امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں، متعدد فوجی اہداف نشانے پر

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس میں ایک امریکی ایف-16 جنگی طیارے پر بھی میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے کے خلاف ڈرون آپریشن کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، جن میں ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے کا ہدف بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ تھا، جو خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری کارروائیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس حملے یا کسی ممکنہ نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی ایف-16 جنگی طیارے پر میزائل داغا گیا، جس کے بعد طیارہ اپنا مشن مکمل کیے بغیر واپس جانے پر مجبور ہو گیا۔روسی خبر رساں ادارے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل فائر ہونے کے بعد امریکی طیارے نے علاقے سے دوری اختیار کر لی۔ تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع یا امریکی فوج کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے خلاف شروع کیے گئے میزائل اور ڈرون آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔پاسدارانِ انقلاب نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران پورے خطے میں اپنے ردعمل کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایرانی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ پر کسی بھی حملے کو واشنگٹن اپنی علاقائی فوجی موجودگی کے خلاف بڑا چیلنج تصور کر سکتا ہے۔خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور اطراف کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال مزید بگڑنے کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور خطے کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
