ملکی سیاسی صورتحال ، پی ڈیم ایم کا اہم اجلاس کل طلب

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان کے بعد بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔ ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف بھی ویڈیولنک کے ذریعے سے شرکت کریں گے ، اپوزیشن اتحاد کے اس اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا ، اس کے علاوہ حکومت مخالف تحریک کے سلسلے میں بھی اجلاس میں پی ڈی ایم کی آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی ، رواں ماہ 22 نومبر کو خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے بارے میں بھی کل کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو کے بعد سے اپوزیشن اتحاد کا یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا ، اس اجلاس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے پیپلزپارٹی سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی ممکنات میں شامل ہے ، کیوں کہ بلاول کی طرف سے دیا گیا انٹرویو کل سے ہی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے ، جس کی بنیاد پر اپوزیشن اتحاد میں دراڑ پڑنے کی باتیں بھی زبان زد عام ہیں ، اس تاثر کہ وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کا تاثر بھی متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، اور اس انٹرویو کی وجہ سے حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب دکھائی دیتی ہے ، جس کی اس اتحاد کے وجود میں آنے کے بعد پوری کوشش رہی کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو تقسیم کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ عین ایسے حالات میں بلاول کی طرف سے سابق وزیراعظم کے بیانیہ سے لاتعلقی کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ’نوازشریف کی تقریر میں براہ راست فوجی قیادت کے نام سنے تودھچکا لگا ، انتظار ہے سابق وزیراعظم کب ثبوت پیش کریں گے‘ اس سے بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اس بیانیہ کی حد تک شاید ایک پیج پر نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے تشویش لاحق ہوچکی ہے۔
