جب اسمبلی میں لڑائی نے ڈپٹی سپیکر کی جان لے لی


پاکستانی پارلیمینٹ میں ہنگامہ آرائی اور لڑائی مارکٹائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں حالیہ ہنگامے آرائی کے دوران چند اراکین اسمبلی معمولی زخمی ہوئے۔ تاہم کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ایسی ہی پارلیمانی ہنگامہ آرائی کے دوران ماضی میں ایک ڈپٹی سپیکر کی جان چلی گئی تھی۔ اور اسی واقعے نے ایوب خان لو ملک میں پہلا مارشل لا لگانے کا جواز فراہم کر دیا۔ پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا یہ سب سے افسوسناک واقعہ 21 ستمبر 1958 کو پیش آیا تھا جب درجنوں حکومتی ارکان اسمبلی اپنی رکنیت معطل کیے جانے پر مشتمل ہو کر سپیکر عبدالحکیم پر چڑھ دوڑے۔ تاہم وہ تو بروقت اسمبلی سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے لیکن ڈپٹی سپیکر شاہد علی سر پر پیپر ویٹ لگنے سے ہلاک ہو گے۔
کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے خفیہ طاقتوں کا ہاتھ تھا چونکہ ڈپٹی سپیکر کی ہلاکت کے فوری بعد جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا جو بالآخر تب کے صدر اسکندر مرزا کی فراغت پر منتج ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی ہلاکت نے جنرل ایوب خان کے مارشل لا کا راستہ ہموار کیا۔ صلاح الدین احمد کی انگریزی میں لکھی گئی کتاب ’ بنگلہ دیش، پاسٹ اینڈ پریزنٹ ‘ یعنی بنگلہ دیش، ماضی اور حال میں درج واقعے کے مطابق پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے افسوسناک واقعہ 21 ستمبر 1958 کو پیش آیا تھا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ مشرقی پاکستان کی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے چھ حکومتی ارکان کی سپیکر عبدالحکیم نے خصوصی رولنگ کے ذریعے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر رکنیت معطل کر دی۔ رکنیت معطلی کے بعد حکومتی ارکان پیپر ویٹ اور پردوں کے ڈنڈے اکھاڑ کر سپیکر پر چڑھ دوڑے تاہم وہ بروقت اسمبلی سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے باعث اسمبلی کی کاروائی تین روز تک مسلسل تعطل کا شکار ہوتی رہی۔
تاہم ہنگاموں کے چوتھے روز اسمبلی کی کارروائی چلانے کی ذمہ داری ڈپٹی سپیکر شاہد علی نے سنبھال لی جو کہ سپیکر بننے کے متمنی بھی تھے حالانکہ سپیکر نے ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ سپیکر کے ایوان سے جانے کے بعد ڈپٹی سپیکر شاہد علی نے کرسیِ صدارت پر بیٹھنے کی کوشش کی جسے حزبِ اختلاف نے ناکام بنا دیا۔ وہ سپیکر کی کرسی پر نہ بیٹھ سکے تو انھوں نے قائد ایوان کی نشست سنبھال کر پہلے اسپیکر کو ذہنی مریض قرار دینے کی ایک قرارداد منظور کروائی اور اس کے بعد سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کا اعلان بھی کر دیا۔
یہ قرار داد منظور ہونے پر اپوزیشن ارکان شدید مشتعل ہو گئے، وہ مائیکرو فون اکھاڑ کر سپیکر ڈائس پر چڑھ گئے اور شاہد علی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران ایک پیپر ویٹ ان کے سر پر جا لگا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ کئی جگہ کرسی سر پر لگنے کا ذکر آتا ہے۔ شاہد علی، جو کہ سپیکر کا منصب سنبھالنے کے لیے بے چین تھے، دو روز تک بے ہوش رہنے کے بعد 26 ستمبر 1958 کو انتقال کر گئے۔
یاد رہے کہ اسمبلی ہنگامے میں ہلاک ہونے والے شاہد علی پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے۔ انہوں نے 30 سال کی عمر میں 1929 میں شیر بنگال فضل حق کی پارٹی کریشک پرجا پارٹی جوائن کی۔ شاہد 1955 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی حکومت تھی اور شاہد علی اس حکومت کی اتحادی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
ڈپٹی سپیکر کے انتقال کے بعد 23 ستمبر کو پولیس نے سپیکر عبدالحکیم کو حکومتی و اپوزیشن ارکان میں غم و غصہ کو بھانپتے ہوئے سپیکر چیمبر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ 24 ستمبر کو پولیس نے شاہد پٹواری کے قتل کے الزام میں مشرقی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ ابو حسین سرکار سمیت دیگر اپوزیشن ارکان اسمبلی کو حراست میں لے لیا۔
شاہد علی کے انتقال کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور شیخ مجیب نے اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہسپتال کا گھیراؤ کر لیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شاہد علی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔مرحوم کی اہلیہ ایسا نہیں چاہتی تھیں لیکن شیخ مجیب اپنی ضد پر اڑے رہے، چنانچہ جب موت کے بعد شاہد علی کا پوسٹ مارٹم ہوا تو ان کی پسلی کی تین ہڈیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں حالانکہ اس سے قبل ان کے کسی ایکسرے سے ایسی کوئی نشان دہی نہیں ہوئی تھی۔
اس صورت حال کی آڑ میں صدر سکندر مرزا نے مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ کی حکومت ختم کردی۔ صدر مرزا نے اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے ملک بھر میں مارشل لا نافذ کردیا اور ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا جنہوں نے بعد میں اسکندر مرزا کی ہی چھٹی کروا دی۔ ایوب خان نے اپنی یاداشتوں ’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘ میں اس واقعے کو مارشل لا کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسمبلی نے سپیکر کو پاگل قرار دے دیا تھا جس کے بعد دنگا فساد ہوا اور ڈپٹی سپیکر کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسی طرح کے واقعات کی وجہ سے لوگ اُن سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ کوئی قدم کیوں نہیں اٹھاتے؟

Back to top button