مریم نواز حکومت کی اشرافیہ پر نوازشات کی برسات، اکثریتی سرکاری ملازمین محروم

پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے بنیادی تنخواہ کے برابر یعنی 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس برقرار رکھنے کے فیصلے نے صوبے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے دوہرے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف لاکھوں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، پولیس اہلکار اور دیگر فیلڈ ملازمین صرف سالانہ بجٹ میں محدود ایڈہاک اضافے تک محدود ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبے کے محض 0.8 فیصد ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے مساوی اضافی الاؤنس ملنے سے ان کی مجموعی آمدن میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرکاری حلقے اس فرق کو کام کی نوعیت اور انتظامی ذمہ داریوں کا تقاضا قرار دیتے ہیں، جبکہ ملازمین کی تنظیمیں اسے ایک ہی پے سکیل پر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ ناانصافی اور تنخواہوں میں امتیازی سلوک سے تعبیر کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب حکومت کے محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ نوٹیفیکیشن نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے نظام میں موجود فرق کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کو نئے بیسک پے اسکیل 2026 کے تحت بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد سول سیکرٹریٹ الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین میں احساسِ محرومی مزید بڑھ گیا ہے۔

یہ الاؤنس کوئی نئی سہولت نہیں بلکہ 2022 میں اسے 100 فیصد تک بڑھایا گیا تھا، تاہم ہر نئے بیسک پے اسکیل کے نفاذ کے بعد اس کی دوبارہ توثیق کے لیے الگ نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ یہی عمل رواں سال بھی دہرایا گیا ہے۔

پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا طریقہ کار دو مختلف انداز سے نافذ ہوتا ہے۔ عام سرکاری ملازمین کو سالانہ بجٹ کے تحت بنیادی تنخواہ پر محدود ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ سیکرٹریٹ، وزیراعلیٰ آفس اور گورنر ہاؤس کے ملازمین نہ صرف یہی اضافہ حاصل کرتے ہیں بلکہ انہیں نئی بنیادی تنخواہ کے برابر اضافی سیکرٹریٹ الاؤنس بھی ملتا ہے۔ نتیجتاً ایک ہی گریڈ میں کام کرنے والے دو ملازمین کی مجموعی تنخواہ میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گریڈ ایک سے بائیس تک کے سرکاری ملازمین کی تعداد تقریباً 10 سے 11 لاکھ ہے، جن میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، پولیس اہلکار، پیرامیڈیکل عملہ، پٹواری اور ضلعی دفاتر کے ملازمین شامل ہیں، جو براہ راست عوامی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس کے برعکس وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے تمام ملازمین کی مجموعی تعداد صرف سات سے آٹھ ہزار کے درمیان ہے، یعنی کل سرکاری ملازمین کا تقریباً 0.8 فیصد۔ یہی محدود تعداد 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس سے مستفید ہوتی ہے، جبکہ باقی 99 فیصد ملازمین اس اضافی سہولت سے محروم رہتے ہیں۔

سول سیکرٹریٹ الاؤنس کا آغاز پہلے 20 فیصد سے ہوا، پھر اسے 30، 50 اور آخرکار 2022 میں بڑھا کر 100 فیصد کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ بعض انتظامی سروسز کے افسران کو ایگزیکٹو الاؤنس کی صورت میں 100 سے 150 فیصد تک اضافی مراعات بھی دی جاتی رہی ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق سیکرٹریٹ میں پالیسی سازی، کابینہ اجلاسوں کی تیاری، حساس نوعیت کے معاملات اور طویل اوقاتِ کار کی وجہ سے وہاں کام کرنے والے ملازمین پر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ فیلڈ افسران کو سرکاری گاڑی، ایندھن اور دیگر انتظامی سہولیات میسر ہوتی ہیں، جبکہ سیکرٹریٹ کے ملازمین ان سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں مالی مراعات دی جاتی ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، گرینڈ ٹیچرز الائنس اور مختلف ہیلتھ یونینز اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مہنگائی، بجلی، گیس اور روزمرہ اخراجات سیکرٹریٹ اور فیلڈ ملازمین دونوں کے لیے یکساں ہیں۔ ان کے مطابق جب ایک ہی گریڈ میں تعینات سیکشن آفیسر، ہیڈ ماسٹر، ڈاکٹر یا دیگر افسران بنیادی طور پر ایک ہی پے سکیل رکھتے ہیں تو صرف تعیناتی کی جگہ کی بنیاد پر اتنا بڑا مالی فرق پیدا کرنا تنخواہوں کے مساوی نظام کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اسی وجہ سے حالیہ نوٹیفیکیشن نے پنجاب میں سرکاری ملازمین کے درمیان مالی مساوات، مراعات کی تقسیم اور تنخواہوں کے موجودہ ڈھانچے پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ملازمین کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ اگر خصوصی الاؤنس برقرار رکھنا ضروری ہے تو اس کا دائرہ ان تمام شعبوں تک بھی بڑھایا جائے جو براہ راست عوام کو خدمات فراہم کرتے ہیں، تاکہ ایک ہی پے سکیل پر کام کرنے والے ملازمین کے درمیان موجود نمایاں مالی فرق کو کم کیا جا سکے۔

Back to top button