جبری گمشدگیوں پر اقوام متحدہ کھل کر سامنے آ گیا

اقوام متحدہ نے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور تحقیقات کے بعد ملوث افراد اور ایجنسیوں کو قانون کے دائرے میں لائے۔ جبری گمشدگیوں پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ’ورکنگ گروپ آن انفورسڈ آر انوالنٹری ڈس اپیرنسز‘ سمیت یو این کے انسانی حقوق اور تشدد کے خلاف کام کرنے والے آٹھ اداروں نے اس حوالے سے حکومت پاکستان کو خط لکھا ہے۔
چودہ صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اقلیتی گروہوں، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات میں ملوث افراد کے خلاف تفتیش نہ کرائے جانے سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ’یا تو یہ حکومتی پالیسی ہے یا پھر ان جرائم کو نظرانداز کرنا پالیسی کا حصہ ہے‘۔
اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے پاکستان کی حکومت کو اپنی تشویش اور الزامات پر موقف دینے، ان پر کیے گئے اقدامات، ان کے نتیجے میں لوگوں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا تھا۔
لیکن ورکنگ گروپ کو دو ماہ میں پاکستان نے کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد انسانی حقوق کے ورکنگ گروپ نے اس خط کو عام کیا ہے۔ خط کے سامنے آنے کے بعد حکومت ردعمل سے انکاری ہے۔ تاہم ماضی میں حکومت اور وزرا ملک میں حکومتی اداروں کے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور وزارت داخلہ کے اہلکار بھی عدالتوں میں انکار کرتے رہے ہیں کہ ان کے اہلکار جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ ان واقعات میں یہی ایجنسیاں ملوث ہیں۔
خط کے مطابق اقوام متحدہ کے گروپس کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے اداروں کو ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ‘حالیہ عرصے میں خاص طور پر سندھ میں ان واقعات میں تواتر سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ عمل خاصا پھیلا ہوا ہے اور گذشتہ کئی دہائیوں سے اس کا ہدف ایسے کئی افراد بنے ہیں جو سندھی، بلوچ، پشتون اور شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے کے علاوہ سیاسی کارکن تھے یا انسانی حقوق کے علمبردار تھے۔ ان افراد کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مذہبی یا قوم پرستانہ گروہوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔‘ خط کے مطابق ان جبری گمشدگیوں کا الزام ملٹری انٹیلیجنس، آئی ایس آئی، سندھ رینجرز، سندھ پولیس اور انٹیلی جنس بیورو پر لگایا جا رہا ہے اور ان اقدامات کا بظاہر مقصد ’پاکستان کی اقلیتوں میں خوف پیدا کر کے ان کو خاموش کرانا لگتا ہے‘۔
خط میں لکھا گیا کہ ‘لگتا ایسے ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث یہ افراد مرکزی حکومت سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں، لیکن مرکزی حکومت، اور عدلیہ بظاہر ان کو ارادتاً یا غیر ارادی طور پر روکنے اور ملوث افراد کو قانون کے دائرے میں لانے میں ناکام نظر آتی ہیں۔‘ خط میں کہا گیا ہے کہ متعدد بار لوگوں کو دن دہاڑے ایسے لوگوں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جنہوں نے سکیورٹی اہلکاروں یا پولیس کی یونیفارم پہن رکھی ہوتی ہیں اور پولیس کی گاڑیوں میں آتے ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ لاپتہ کیے جانے والے لوگوں کے خاندان والوں کو اطلاعات تک نہیں پہنچائی جاتیں اور ان تک رسائی بھی روک دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں لاپتہ کیے گئے افراد کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ واپس آنے والے کئی لوگوں پر جسمانی اور دیگر طرح کے تشدد کے نشانات ہوتے ہیں اور ان پر الزامات اور مقدمات تک کی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔۔
اقوام متحدہ کے مطابق ’ملک کے ذرائع ابلاغ کے ادارے بھی انتقامی کارروائیوں کے خوف سے ان گمشدگیوں کے بارے میں پتا لگانے سے گھبراتے ہیں۔ اسی طرح، جب کچھ لوگ لمبے عرصے تک غائب رہنے کے بعد، رہائی پاتے ہیں تو اپنی گمشدگیوں کے بارے میں مزید کارروائیوں کے خوف کی وجہ سے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ کچھ لاپتہ افراد کی لاشیں ملتی ہیں لیکن ان ہلاکتوں پر بھی کوئی تفتیش نہیں ہوتی۔’گو عدلیہ ان گمشدگیوں کی مذمت کرتی ہے لیکن ملک کے موجودہ قوانین میں خامیوں کی وجہ سے وہ ان واقعات کو روک نہیں پاتی۔‘ خط کے مطابق’ فوج انسانی حقوق کے کارکنوں پر ملک دشمنی کے الزامات عائد کرتی ہے اور جبری گمشدگیوں کا یہ جواز دیتی ہے کہ سندھ میں جنگ جاری ہے‘۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے مطابق 2010 میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں قائم کیا جانے والا کمیشن ’درست سمت میں ایک قدم تھا‘ لیکن اس کے مؤثر ہونے کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں، کیونکہ وہ لاپتہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں تحقیقات نہیں کر سکا۔

Back to top button