براڈ شیٹ کا پاکستان کو 7 ارب روپے واپس کرنے کا امکان ختم


برطانوی عدالت کی جانب سے براڈشیٹ کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے ایک برطانوی بیرسٹر ظفر یوسی کاوے موسوی کے ایما پر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کر براڈ شیٹ کے ساتھ دوبارہ بیرون ملک چھپے اثاثے ڈھونڈنے کا معاہدہ بحال کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس دوران موساوی نے یہ آفر بھی کی تھی کے حکومت پاکستان کے ساتھ دوبارہ معاہدے کی صورت میں وہ برطانوی عدالت کی جانب سے نیب کو کیا جانے والا اربوں روپے کا جرمانہ پاکستان کو واپس لوٹا دے گا۔ تاہم براڈ شیٹ کیس کا فیصلہ آنے اور شہزاد اکبر کی جانب سے موساوی مخالف بیان بازی کے بعد اب یہ کوششیں دم توڑ گئی ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں سے براڈ شیٹ ایل ایل سی سی کا معاملہ پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ براڈ شیٹ کی جانب سے حکومت پاکستان کے احتسابی ادارے نیب سے ساڑھے سات ارب روپے کا بھاری ہرجانہ وصول کیے جانے کے بعد ادارے کے سربراہ کاوے موساوی کے مختلف انٹرویوز ہر روز ایک نیا پنڈورا باکس کھول رہے ہیں۔ تاہم لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضی علی شاہ کے مطابق اس سارے معاملے میں ایک اہم ترین کردار بیرسٹر ظفر علی کیو سی کا ہے لیکن اپنی ساکھ کو خراب ہوتا دیکھ کر موساوی کی طرح وہ بھی اب میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کے لئے تیار نہیں۔
سینئر صحافی مرتضی علی شاہ شاہ کا دعوی ہے کہ بیرسٹر ظفر کیو سی نے برطانیہ سے پاکستان آکر پرائم منسٹر ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات کی تاہم وہ براڈ شیٹ اور حکومت پاکستان میں نیا معاہدہ کروانے میں ناکام رہے۔ اس معاملے میں پڑنے سے ان کی بدنامی شروع ہوئی تو ظفر کیو سی نے خود کو اس معاملے سے الگ کرکے چپ کا روزہ رکھ لیا۔
مرتضیٰ علی شاہ کے اس انکشاف کے بعد یہ سوالات ذہن میں آتے ہیں کہ بیرسٹر سر ظفر علی کیو سی دراصل کون ہیں، کرتے کیا ہیں، انہیں وزیراعظم عمران خان تک رسائی کیسے حاصل ہوئی، ظفر علی کیو سی نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران براڈ شیٹ کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کے حوالے سے کس قسم کی پیشکش کی۔۔
مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق بیرسٹر ظفر علی کیوسی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کے کئی دورے کئے اس دوران انہوں نے اہم حکومتی وزراء اور دیگر بااثر شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ مرتضی علی شاہ نے بیرسٹر ظفر علی یوسی کے پروفائل کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ وہ کوئنز کے قونصل ہیں اسی لئے کیو سی ان کے نام کا حصہ ہے۔ ظفر علی برطانوی دارالحکومت لندن کے ایک جانے مانے وکیل ہیں۔ وہ کریمنل کیسز، مرڈر کیسز، ثالثی سے متعلق معاملات، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے کیسز کے ایکسپرٹ سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں بھی وہ پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جبکہ ایک وفاقی وزیر سمیت کئی پاکستانی شخصیات کی بھی وکالت کر چکے ہیں۔ مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق بیرسٹر ظفر علی کیو سی بطور ڈیفنس بیرسٹر بہترین اور مثالی ساکھ ہے اور انہیں برطانیہ میں پریکٹس کرتے ہوئے تقریبا تین عشرے ہوچلے ہیں۔
انکا بتانا ہے کہ بیرسٹر ظفرعلی کیوسی نے پاکستان میں اعلی حکومتی اور سرکاری عہدیداروں کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ بیرسٹر ظفر علی کیوسی نے پاکستان آنے سے پہلے براڈشیٹ کے سربراہ کاوے موساوی کے ساتھ ساتھ ملاقات میں یہ طے کیا تھا کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات کر کے ان کا 2003 میں ختم ہونے والا کانٹریکٹ دوبارہ سے دلوانے کی کوشش کریں گے۔ کاوے موساوی بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ان کی بیرسٹر ظفر علی کیو سی سے ڈیل ہوئی تھی کہ اگر کو براڈشیٹ کو کانٹریکٹ واپس دلوانے میں مدد کر سکتے ہیں تو ضرور حکومت پاکستان سے بات کریں۔
پاکستان پہنچنے کے بعد بیرسٹر ظفر علی کیوسی نے وزیراعظم عمران خان کو باور کروایا کہ آپ 2018 میں اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ پاکستان کی بیرون ممالک لوٹی گئی رقم کو واپس لے کر آئیں گے۔ اگر آپ واقعی اس وعدے کی تکمیل کے خواہش مند ہیں تو میں براڈ شیٹ کے ساتھ آپ کا دوبارہ رابطہ اور ڈیل کروا سکتا ہوں۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد پاکستان کی جانب سے براڈ شیٹ کو رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں ایک بھونچال آگیا جس کے نتیجے میں میں براڈشیٹ کے سربراہ قائم موساوی اور پاکستان کا دورہ کرنے والے بیرسٹر ظفر علی کیو سی کے کردار پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے۔ کاوے موساوی نے پاکستانی نیوز چینلز پر آکر کسی حد تک اپنے موقف کی وضاحت تو کردی لیکن بار بار موقف تبدیل کرنے کی وجہ سے سے وہ متنازع ہو گئے اور تحریک انصاف حکومت بھی اس معاملے پر بیک فٹ پر جانے پر مجبور ہوگئی۔ اس صورت حال کا بغور جائزہ لینے والے بیرسٹر ظفر علی کیوسی سمجھ گئے کہ اگر وہ مزید اس معاملے میں الجھے تو ان کا پروفیشنل کریئر ر داغدار ہو جائے گا۔مرتضی علی شاہ کے مطابق بیرسٹر ظفر علی کیو سی نے براڈشیٹ کے معاملے پر میڈیا سے مکمل دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان بھی کاوے مساوی کے بدلتے ہوئے موقف اور معاملہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نزر ہو جانے کے بعد اب براڈ شیٹ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے یا اس کی شفاف تحقیقات کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں براڈ شیٹ معاملے کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بہت سے تگڑے وفاقی وزراء کا خیال ہے کہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے وزیراعظم عمران خان کو براڈشیٹ کے معاملے اور نواز شریف کی جانب سے مبینہ طور پر پر ایک ارب ڈالر منی لانڈرنگ کئے جانے سے متعلق مس گائیڈ کیا جس کی وجہ سے حکومت کی سبکی ہوئی۔ اگرچہ اس کے بعد تحریک انصاف حکومت نے معاملے کی چھان بین کے لیے تین وزراء پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے تاہم نظر آ رہا ہے کہ کپتان حکومت بہت اب براڈ شیٹ کے معاملے میں ملوث ہوکر خود کو مزید گندا کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button