بدتمیز یوتھیے بھی مریم نواز کی تعریفیں کرنے پر مجبور کیوں؟

سیاسی مخالفین کے خلاف ہرزہ سرائی، الزامات اور ان کے خلاف حقائق کے منافی پروپیگنڈہ تو ایک دیرینہ طرز سیاست بن چکا ہے تاہم اس ماحول میں مثبت سوچ، سیاسی رنجش کو نظرانداز کر کے مریم نواز نے ذاتی ضمانت دے کر پی ٹی آئی رہنما ملیکہ بخاری کا نام نوفلائی لسٹ سے نکلوا کر انسان دوستی کی ایسی مثال قائم کی ہے کہ وزیرِاعلی مریم نواز کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنانے والے عمرانڈوز نے بھی سوشل میڈیا پر مریم نواز کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں اور سوشل میڈیا پر’ شکریہ میڈم چیف منسٹر‘‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نوازنے اپنی مثبت سوچ اور ستائش کے صلے کے بغیر ماضی کی ایک سیاسی حریف جماعت کے ذاتی انتقام کا اسیری کی شکل میں نشانہ بننے کے باوجود اس جماعت کی خاتون رکن اسمبلی ملیکہ بخاری، جو ایک ذاتی نوعیت کی شدید مشکل اور پیچیدہ صورتحال کا شکار تھیں اس کے حل کیلئے ذاتی دلچسپی لے کر اپنا کردار ادا کیا۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری نے اپنی مختلف پوسٹس کے ذریعے یہ کہا تھا کہ ان کی 46 سالہ بہن آسٹریلیا میں اپنی زندگی کی بازی لڑ رہی ہیں اور وہ اس وقت وینٹیلیٹر پر ہیں۔ ڈاکٹروں نے ہمیں 24 گھنٹے دیے ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ انھیں وینٹیلیٹر پر ہی رکھا جائے یا انھیں مردہ قرار دیا جائے۔‘ ملیکہ بخاری نے کہا تھا کہ انھیں ایک سال سے غیر قانونی طور پر نو فلائی لسٹ پر رکھا ہوا ہے اور انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ انھیں ایک دفعہ بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے تا کہ وہ اپنی بہن کے پاس جا سکیں۔ اس پوسٹ کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جواب دیا کہ ’ملیکہ مجھے متعلقہ حکام سے بات کرنے دیں۔ میں امید کرتی ہوں آپ نے باضابطہ درخواست جمع کروائی ہوئی ہے،‘ پوسٹس کے اس تبادلے کے چند گھنٹوں بعد ملیکہ بخاری نے ایکس پر مریم نواز کی بروقت مداخلت کا شکریہ ادا کیا اور فہرست سے اپنے نام ہٹائے جانے کی تصدیق کی۔
پاکستان تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ ان کا نام نو فلائی لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس ضمن میں انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق مریم نواز کی ’انڈر ٹیکنگ‘ پر ملیکہ بخاری کو بیرون ملک سفر کے لیے ’ون ٹائم اجازت‘ دلوائی گئی ہے۔ملیکہ نے گذشتہ روز ایک پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی علیل بڑی بہن سے ملاقات کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں جس کا نوٹس خود مریم نواز نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لیا تھا۔
عظمٰی بخاری کے مطابق ’ملیکہ بخاری کے خلاف نو مئی کے معاملات پر بہت ساری ایف آئی آرز ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس حملے میں بھی ان کا نام شامل ہے۔ یہ ان مقدمات کے سلسلے میں کئی دن جیل بھی رہی ہیں۔ کیونکہ یہ کیس پینڈنگ ہے، اس لیے ان کا نام نو فلائی لسٹ میں بھی موجود تھا۔‘انھوں نے مزید کہا ’یہ سمجھ لیں کہ وزیر اعلیٰ صاحبہ نے انسانی بنیاوں پر انڈر ٹیکنگ یعنی ضمانت دی ہے کہ وہ واپس آ جائیں گی اور جن مقدمات میں وہ مطلوب ہیں، وہ قانون کے مطابق ان کا سامنا کریں گی۔ اس حوالے سے انھیں ایک دفعہ کی اجازت دلوائی گئی ہے۔‘عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ ان کی سیاسی ٹریننگ ہے اور ان کی پارٹی کا اصلی چہرہ ہے۔ ان کی قیادت ’ہر چیز کو سیاست میں نہیں لے کر آتی۔‘ان کے مطابق مسلم لیگ ن کا ’ایک نرم گوشہ بھی ہے اور وہ حکومت کرتے ہوئے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘
دوسری جانب وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق نو فلائی لسٹ میں ان افراد کا نام شامل ہوتا ہے جن کے بارے میں کسی عدالت نے کوئی حکم نامہ جاری کیا ہو یا پھر نیب، ایف آئی اے یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی طرف سے اس شخص کو لسٹ میں ڈالنے کی درخواست کی گئی ہو۔
خیال رہے کہ ملیکہ بخاری کو نو مئی کے واقعات کے بعد ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے انھوں نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا پرجہاں ایک طرف اکثریتی صارفین مریم نواز کی تعریف کرتے ہوئے اسے احسن اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عمرانڈو اسے صرف تشہیری مہم کہہ رہے ہیں۔
سلیم شہزاد جاوید نے مریم نواز کی مداخلت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’مریم نواز شریف کے اس ہمدردانہ قدم کے لیے واقعی تعریف کرتا ہوں۔ سیاست دشمنی نہیں ہوتی، یہ صرف اختلاف رائے کی بات ہوتی ہے۔‘
عزیرہ شاہ نے لکھا ’اچھا قدم ہے لیکن یہ لوگ اس کے مستحق نہیں ہیں۔ وہ کبھی بھی آپ کے لیے کوئی رحم، ہمدردی یا آپ کا احترام نہیں کریں گے۔‘
ایکس پر صارف آشر عزیم گل نے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’یہ ’اچھا کام‘ کر کے آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ لوگوں کو قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ حکام کی خواہش پر نو فلائی لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے۔’براہ کرم سمجھیں کہ قوموں کو قانون کے مطابق چلنا چاہیے نہ کہ موجودہ آقاؤں کی خواہشات پر۔‘’اس لیے ہمدرد ہونے کے بارے میں اشتہارات دینا بند کریں۔‘
خیال رہے کہ نو فلائی لسٹ کو سٹاپ لسٹ بھی کہا جاتا ہے۔نو فلائی لسٹ عدالتی فیصلے کی روشنی میں تیار کی جاتی ہے جس میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کوئی بھی شخص کسی مقدمے میں مطلوب ہو اور اس کے بیرون ملک جانے کا خدشہ ہو تو اس کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کی درخواست وزارت داخلہ سے کر سکتے ہیں جس کے بعد سیکریٹری داخلہ وہ نام لسٹ میں داخل یا نکالنے کے مجاز ہیں۔ نو فلائی لسٹ پر عملدرآمد پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں کسی کا بھی نام ہو تو وہ صرف 30 روز تک رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس مدت کے گزرنے کے باوجود بھی ان اداروں کو مطلوب ہو تو دوبارہ سٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑتا ہے۔

Back to top button