پیسوں کے پجاری کپتان کی سیینٹ کی ٹکٹوں میں بھی دو نمبری؟

توشہ خانہ لوٹنے والے، پیسوں کے پجاری عمران خان سیینٹ کی ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی دو نمبری کرنے سے باز نہ آۓ . ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنے ارب پتی حواریوں کو تو نواز دیا مگر جیل میں قید عمرانڈو رہنماؤں کو دھوکہ دیتے ہوۓ سینٹ کے ایسے ٹکٹ جاری کر دئیے جن پر تحریک انصاف کا جیتنا ممکن ہی نہیں . دوسری جانب ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی پارٹی میں اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں. اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے جیل میں قید خواتین رہنماؤں یاسمین راشد اور صنم جاوید کیساتھ بہت باریک واردات ڈالی ھے. 2 اپریل کو سینٹ الیکشن ہو رھے ہیں شیڈول آ چکا ھے، تمام پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں، پنجاب میں ٹوٹل 12 نشستوں پر ووٹنگ ہو گی، جس میں ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی 2 مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں، پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کے پاس 246 نشستیں موجود ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے پاس 102 نشستیں ہیں، سینٹ کی ایک سیٹ کے لئے 51 ووٹ درکار ہوتے ہیں اس حساب سے نون لیگ تقریبا 7 جنرل سیٹیں نکال لے گی جبکہ تحریک انصاف کے حصے 2 سیٹیں آئیں گی. اگر تحریک انصاف کے 3 سے 4 ارکان دائیں بائیں ہو گئے تو پھر اسے ایک ہی سیٹ ملے گی۔۔ اب پی ٹی آئی نے ترجیحی بنیادوں پر جو 2 سیٹیں رکھی ہیں ان میں پہلے نمبر پر عمران خان کے وکیل حامد خان ہیں اور دوسرے نمبر پر کپتان کے ایک اے ٹی ایم زلفی بخاری ہیں ، باقی سب ریلو کٹے اور خانہ پوری کے کئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گے ہیں، جیل میں قید یاسمین راشد کو ٹیکنوکریٹ والی سیٹ پر کھڑا کیا گیا ھے جبکہ اس سیٹ کے لئے ایک رکن کو 123 ووٹ درکار ہوتے ہیں اور اتنے تو پی ٹی آئی کے ٹوٹل ووٹ ہی نہیں ہیں، ادوسری طرف خواتین کی مخصوص نشست پر پبند سلاسل مشہور ٹک ٹاکر صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گے ہیں، اس مخصوص نشست کے لئے بھی ایک امیدوار کو جیتنے کے لئے 123 ووٹ درکار ہوتے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے پاس موجود نہیں ہیں . کپتان کی دو نمبری یہیں پر ختم نہیں ہوتی اس ضمن میں سینئر صحافی رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ ارب پتی زلفی بخاری اپنے خلاف کئی مقدمات ہونے کا باوجود نہ تو جیل میں ہیں نہ پاکستان میں ہیں وہ لندن مَیں مزے لوٹ رہے ہیں. کپتان پہلے بھی زلفی بخاری کے پاؤنڈز سے مستفید ہوتے رہے اب بھی انہیں خرچے پانی کے لئے زلفی کے ڈالرز اور پاؤنڈز کی ضرورت ہے اسی لئے ان کو سینیٹ کا ایسا ٹکٹ جاری کیا گیا جس پر جیت یقینی ہے . ستم ظریفی دیکھیں کہ زلفی بخاری کا کورنگ امیدوار سآبق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بنایا گیا ہے جو نہ صرف کئی ماہ سے جیل میں قید ہیں بلکہ پارٹی سے ان کی وابستگی اور قربانیاں زلفی بخاری سے کہیں زیادہ ہیں . حامد خان ملک کی ارب پتی شخصیت بھی ہیں اور ارب پتیوں کے وکیل بھی ہیں. وہ عمران خان کو درجنوں مقدمات میں وکالت کی خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں اسی لئے ان کو بھی سینیٹ کا محفوظ ٹکٹ ملا ہے . جبکہ یاسمین راشد صنم جاوید اور میانوالی سے امجد نیازی جیسے رهنما جو عمران خان یا پارٹی کو اپنی سیاسی جدوجہد کے علاوہ بڑی رقم یا مہنگی پیشہ وارانہ خدمات نہیں فراہم نہیں کر سکتے ان کو نام نہاد ٹکٹ دے کر ٹرخا دیا گیا ہے یعنی سینیٹ میں سیٹ تو نہیں ملے گی ٹکٹ کی صورت میں ملی ہوئی خالی عزت کو ہی چاٹتے رہو . دوسری طرف اس بندربانٹ پر پارٹی میں اختلافات بھی سامنے آچکے ہیں تحریک انصاف کی خاتون رہنما طیبہ راجہ نے پارٹی کی جانب سے صنم جاوید کا نام سینیٹ میں امیدوار کیلئے نامزد ہونے پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ طیبہ راجہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ کسی ایک کو اونچا دکھانے کیلئے ضروری نہیں کہ باقی سب کی قربانیوں کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ صنم جاوید کی ضمانت بار بار انسداد دہشت گردی کی عدالت سے کیسے ہو جاتی ہے؟ صنم جاوید 8 بار گرفتار اس لیے ہوئی کیونکہ 7 بار انکی ضمانت ہوئی۔عالیہ حمزہ اورطیبہ راجہ کی ضمانت لاہور ہائیکورٹ سے 9 ماہ بعد 15 بار بینچ ٹوٹنے کے بعد ہوئی، تب بار بار اے ٹی سی سے کسی ایک کی ضمانت کیسے ہو جاتی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے ہم سب صرف عمران خان کی واپسی تک خاموش ہیں، تھوڑا صبر کریں سب بولیں گے.

Back to top button