بلڈ پریشرکی ازخود دوا چھوڑ دینا خطرناک قرار

بلڈ پریشر نارمل ہوتے ہی ازخود دوا چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین نے تنبیہ جاری کردی۔
ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی بیماری ہے جو بظاہر خاموش رہتی ہے لیکن وقت کے ساتھ دل، دماغ اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے مریضوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بلڈ پریشر کی دوائیں ساری زندگی استعمال کرنا پڑتی ہیں یا پھر کسی مرحلے پر انہیں ترک بھی کیا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اس کا جواب ہر مریض کے لیے یکساں نہیں ہوتا بلکہ یہ بیماری کی شدت، مجموعی صحت اور طرزِ زندگی پر منحصر ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات میں بڑھتی عمر، موروثی عوامل، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے ادویات نہ صرف بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے سنگین خطرات سے بھی بچاتی ہیں۔
