزارت قانون اور انصاف نے 27؍ جون کو جج ذوالقرنین کو اے ٹی سی اول کا جج مقرر کیا تھا۔ وزارت کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین جولائی کو جج کو ہدایت کی تھی کہ وہ 8؍ دسمبر 2025ء تک کیلئے اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، جج ذوالقرنین ہی وہ جج ہوں گے جو ’’تا حکم ثانی‘‘ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج کردہ مقدمات کی سماعت کریں گے۔ جس وقت شاہ محمود قریشی کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا اور اسپیشل کورٹ نے (25؍ اگست تک کیلئے) انہیں چار روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا اس وقت عمران خان کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ وہ توشہ خانہ کیس میں اٹک جیل میں قید تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ سائفر کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جے آئی ٹی نے اٹک جیل میں ہی عمران خان سے پوچھ گچھ کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جے آئی ٹی سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی کہ سائفر کی کاپی اُن سے کھو گئی ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات اُس سائفر کے متعلق ہے جو عمران خان کے پاس سے گم ہو گئی تھی اور یہی وہ دستاویز تھی جو وہ لہرا کر غیر ملکی سازش کا ذکر کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ انہیں بطور وزیراعظم عہدے سے ہٹانے کا ثبوت ہے۔ عمران خان کو پانچ اگست کو گرفتار کرکے توشہ خانہ کیس میں قصور وار قرار دیکر اٹک جیل بھیج دیا گیا تھا۔ 27؍ مارچ 2022ء کو اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی جیب سے ایک کاغذ جو کہ مبینہ طور پر سائفر تھا اسے نکال کر اسلام آباد میں عوامی اجتماع کے دوران لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اُس عالمی سازش کا ثبوت ہے جس کے تحت ان کی حکومت کے خاتمے کی سازش کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سائفر کے حوالے سے سرکاری رازوں کے افشا کے الزام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ملک کے سیاسی ماحول کو بہت متاثر کرے گی ۔بات صرف یہی نہیں ہے بلکہ سائفر کے ایک اور معاملے نے بھی صورتِ حال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ عمران خان کا سائفر بیانیہ بھی اعترافِ جرم ہی ہے کیوں کہ خفیہ خط کا متن اور اس کا مفہوم یعنی معلومات پبلک کرنا بھی سیکرٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ یہ معاملہ اتنا حساس ہوتا ہے کہ اس کو پڑھنے والا حیران ہو جاتا ہے۔ یہ حساس معلومات اپنے عہدے تک ہی رکھیں۔ سائفر خفیہ پیغام ہوتا ہے جس کو خفیہ رکھنا ضروری ہے۔ عمران خان نے سائفر کو ’لیک‘ کر کے اس کے کوڈ کو خفیہ رکھنے کی سرکاری رازداری کو نقصان پہنچایا۔ وزارت خارجہ کے رولز آف بزنس کے تحت سائفر صرف وزارت خارجہ کے پاس رہتا ہے اور جو وزیراعظم، صدر مملکت، آرمی چیف کے پاس جاتا ہے وہ سائفر نہیں جاتا بلکہ جو سائفر ہوتا ہے وہ اپنے لفظوں میں لکھ کر اس کا مفہوم وزارت خارجہ بھجواتا ہے۔ سائفر کو وزیراعظم سمیت کوئی نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ یہ سائفر سکیورٹی کا قانون ہے۔ اب سائفر کیس کے حوالے سے جو اہم گرفتاریاں ہو رہی ہیں تو تمام حساس نوعیت کے معاملات عدالت کے روبرو پیش ہو جائیں گے۔ ایف آئی اے نے سائفر کے راز افشا کرنے پر ہی شاہ محمود قریشی کو حراست میں لیا ہے اور ان کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات 5 اور 9 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

Back to top button