حکومت نے صدارتی آرڈیننس کا اجراء مذاق بنا کر رکھ دیا

پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کی بجائے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کی خاطر کپتان حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کہ وزیراعظم اور صدر مل کر آرڈیننس آرڈیننس کھیل رہے ہیں۔ ایک مہینے کے دوران نیب سے متعلق دو آرڈیننس جاری کرنے اور پھر انہیں واپس لے کر کپتان حکومت نے نہ صرف اپنی نااہلی ثابت کی ہے بلکہ اپنی ساکھ کے بحران کو بھی مزید گہرا کیا ہے۔ حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ یوٹرن پہ یوٹرن لینے والی کپتان حکومت کا بلا سوچے سمجھے اوپر تلے صدارتی آرڈیننس جاری کر کے واپس لینے کا رجحان صدر پاکستان کے لئے بھی سبکی کا باعث بن رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر چیئرمین نیب کو ہٹانے سے متعلق قانون واضح کرنے کے لئے اسے سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹانے کا دوسرا نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد اسے واپس لیتے ہوئے یہ اختیار صدر کو سونپ دیا تاکہ چیئرمین نیب مکمل طور پر حکومتی دم چھلہ بن جائے۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید اور اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کے اعلان کے بعد اب حکومت یہ آرڈیننس واپس لینے جا رہی ہے جس سے اسکی کمزور فیصلہ سازی اور نااہلی کھل کر عیاں ہو گئی ہے۔ اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز دی ہے کہ قومی احتساب آرڈیننس میں تیسری ترمیم کو پارلیمنٹ کے ذریعے بہتر کیا جائے کیونکہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس کا نفاذ قانون کے تحت پائیدار نہیں ہوگا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے اٹارنی جنرل نے تجویز پیش کی کہ تیسری ترمیم کے ذریعے جاری کیے گئے آرڈیننس میں سنگین خامیاں موجود ہیں جنہیں کسی اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دور نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین کو ہٹانے کا طریقہ کار پر اب بھی متنازع نظر آرہا ہے اس لیے وزیر اعظم کو تجویز دی گئی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اس پر مکمل بحث کرنے اور ترامیم کرنے کی اجازت دی جائے۔ اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ نیا آرڈیننس اپنی موجودہ شکل میں اعلیٰ عدالتوں کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے اور عدالتیں اس کو ایک ’غلط قانون‘ قرار دے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل سے لے کرصدر کو دینے سے صدر پاکستان متنازعہ ہو جائیں گے لہذا یہ اختیار واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو دے دیا جائے۔
خیال رہے کہ حکومت نے تیسرا ترمیمی قومی احتساب آرڈیننس 2021 یکم نومبر کو جاری کیا تھا تاکہ صدر کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار ختم کرتے ہوئے نیب کے چیئرمین کو ہٹا سکیں۔ آرڈیننس میں تیسری ترمیم لانے کا فیصلہ 27 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر اعظم سے منظوری لینے کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے شرکت کی، تاہم اٹارنی جنرل نے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب آرڈیننس، نیب کے سربراہ کو بیورو کے دائرہ کار کے لیے قواعد وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر سربراہ نیب کے خلاف غلط کاموں کا کوئی الزام سامنے آتا ہے تو انہیں اپنے آپ کو ہٹانے کے لیے خود ہی قوانین بنانا ہوں گے۔
نیب نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں گزشتہ سال 27 اگست کو اپنے قوانین نیب رولز 2020 سپریم کورٹ کے سامنے رکھے تھے۔ اس کے بعد نیب کے قوانین گزٹ آف پاکستان میں شائع کیے گئے جو اسے قومی احتساب آرڈیننس کے سیکشن 18 (بی) کے تحت کسی بھی مشتبہ جرم کا نوٹس لینے کا اختیار دیتے ہیں۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ نیب چیئرمین کا فیصلہ حتمی ہوگا کہ وہ رسمی کارروائیوں کے بعد ریفرنس دائر کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس فیصلے پر نیب کی کوئی اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے بہت سے شرکاء نے حیرانی کا اظہار کیا کہ چیئرمین نیب کو سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار میں لانے میں کیا حرج ہے کیونکہ دیگر اہم آئینی دفاتر جیسے اعلیٰ عدالتوں کے ججز، آڈیٹر جنرل اور وفاقی محتسب کو سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا آغاز کرکے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے وضاحت کی تھی کہ موجودہ آرڈیننس کے تحت سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے مقرر کردہ معیار نیب کے چیئرمین کو ہٹانے پر بھی لاگو رہے گا تاہم اس کے لیے مناسب فورم سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ صدر ہو گا۔
