توشہ خانہ کیس میں عمران کی نااہلی یقینی کیوں ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس ویسے ہی عمران خان کے گلے کا پھندا بننے جا رہا ہے جیسے اقامہ کیس نواز شریف کے گلے کا پھندا بنا تھا۔ انصار یاد دلاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے اقامہ ظاہر نہ کرنے پر قرار دیا تھا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔ انہیں اسی بنیاد پر پر وزارت عظمیٰ سے نکالنے کے علاوہ تا حیات رکنِ پارلیمنٹ بننے اور کسی بھی حکومتی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا تھا، لیکن پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اس فیصلے کو ایک بُری نظیر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ کتنا ہی بُرا اور متنازعہ کیوں نہ ہو، ایک عدالتی نظیر کے طور پر اب بھی موجود ہے اور اب عمران خان کے مستقبل کا فیصلہ بھی اُسی کی روشنی میں ہونے جا رہا ہے۔ ہاں، صورتِ حال تب مختلف ہو سکتی ہے جب سپریم کورٹ اپنے نواز شریف نا اہلی کیس میں دیے گے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوے اُسے تبدیل کر دے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصارعباسی کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے جس فیصلہ پر تحریک انصاف خوشیاں مناتی رہی اور اُس کے حوالے دیتی رہی کہ کس طرح سپریم کورٹ نے ایک’’ چور، ڈاکو‘‘ کو ہمیشہ کے لیے نااہل قراردے ڈالا، اسی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کو بھی اب گھبرانا پڑے گا۔ نواز شریف کو جس بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا، وہی بنیاد عمران خان کی نااہلی کی وجہ بھی بننے جا رہی ہے۔ عمران کے خلاف بھلے کرپشن کا کوئی سکینڈل نہ ہو لیکن توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کو اُس سے بھی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے جو نواز شریف کی نااہلی کا سبب بنی۔ جون 2017 میں دیے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اس لیے نااہل قرار دیا تھا کہ اُنہوں نے 2013 کے الیکشن کے وقت کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے وقت الیکشن کمیشن کو دیے گئے ڈیکلریشن میں اُس تنخواہ کو اپنے اثاثہ جات میں ظاہر نہیں کیا تھاجو اُنہوں نے وصول بھی نہیں کی تھی۔ یعنی جو پیسہ اُنہیں ملنا تھا لیکن ملا نہیں تھا اُس کو ظاہر نہ کرنے پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نوازشریف نے جعلی ڈکلریشن جمع کروایا جس کی وجہ سے وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اُنہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک عجیب وغریب فیصلہ تھا اور اس کا واحد مقصد نواز شریف کو نااہل کرنا تھا۔
انصارعباسی کہتے ہیں کہ اب نواز شریف کیس کے فیصلے کو ذہن میں رکھیں اورعمران کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر توشہ خانہ ریفرنس کا جائزہ لیں۔ ایک بار پھر یہ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اس لئے نا اہل قرار دیاتھا کہ وہ کاغذات نامزدگی میں اپنے اُن اثاثہ جات کو ظاہر کرنے میں ناکام رہے تھے جو انہوں نے ’’وصول ہی نہیں کیے تھے۔‘‘ بقول انصار عباسی، اب عمران کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے توشہ خان کے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی تحفے اپنے اُس سالانہ گوشوارے میں ظاہر ہی نہیں کیے جو انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمع کروایا۔ حلف نامے کے ساتھ ہر رکن پارلیمان ہر سال اپنے اثاثہ جات کی مکمل تفصیل الیکشن کمیشن کو فراہم کرتا ہے ،جسے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پبلک کیا جاتا ہے۔ عمران اور نواز کا کیس ملا کر دیکھا جائے تو دونوں نے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف کے معاملے میں انہوں نے وہ اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے جو انہیں ملے ہی نہیں تھے لیکن قابلِ وصول تھے۔ عمران خان کے کیس میں دیکھیں تو انہوں نے وہ اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے جو انہیں توشہ خانہ کے تحفوں کو فروخت کرنے سے بنا لیے تھے۔ عمران خان نے یہ اثاثہ جات دو سال بعد کے ڈکلریشن میں ظاہر کیے جب تحفوں کے بارے میں شور مچنا شروع ہو گیا تھا۔ آپ جب سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھتے ہیں اور پھر نواز شریف اور عمران خان کے کیسوں کا تقابل کرتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ عمران بہت بُرے طریقے سے پھنس چکے ہیں جس کی وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جو متنازعہ ہے، جس کو عدالتی تاریخ میں کوئی اچھی نظیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن وہ فیصلہ اب نظیر بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران اور تحریک انصاف کو گھبرانا چاہئے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست دانوں کو کیسے کیسے بہانوں سے نااہل قرار دلوایا جاتا ہے لیکن اس میں سب سے زیادہ قصور بھی سیاستدانوں کا اپنا ہوتا ہے کیوں کہ وہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں۔ پہلے نواز شریف کی ٹانگیں کھینچی گئیں تو عمران اس سارے عمل کی حمایت کر رہے تھے۔ اب عمران کی ٹانگیں کھینچی جا رہی ہیں اور انکے سیاسی مخالفین انہیں ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر کرنے کے در پے ہیں۔ لہذا یہ گھن چکر کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔
