تحریک انصاف میں صرف بدزبان ہی ترقی کیوں پاتے ہیں؟


وفاقی وزیر برائے امور کشمیر شہریار آفریدی کی گالیوں بھری گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ شخص اس قابل ہے کہ اسے کابینہ کا حصہ رکھا جائے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ بالکل، ایسے ہی بد زبانی اور ذہنی پستی کا شکار لوگوں کو کابینہ کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ شہریار آفریدی کی بیہودہ گفتگو اور گالیاں اس یوتھیا کلچر کی غمازی کرتی ہیں جو عمران خان نے نئے پاکستان میں متعارف کروایا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی میں جو جتنا بدزبان ہے اس کی ترقی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں کیونکہ عمران خان کے نزدیک سب سے بڑا میرٹ زبان درازی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی کی ایک چونکا دینے والی آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی یے جس میں چیئرمین کشمیر کمیٹی نہ صرف غلیظ گالیاں دے رہے ہیں بلکہ ایک اہسے صحافی کو۔نشان عبرت بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کر رہے ہیں جس نے فرانس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران انہیں مسئلہ کشمیر بارے سخت سوالات کر کے شرمندہ کر دیا تھا۔
یہ آڈیو ٹیپ سب سے پہلے اینکر منصور علی خان اپنے یوٹیوب چینل پر سامنے لائے جسکے بعد یہ وائرل ہو گئی۔ یہ آڈیو بظاہر شہریار آفریدی کے دورہ فرانس کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی جہاں ایک تقریب کے دوران صحافی نے ان سے بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی مسئلہ کشمیر کے حوالے سیلے ایک سوال کیا تو وزیر موصوف سیخ پا ہو گئے۔ آفریدی صحافی کے سوال پر اس قدر غصہ ہوئے کہ انہوں نے تقریب کے بعد آرگنائزر کو کھری کھری سنا دیں۔ آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کسی سے مخاطب ہو کر کہہ رہے ہیں آپ لوگوں کے کہنے پر ہی میں اس ایونٹ میں آیا تھا لیکن آپ نے میری عزت کا جنازہ نکال دیا۔ اگر میں وہاں سوالات کے جواب نہ دیتا تو لوگوں نے کہنا شروع کر دینا تھا کہ میں ڈر کر بھاگ گیا ہوں۔ آپ کو چاہیے تھا کہ اس طرح کے واحیات سوال کرنے والے صحافیوں کو ہال میں داخلے کی اجازت نہ دیتے ہیں۔ پھر آفریدی نے اپنے مخاطب کے سامنے غلیظ گالیاں بکنا شروع کر دیں اور کہا کہ آپ کے کہنے پر ہی میں نے اوپن فورم میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ جب وہاں پر صحافی مجھ سے سوال کر رہا تھا تو آپ نے چپ کیوں سادھے رکھی، آپ کو ایسے سوالات کرنے سے روکنا چاہیے تھا جن سے میری عزت کا جنازہ نکال گیا۔ میری حد تک بات ہوتی تو خیر تھی لیکن میری بے عزتی سے پورا ملک بے عزت ہوا ہے۔
شہریار آفریدی نے دوران گفتگو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے اس صحافی سے حساب نہ لیا تو میں آپ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا۔
خیال رہے کہ دورہ فرانس کے موقع پر ایک صحافی نے شہریار آفریدی سے سوال پوچھا تھا کہ آپ چیئرمین کشمیر کمیٹی ہیں، آپ کا کام دنیا بھر میں کشمیر کاز کے حوالے سے سفارت کاری کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔ آپ فرانس میں ہیں، یہاں آپ کس تھنک ٹھینک کے ساتھ ملے ہیں؟ آپ نے یہاں کسی پارلیمنٹرین سے کشمیر بارے کوئی بات کی ہے یا کیا آپ مسئلہ کشمیر بھلا کر صرف سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شہریار آفریدی نے صحافی سے کہا کہ مجھے آدھے سر کے درد کا عارضہ ہے، پہلے تین تو میرے سر میں درد تھا، لہذا میں اس کا علاج کرواتا رہا، لیکن میں آئندہ جب بھی فرانس آئوں گا تو مسئلہ کشمیر بارے یہا پارلمنٹیرینز سے ملاقات کروں گا۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ فرانس کا کلچر مختلف ہے، یہاں پارلیمنٹرینز اور تھنک ٹینکس سے ملاقات کیلئے ایک ماہ پہلے وقت لینا پڑتا ہے۔ میں انشاء اللہ آئندہ جب یہاں آئوں گا تو کشمیر کاز کے لیے ان کیساتھ ملاقات کروں گا۔
یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ:شہباز شریف ، حمزہ شہباز مرکزی ملزم نامزد
تاہم سب جانتے تھے کہ اس معاملے میں شہریار آفریدی دراصل جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ ان کے فرانس پہنچنے سے پہلے پاکستانی کمیونٹی کو یہ بتایا گیا تھا کہ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی فرانسیسی پارلیمنٹرینز کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھانے کے لئے پیرس آرہے ہیں۔ لیکن پیرس پہنچنے کے بعد شہریار آفریدی نے ساری توجہ سیرسپاٹے کرنے پر مرکوز کیے رکھی۔ یعنی موصوف کشمیر کمیٹی کے خرچ پر پیرس کی سیر کرنے پہنچے ہوئے تھے۔

Back to top button