وزیرستان میں بارودی سرنگیں سینکڑوں جانیں لے گئیں

وزیرستان میں پاکستانی طالبان کی جانب سے اپنے عروج کے دور میں فوجی پیش قدمی روکنے کے لیے بچھائی جانے والی بارودی سرنگیں مکمل طور پر تلف نہ کئے جانے کی وجہ سے گذشتہ چند برسوں کے دوران تین سو سے زائد افراد انکا نشانہ بن چکے ہیں جن میں درجنوں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ 2018 سے اب تک قیمتی زندگیاں نگلنے والی ان بارودی سرنگوں کو جلد از جلد ختم کرکے مکینوں کی جانیں محفوظ بنائی جائیں۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان کے حکام کے پاس بارودی سرنگوں سے ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، تاہم علاقائی رضاکاروں نے 2018 کے بعد لینڈ مائنز کا نشانہ بننے والے افراد کا غیر سرکاری ریکارڈ جمع کرنا شروع کر رکھا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے بعد جنوبی و شمالی وزیرستان میں تین سو سے زائد افراد بارودی سرنگوں کا نشانہ بنے، جس میں دو سو کے قریب بچے شامل تھے۔2018 کے بعد جمع کیے جانے والے ڈیٹا کے مطابق وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے 189 دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں تقریباً 22 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان میں 14 بچے اور چار خواتین شامل تھیں۔ زیادہ تر بارودی سرنگوں کے دھماکے جنوبی وزیرستان میں ہوئے ہیں، جن کا زیادہ تر شکار بچے اور خواتین ہوئی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اکثر کھیل کود میں بچے ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں بارودی سرنگیں نصب ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں مویشی چرانے اور پانی لانے کا کام اکثر بچوں اور خواتین کے ذمے ہوتا ہے، اس لیے نہ صرف وہ بلکہ مویشی بھی ان حادثات کا نشانہ بنتے ہیں۔ وزیرستان میں تقریباً ہر دوسرے تیسرے روز مویشی بھی بارودی سرنگوں کے حادثات کا نشانہ بنتے ہیں تاہم ان کا ریکارڈ ابھی تک کسی نے جمع نہیں کیا گیا۔
وزیرستان کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد سیلابی پانی کی وجہ سے کئی بارودی سرنگوں کا ٹھکانہ تبدیل ہو گیا ہے اور وہ ہر طرف پھیل گئیں جس کے بعد اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کے پر زور مطالبات کے باوجود بارودی سرنگوں کو نہیں ہٹایا جا سکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تو ان علاقوں میں بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے کے لیے کوئی عملہ موجود ہے اور نہ ہی حادثات کی فوری خبر دینے کا کوئی مواصلاتی نظام، جس کے ذریعے متاثرین کی بروقت طبی امداد کی اطلاع دی جا سکے۔
حال ہی میں پانچ وکلا نے پشاور ہائی کورٹ کے توسط سے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کو قبائلی اضلاع خصوصاً وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد اور علاقے کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کی درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ کے وکیل سجاد احمد محسود اور ان کے چار ساتھیوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ جنوبی وزیرستان سے باردوی سرنگیں ہٹوائیں اور جب تک یہ کام مکمل نہیں ہوتا تب تک متاثرہ علاقوں کو ریڈ زون قرار دے کر ان کی واضح نشان دہی کی جائے تاکہ لوگ وہاں نہ جائیں۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ بارودی سرنگیں پھٹنے سے مرنے والوں کے لواحقین کو شہدا پیکیج دیا جائے۔درخواست میں بتایا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں پچھلے دو برس میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے 178 واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں آٹھ سو افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ڈھائی سو معذور اور 77 نابینا ہو چکے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقامی پولیس باردوی سرنگیں پھٹنے کے واقعات کی ایف آئی آر درج نہیں کرتی، اس لیے اسے حکم دیا جائے کہ وہ ان واقعات کے مقدمات درج کرے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی ارکان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگیں پھٹنے اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی اموات پر تشویش کا اظہار کیا اور ذمہ دار اداروں سے ان علاقوں کو صاف کرنے کی درخواست کی تھی۔ ماہرین کے مطابق وزیرستان میں بارودی سرنگوں کی زیادہ تر وہ قسم پائی جاتی ہے، جو باہر سے نظر نہیں آتی اور جس پر دباؤ پڑنے سے دھماکہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں زیادہ تر شدت پسندوں کی جانب سے دیسی ساخت کی بارودی سرنگیں استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق شدت پسندی کی لہر کے دوران وزیرستان میں بارودی سرنگیں طالبان دہشت گردوں نے بچھائی تھیں جن کا مقصد فوجی آپریشن میں دستوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار وزیرستان میں بارودی سرنگوں پر کہتے ہیں کہ ’پاکستان فوج نے قبائلی اضلاع سے تقریباً 48 ہزار بارودی سرنگوں کی صفائی کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ باردوی سرنگیں صاف کرنے کے دوران فوج کے دو جوان شہید ہوئے، جب کہ 119 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی 40 سے زائد ٹیمیں اس وقت دھماکہ خیز مواد کی صفائی میں مصروف عمل ہیں۔
