ایرانی قیادت کی درخواست کے بعد حملے جلد رک جائیں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر جاری امریکی حملے جلد ہی روک دیے جائیں گے کیونکہ ایرانی قیادت نے بمباری بند کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ کشیدگی کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے بمباری روکنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث صورتحال میں جلد بہتری آسکتی ہے۔امریکی صدر کے مطابق امریکی فوج نے حالیہ کارروائی کے دوران ایران کے مختلف اہداف پر 49 ٹوماہاک کروز میزائل داغے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان حملوں میں اسرائیل شریک نہیں تھا اور کارروائی مکمل طور پر امریکی فیصلے کے تحت کی گئی۔ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے کسی ممکنہ معاہدے یا سفارتی حل کی طرف پیش رفت نہ کی تو امریکا مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر ایران نے ڈیل نہ کی تو بمباری سے ان کا برا حال کر دیں گے۔”

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کسی قسم کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ایرانی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں اور نہ ہی ایرانی قیادت نے بمباری روکنے کے لیے کوئی پیغام بھیجا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا بیان دراصل بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال سے نکلنے اور بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات نے موجودہ بحران کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران کسی بھی قسم کے براہ راست رابطے کی تردید کر رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر ہے، تاہم پس پردہ سفارتی سرگرمیوں کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں دونوں فریقوں کے بیانات اور عملی اقدامات اس بحران کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ادھر عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی اہم چیلنج بن چکا ہے۔

Back to top button