جنرل بلال اکبر کو سعودی سفیر لگانے کا اصل مقصد کیا ہے؟


لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر کی سعودی عرب میں بطور سفیر تعیناتی کو حکومت اور فوج کی جانب سے سعودی عرب اور پاکستان کے روایتی برادرانہ تعلقات بحال کرنے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید ال مالکی کا تعلق بھی سعودی نیوی سے ہے۔
اب حکومت پاکستان نے دسمبر 2020 میں ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کو سعودی عرب کے لیے نئے سفیر کی حیثیت سے نامزد کردیا ہے۔ لیفٹینینٹ جنرل (ر) بلال اکبر سفیر راجا علی اعجاز کی جگہ لیں گے جو رواں برس مئی میں اپنی سروس سے ریٹائر ہورہے ہیں۔ راجا علی اعجاز جنوری 2019 سے ریاض میں سفیر ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا کہ ریاض میں اسلام آباد کے سفیر کا عہدہ ماضی میں اکثر ریٹائرڈ عسکری افسران کے پاس رہا ہے جو اس حقیقت کا عکاس ہے کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات مضبوط دوطرفہ تعلقات کی بنیاد ہیں۔ تاہم کچھ وقت کے لیے یہ عہدہ فارن سروس سے تعلق رکھنے والے سفارتکاروں کے پاس بھی رہا ہے۔ ریاض میں پاکستانی مشن بلال اکبر کے حوالے کیے جانے سے پہلے بھی کئی غیر ملکوں میں ریٹائیرڈ عسکری شخصیات بطور سفیر ذمہ داریوں انجام دے رہی ہیں۔ ان ممالک میں برونائی، اردن، شام، سری لنکا، یوکرین، مالدیپ، نائیجیریا اور لیبیا شامل ہیں جہاں مسلح فورسز کے ریٹائرڈ افسران بطور سفیر متعین ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق سعودی شاہی خاندان پاکستانی سویلینز کی بجائے عسکری حکام کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ راحت محسوس کرتا ہے اسی لئے لیفٹینینٹ جنرل بلال اکبر کو سعودی عرب میں سفیر متعین کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقرری میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم دونوں کی رضامندی شامل ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں کے سفیروں کا پس منظر فوج سے ہے، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید ال مالکی کا تعلق سعودی نیوی سے ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سفرا کا تقرر دونوں ممالک کے مابین مضبوط تعلقات کا مظہر ہے، اب سفارتکاری کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی، فوجی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف پہلے ہی سال 2017 سے سعودی عرب میں خلیج کے اسلامی ممالک کی مشترکہ افواج کے سپہ سالار کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرز کی سفارش پر جنرل بلال اکبر کی بطور سفیر سعودی عرب جیسے اہم ملک میں تعیناتی ان دو طرفہ تعلقات کا کنٹرول لینے کی فوجی خواہش کو ظاہر کرتی ہے جو حال ہی میں خرابی کا شکار ہوئے تھے تاکہ انہیں مزید بگڑنے سے روکا جاسکے۔ واضح رہے کہ اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تاہم ترکی، ایران، قطر اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک نیا بلاک قائم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ناراض کر بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ اظہار ناراضی کے طور پر سعودی عرب نے پاکستان کو اسکے زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرض وقت سے پہلے ہی واپس مانگ لیا تھا جسے پاکستان نے چین کی مدد سے لوٹایا۔
تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ اس خرابی کی ساری ذمہ داری وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر عائد کی جاتی ہے جن کے ایک سعودی عرب مخالف غیر ضروری بیان نے پاکستان کے ایک عزیز ترین دوست کو ناراض کر دیا۔ یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے پچھلے برس حکومت کے ماوتھ پیس نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں مسلہ کشمیر پر بولتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں آج سعودی عرب کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے کٹ مرنے کے لیے تیار ہے، آج آپ سے تقاضا کر رہا ہے کہ آپ وہ کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی آنکھ مچولی اور بچ بچاؤ کی پالیسی نہ کھیلے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے۔ اگر یہ نہیں بلایا جاتا تو میں خود وزیر اعظم پاکستان سے کہوں گا کہ وہ ایسے ممالک کا اجلاس خود بلائیں جو کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔ چاہے سعودی عرب ہمارا ساتھ دے یا نہ دے، میں عمران خان صاحب سے کہوں گا کہ کشمیر پر اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ود اور ود آؤٹ۔
جب میزبان نے سوال پوچھا کہ پاکستان ’وِد اور ودآؤٹ` سعودی عرب کے اس کانفرنس میں شریک ہو گا تو شاہ محمود قریشی نے ایک توقف سے جواب دیا کہ ’ود اور ود آؤٹ‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور پاکستان سے انکی برخاستگی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ثابت ہو سکے یہ کہ یہ ان کا ذاتی بیان تھا اور حکومت پاکستان کے خیالات ایسے نہیں تھے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے وزیر اعظم کو مشورہ دیے جانے کے باوجود شاہ محمود قریشی کو برقرار رکھا گیا جس کے نتیجے میں اب پاک سعودی تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر جا چکے ہیں۔ اس دوران پاک سعودی تعلقات میں خلیج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت ، سعودی عرب کے مزید قریب ہو گیا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک سٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل بھی تشکیل دے دی۔
لہٰذا اس سنگین صورتحال میں لیفٹینٹ جنرل (ر) بلال اکبر کے لیے یہ نئی اسائنمنٹ انتہائی چیلنجنگ ہوگی۔ تاہم خوش قسمتی سے انہیں پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر دسمبر 2020 میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے تھے اور کی آخری تعیناتی پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے چیئرمین کی حیثیت سے تھی۔ان کا فوج میں ایک روشن کیریئر رہا ہے جہاں انہوں نے تھری اسٹار جنرل کے طور پر چیف آف جنرل اسٹاف اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی 10 کور کے کمانڈر کے فرائض انجام دیے، یہی نہیں بلکہ بہت سے لوگ اس وقت حیران رہ گئے تھے جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع شروع ہونے سے کئی ماہ قبل ستمبر 2019 میں بلال اکبر کو پی او ایف کا چیئرمین تعینات کردیا گیا تھا۔ بعض حلقوں کا کہنا یے کہ بلال اکبر اپنی سنیارٹی کی وجہ سے ایک زمانے میں آرمی چیف کی دوڑ میں بھی شامل تھے لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن سے یہ چانس ختم ہو گیا۔ تاہم عسکری محاذ پر اپنے جوہر دکھانے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ وہ سفارتی محاذ پر بھی اپنا کردار کامیابی کے ساتھ ادا کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button