جام حکومت بچ گئی تو وفاقی حکومت بھی بچ جائے گی


وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کو وفاقی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ تحریک ناکام ہوگئی تو مستقبل قریب میں عمران حکومت بھی مشکلات کا شکار ہو جائے گی لیکن اگر جام کمال اپنی کرسی بچانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر وفاقی حکومت کو بھی فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان آلیانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے انجام سے ملکی سیاست کے درجہ حرارت کا تعین ہوگا اور معلوم ہو سکے گا کہ قومی سطح پر تصادم کی موجودہ صورت حال کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اگر جام کمال 25 اکتوبر کو تحریک ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جان لیا جائے گا کہ ابھی ملک میں وسیع تر سیاسی تبدیلی کے منصوبہ پر عمل درآمد شروع کرنے کا اشارہ موصول نہیں ہوا۔ یہ پیغام اسلام آباد کے مکین کو بھی مل جائے گا اور اس کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے والی اپوزیشن جماعتیں بھی اس اشارے کو سمجھ کر اس کے مطابق حکمت عملی تریب دینا شروع کردیں گی۔ البتہ جام کملا کے خؒاف تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں پنجاب سے لے کر اسلام آباد تک خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی اور کسی نادیدہ طوفان کا انتظار شروع ہوجائے گا۔
سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ 25 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں سامنے آنے والا فیصلہ یہ تعین کردے گا کہ وزیر اعظم عمران خان اور چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے پاس ناکارہ لوہے کو سونا بنانے کا جو پارس موجود تھا، کیا وہ اب بھی کارآمد ہے یا بوجوہ اپنی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اگر جمہوری عمل اور سیاسی اصول کی بنیاد پر دیکھا جائے تو 65 رکنی صوبائی اسمبلی کے 33 اراکین نے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کئے ہیں۔ یہ تحریک منظور ہونے کے آئینی تقاضے جو بھی ہوں، ارکان اسمبلی کے اعتماد کی بنیاد پر وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز شخص کو اس تحریک کے پیش ہوتے ہی اخلاقی طور سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا لیکن پاکستان کے سیاست کلچر میں اخلاقیات ناپید ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جام کملا دستور خود کو اکثریت کا منتخب کردہ لیڈر سمجھتے ہیں تو انہیں ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کرنی چاہئے تھی تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان اور مرکز میں ان کے سیاسی پشت پناہ اس مرحلہ پر ایسا کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کی بجائے آئندہ چند روز کے دوران سرکاری وسائل کی بندربانٹ اور عہدوں کا لالچ دے کر ان لوگوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جائے گی جو وزیر اعلیٰ کو فارغ کرکے کسی دوسرے راستے سے اپنے لئے زیادہ سہولتیں اور مواقع حاصل کرنا چاہتے ہیں البتہ اس میں کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ مقتدرہ کی جانب سے ملک کے سیاسی نقش میں کیسا رنگ بھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کی سیاست کے حوالے سے دو پہلو بہت واضح ہیں۔ ایک وہاں پر بااثر خاندانوں اور وڈیروں کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے فراہم کئے جاتے ہیں ۔ یہ وسائل کبھی عوامی بہبود کے منصوبوں پر صرف نہیں ہوتے لیکن سیاسی وفاداری کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ اسی لئے نہ بلوچستان کے عوام کی شکایتیں ختم ہوتی ہیں اور نہ ہی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود وہاں بنیادی سہولتیں فراہم ہوسکی ہیں۔ تاہم اکثر اوقات مقامی ابن الوقت سیاستدانون کی جانب سےعوام کو رجھانے کے لئے ایک طرف ایک انتظامی اصول کے لئے فوج کے سامنے ڈٹ جانے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے یا پھر وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو عوامی جذبات کی ترجمانی کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ جغرافیہ اور وسائل کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے کی سیاست کا دوسرا اہم پہلو وہاں کے معاملات پر اسٹبلشمنٹ کا مکمل کنٹرول ہے۔ بلوچستان کے عوام کی نمائیندگی صرف ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو کسی نہ کسی طرح سے سرکاری پالیسیوں اور جمہوریت کے مقابلے میں قومی مفاد کے ترجمان بننے کو ترجیح دیتے ہیں پھر اس وفاداری کا عوضانہ اربوں روپوں کی سیاسی رشوت کی صورت میں وصول کرکے اس وقت تک حکومت کا حصہ بنے رہتے ہیں جب تک تبدیلی کی کسی نئی ہوا کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
صوبائی سیاست دانوں اور وڈیروں کو علم ہے کہ یہ ہوا کس رخ سے چلتی ہے اور کس طرف جاتی ہے، اس لئے وہ ہمیشہ سیاسی ہوا کی درست سمت میں کھڑے ہوتے ہیں۔25 اکتوبر کو اسی رخ کا تعین ہوگا۔ جام کمال خان آلیانی اگر تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ارکین اسمبلی کی اکثریت کے تحریری اعلان ناراضی کے باوجود 25 اکتوبر کو اس تحریک کو ناکام بنوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو جان لیا جائے گا کہ ابھی ملک میں وسیع تر سیاسی تبدیلی کے منصوبہ پر عمل درآمد شروع کرنے کا اشارہ موصول نہیں ہوا۔ یہ پیغام اسلام آباد کے مکین کو بھی مل جائے گا اور اس کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے والی اپوزیشن جماعتیں بھی اس اشارے کو سمجھ کر اس کے مطابق حکمت عملی تریب دینا شروع کردیں گی۔ البتہ تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں پنجاب سے لے کر اسلام آباد تک خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی اور کسی نادیدہ طوفان کا انتظار شروع ہوجائے گا۔ عام طور سے یہ طوفان اقتدار پر فائز کسی سیاست دان کی قربانی کا سبب بنتا ہے۔ آلیانی کی روانگی کے ساتھ ہی سیاسی قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ کوئٹہ کی صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ بھی طے ہوچکا ہوگا۔ بہرحال جام کمال خان علیانی کی روانگی خطرے کی گھنٹی ہوگی۔ اس کے بعد فوری طور سے پنجاب اسمبلی یا قومی اسمبلی میں کوئی ہلچل نہ بھی دیکھی گئی تو اس کا انتظار شروع ہوجائے گا۔ عمران خان کو اندازہ ہوجائے گا کہ ان کے سر پر ہما کا سایہ نہیں ہے اور سیاست میں انہیں خود اپنے برتے پر دانت تیز کئے اپوزیشن لیڈروں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ کسی ممکنہ عدم اعتماد یا پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ سے بچنے کے لئے مڈ ٹرم انتخابات کا اعلان ایک متبادل ہوسکتا ہے۔ تاہم ملک کو درپیش معاشی و سلامتی اندیشوں کی وجہ سے کسی غیر متوقع متبادل کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستانی سیاست کے کھلاڑیوںاور ان کے ہتھکنڈوں کے علاوہ، ان کے اہداف سے بھی سب باخبر ہیں۔ اس کے باوجود کچھ خوش گمان عسکری قیادت سے ہی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ملکی سیاست میں مہروں کی اکھاڑ پچھاڑ میں شدید ناکامی کے بعد اب اس کھیل کو بند کرے اور آئینی طریقہ کے مطابق سیاست دانوں کومعاملات طے کرنے دے۔ یہ انہونی تو نہیں ہے لیکن پاکستان کی 70 برس کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسی توقع باندھنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

Back to top button