کیا امریکہ ایران فوری جنگ بندی اور امن مذاکرات ممکن ہیں؟

امریکہ کی جانب سے تقریباً دو ہفتوں تک جاری شدید فضائی حملوں کے اچانک رک جانے اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تیزی آنے کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اہم ہو گیا ہے کہ کیا دونوں ممالک ایک طویل اور خطرناک جنگ سے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا یہ خاموشی محض اگلے مرحلے کی فوجی کارروائی سے پہلے کا وقفہ ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب مذاکرات کے جاری رہنے کی بھی تصدیق کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے آئندہ دورۂ واشنگٹن نے خطے کی بدلتی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تقریباً دو ہفتوں کی شدید بمباری کے بعد امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ وقفہ مستقل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف ایک عارضی حکمت عملی، تاہم عالمی سفارتی حلقے اسے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب ایران کو مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور سفارتی کوششیں ترک نہیں کی گئیں۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں ایران کی صورتحال، اسرائیل کی آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی۔ تاہم بعد میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے اور خلیجی سمندری راستوں پر کشیدگی بڑھنے کے باوجود حالیہ امریکی حملوں میں اسرائیل نسبتاً پس منظر میں دکھائی دیا۔
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے مینیجنگ ڈائریکٹر مائیکل سنگھ کے مطابق ایران اس بات سے آگاہ ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو اسرائیل بھی براہِ راست میدان میں اتر سکتا ہے۔ ان کے بقول اسرائیل کا محدود کردار شاید تہران کے لیے یہ پیغام بھی ہو کہ فی الحال لڑائی کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مائیکل سنگھ کا کہنا ہے کہ موجودہ خاموشی کو فوری طور پر کسی بڑے سیاسی یا فوجی نتیجے سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق اگر یہ وقفہ کئی روز تک برقرار رہتا ہے تو اسے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ صرف فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے یا پس پردہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے وقت حاصل کیا جا رہا ہے۔
ادھر ثالثی میں شامل ایک ملک کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں میں آنے والا وقفہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور فریقین عبوری جنگ بندی کے کسی قابلِ عمل فارمولے پر غور کر رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے، جبکہ امریکہ بھی عسکری دباؤ کم کرنے کے اقدامات پر غور کرے۔ اگر ایسا ممکن ہو جاتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام آنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
جنگ کے آغاز پر ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی اور متعدد ٹینکروں و تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی صورتحال نے دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات کو بھی بڑھایا، جبکہ امریکی داخلی سیاست میں بھی توانائی کی قیمتیں ایک اہم انتخابی مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔
اب عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا موجودہ سفارتی کوششیں مستقل جنگ بندی اور کسی نئے معاہدے کی بنیاد بن سکیں گی یا خطہ ایک بار پھر وسیع فوجی تصادم کی طرف لوٹ جائے گا۔
