بلوچستان:ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری، عدالت نے نوٹس لے لیا

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اوپی ڈیز ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور بلوچستان سپریم کورٹ نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا نوٹس لے لیا۔

بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث آؤٹ پیشنٹ کلینک کی مسلسل بندش کے باعث غریب مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کرنا پڑرہا ہے۔ینگ ڈاکٹرز نے مطالبات نہ ماننے پر کابینہ کے گھیراؤ کی دھمکی دے دی ، دو روز قبل بلوچستان کے وزیراعظم نے ینگ ڈاکٹرز سے بات کرنے کے لیے تین رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی۔

کمیٹی بحث کے تین دن میں وزیراعظم کو رپورٹ دے گی ، ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی نے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا اور ان مطالبات کے حل کے لیے حکومت کی دی گئی مہلت ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید بلوچ، نعیم اختر الافغانی پر مشتمل سپریم کورٹ بلوچستان کے وفد نے وزارت صحت میں کیس کا جائزہ لیا۔بلوچستان کے چیف جسٹس نعیم اختر افغانی نے ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت صحت کے حکام سے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے متعلق سوال کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کیوں کرتے ہیں؟

وزیر صحت نورالحق بلوچ نے عدالت میں کہا کہ وہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے مطالبات ہڑتال کی طرح نہیں ہیں۔ عدالت نے ینگ ڈاکٹرز یونین کے عہدیداروں سے پوچھا کہ وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے ، عدالت کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز کو جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں‌ نے او پی ڈیز کو بحال کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث او پی ڈیز کی مسلسل بندش سے اسپتال آنے والے غریب مریض رُل گئے۔ ینگ ڈاکٹرز نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی دے دی۔

دو روز قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے ینگ ڈاکٹرز سے مذاکرات کے لیے تین رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی کہ کمیٹی مذاکرات کے بعد تین دن کے اندر رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرےگی۔ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی نے ان سے تاحال رابطہ نہیں کیا ہے اور مطالبات کے حل سے متعلق حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن بھی ختم ہوگئی ہے۔

دوسری جانب بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے محکمہ صحت کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کانوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام سے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے متعلق استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ ینگ ڈاکٹرز کیوں ہڑتال کررہے ہیں؟

سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ نے عدالت کو بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل حل کرناچاہتے ہیں لیکن ان کے مطالبات ایسے نہیں کہ جن پر ہڑتال کی جائے، عدالت نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو طلب کرلیا تاہم طلبی کے باوجود ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ینگ ڈاکٹرز کوآج بروز جمعہ پیش ہونے کے لیے اخبار میں اشتہارجاری کرنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت عدالت میں موجود سینئر ڈاکٹرز نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے آج سے سرکاری ہسپتالوں کی اوپی ڈیز میں بیٹھنے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا۔

Back to top button