بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کے قتل کو کس نے مارا؟

کوٹ لکھپت جیل میں بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کے قتل کے الزامات سے بےعزتی بری ہونے والے عامر سرفراز تانبا کو گھر میں گھس کر نامعلوم نقاب پوش افراد نے قتل کر دیا۔ حکام نے عامر تانبا کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارتی قیدی سربجیت سنگھ پر حملہ کرنے والے ملزم عامر سرفراز تانبا پر حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔پیر کو لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ایسے کوئی شواہد ملے ہیں کہ اس میں بھارت ملوث ہے؟ جس پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ "اس سے پہلے بھی جو دو چار واقعات ہوئے ہیں اس میں بھارت براہِ راست ملوث تھا۔” "ابھی تک پولیس کو شک ہے کہ اِس واقعے میں بھارت ملوث ہے لیکن جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ تاہم تانبا پر حملے کا طریقۂ کار ماضی کے واقعات کی طرح کا ہی ہے۔
لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے ایک گھر میں اتوار کو عامر سرفراز عرف تانبا پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر سے پاکستان میں ایسے واقعات میں مبینہ طور پر انڈیا کے ملوث ہونے کے خدسات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یہ قاتلانہ حملہ تھانہ اسلام پورہ کی حدود میں ایک گھر میں نامعلوم افراد کی جانب سے کیا گیا اس حوالے سے درج ایف آئی آر کے مطابق دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ہنڈا 125 پر آئے، ایک نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور دوسرے نے ماسک لگایا ہوا تھا۔ دونوں اوپر والے پورشن گئے اور عامر سرفراز پر تین فائر کیے گئے۔‘ عامر تانبا کے بڑے بھائی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق انھیں ’زخمی حالت میں برائے علاج معالجہ بذریعہ ایمبولینس شفٹ کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔‘
اس پراسرار واقعے کو سنہ 2013 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید انڈین شہری سربجیت سنگھ کے قتل سے جوڑا جا رہا ہے۔سربجیت سنگھ سنہ 1990 سے پاکستان میں جاسوسی اور بم دھماکے کرنے کے الزام میں قید تھا جب اسے جیل میں دو قیدیوں کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔اس کے قتل کا الزام جیل ہی میں قید اور سزائے موت کے منتظر دو قیدوں عامر سرفراز عرف تانبا اور اس کے ساتھی مدثر منیر پر عائد کیا گیا تھا تاہم لاہور کی مقامی عدالت نے انھیں سنہ 2018 میں عدم گواہی کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔خیال رہے کہ سربجیت سنگھ کے قتل کے واقعے نے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ میں مزید اضافہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ عامر سرفراز تانبا کا قتل پہلا واقعہ نہیں جب پاکستان میں کسی واردات کا الزام انڈیا پر عائد کیا جا رہا ہے، گذشتہ دو برس کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان میں قتل ہونے والے ’سابق جہادی کمانڈروں‘ کو پراسرار طور پر ہلاک کیا جاتا رہا اور یہ افراد جن مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی جانب سے اس کا الزام انڈیا پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا ’غیر ملکی سرزمین پر رہنے والے ریاست مخالف عناصر‘ کو ختم کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے اور اس ضمن میں اس نے سنہ 2020 سے اب تک پاکستان میں بھی متعدد کارروائیاں کی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی رپورٹ سے متعلق جب انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ سے مقامی میڈیا میں ایک انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا تو انھوں نےاس بات کی تصدیق یا تردید تو نہیں کی مگر یہ ضرور کہا کہ ’اگر کسی پڑوسی ملک سے کوئی دہشتگرد انڈیا کو پریشان کرنے یا یہاں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔خیال رہے کہ عامر سرفراز عرف تانبا کا نام اس وقت مقامی میڈیا میں گردش کرنے لگا تھا جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ لاہور کی جیل میں قید انڈین شہری سربجیت سنگھ کو قتل کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سربجیت سنگھ کو سنہ 1990 میں اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ لاہور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکے کرنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔دوران تفتیش سربجیت سنگھ نے ان بم حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس پر انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے انھیں 1991 میں موت کی سزا سُنائی تھی۔اس عدالتی فیصلے کو پہلے لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
سربجیت کے ورثا نے اُن کی معافی کے لیے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو درخواست دی تھی جسے انھوں نے رد کر دیا تھا اور انھیں مئی 2008 میں پھانسی دی جانی تھی تاہم تین مئی کو حکومتِ پاکستان نے اس پھانسی پر عملدرآمد عارضی طور پر روک دیا تھا۔
صحافی ماجد نظامی کے مطابق ’اس وقت عامر سرفراز عرف تانبا اور مدثر منیر کو قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں مقامی عدالت کی جانب سے قید اور سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔‘’یہ دونوں جیل میں اپنی سزا بھگت رہے تھے او ان کے کیسز اعلیٰ عدالتوں میں اپیلوں پر تھے۔‘ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ ’سربجیت سنگھ کو قتل کرنے کے بارے میں اس وقت کے حکام نے بتایا تھا کہ دو قیدیوں نے کھانا کھاتے ہوئے سربجیت سنگھ کو بلیڈ اور اینٹوں کے وار کر کے زخمی کر دیا تھا جس کے بعد انھیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر وہ دم توڑ گئے تھے۔‘
ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد عامر سرفراز عرف تانبا اور مدثر منیر پر مقدمہ چلا مگر اس کیس میں ان کو اس بنیاد پر بری کر دیا گیا کہ کوئی شہادت موجود نہیں اور استغاثہ آلہ قتل بھی بر آمد نہیں کر سکا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس دوران انڈین جیل میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ دیکھا گیا تھا کہ جس میں ایک پاکستانی ثنا اللہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیالکوٹ کے رہائشی تھے، کو جیل میں قتل کر دیا گیا اور بعد میں اس قتل کا ملزم بھی انڈیا میں بری ہو گیا تھا۔‘
ماجد نظامی کے مطابق ’اس دوران عامر سرفراز عرف تابنا کے دیگر قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی کے مقدمات عدالتوں میں چلتے رہے اور اعلیٰ عدالتوں میں ان کی سزائے موت کے خلاف اپیل کے فیصلے ان کے حق میں ہوئے اور یہ کچھ عرصہ پہلے رہا ہو کر جیل سے باہر نکل آئے تھے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’جیل سے رہائی کے بعد عامر سرفراز عرف تانبا کو علاقے میں زیادہ مضبوط اور بااثر سمجھا جانے لگا۔‘
دوسری جانب پولیس سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق رہائی کے بعد عامر تانبا پر چار مختلف مقدمات لاہور کے چار مختلف تھانوں میں درج ہوئے۔ ان مقدمات میں اقدام قتل، دھمکیوں، پولیس کو دھمکیاں دینے اور تشدد وغیرہ کے الزامات شامل ہیں۔ایک پولیس افسر کے مطابق ’رہائی کے بعد عامر سرفراز عرف تانبا سنبھالا نہیں جا رہا تھا جبکہ اس پر جو مقدمات درج ہوتے وہ ان میں گرفتاری سے پہلے ہی ضمانتیں حاصل کر لیتا۔‘
