عوامی احتجاجی تحریک انقلاب کب بنتی ہے؟ حقیقت سامنے آ گئی

تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب اور عوامی تحریکیں صرف سیاسی نعروں، احتجاجی جلسوں یا کسی جماعت کی کال سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اصل طاقت عوام کے اعتماد، مشترکہ مقصد اور نظام میں حقیقی تبدیلی کی خواہش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب عوام یہ محسوس کریں کہ جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے تو ایسی تحریکیں وسیع عوامی حمایت حاصل کر لیتی ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں جہاں سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران بڑھ رہا ہے، وہیں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا صرف حکومت کی تبدیلی کو انقلاب کہا جا سکتا ہے یا حقیقی انقلاب وہ ہے جو ریاستی اداروں، جمہوری نظام اور عوامی فلاح کو مضبوط بنائے۔
مبصرین کے مطابق دنیا کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عوامی تحریکیں اور انقلابات محض نعروں، جلسوں یا سیاسی منصوبہ بندی سے کامیاب نہیں ہوتے بلکہ ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ عوام انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب لوگوں کو یقین ہو جائے کہ جدوجہد کسی فرد، جماعت یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد، آئین کی بالادستی، انصاف، اصلاحات، جمہوریت کے استحکام اور سیاسی نظام کی بہتری کے لیے ہو رہی ہے تو وہ بڑی تعداد میں اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اسی لیے تاریخ میں کامیاب عوامی تحریکیں اکثر کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت تک محدود نہیں رہیں۔ بظاہر وہ غیر جماعتی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ ان کا مرکز کسی رہنما کی ذات نہیں بلکہ عوام میں پائی جانے والی مشترکہ بے چینی، احساسِ محرومی اور تبدیلی کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی تحریک صرف کسی ایک جماعت یا رہنما کو اقتدار دلانے کی کوشش محسوس ہونے لگے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ مقصد صرف حکمران تبدیل کرنا ہے، نظام نہیں۔
موجودہ سیاسی حالات میں ایک اہم مسئلہ سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی ہے۔ ماضی کے مقابلے میں عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے، جس کے باعث سیاسی جماعتوں کی احتجاجی کالز اکثر وسیع عوامی حمایت حاصل نہیں کر پاتیں۔ ایسی تحریکوں میں عموماً صرف متعلقہ جماعت کے کارکن یا ہمدرد شریک ہوتے ہیں، جبکہ غیر جانبدار عوام کی بڑی تعداد اس سے دور رہتی ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ حقیقی انقلابات مکمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں آتے۔ اکثر کوئی ایک واقعہ، متنازع فیصلہ، بیان یا حادثہ برسوں سے جمع ہونے والی عوامی بے چینی کو اچانک ایک بڑی تحریک میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایسے مواقع پر لوگ نتائج کی پروا کیے بغیر میدان میں آتے ہیں اور تحریک کی قیادت کسی ایک شخصیت کے بجائے خود عوام کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب کوئی تحریک حقیقی معنوں میں عوامی بن جائے تو پھر اسے صرف سیاسی مذاکرات، وقتی رعایتوں یا محدود سمجھوتوں کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں رہتا، کیونکہ اس کی اصل طاقت عوام کے اجتماعی شعور میں منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں آئین مضبوط ہوتا ہے، جمہوری روایات مستحکم ہوتی ہیں، قانون کی حکمرانی قائم ہوتی ہے، ریاستی ادارے زیادہ جوابدہ بنتے ہیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا بہتر تحفظ ممکن ہوتا ہے یا نہیں۔ حقیقی تبدیلی وہی ہے جو ریاستی نظام کو مضبوط اور عوام کو بااختیار بنائے۔
ہمارے سیاسی ماحول میں "انقلاب” کی اصطلاح اکثر صرف اقتدار کی منتقلی کے لیے استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقی انقلاب نظامی اصلاحات، شفاف حکمرانی، مؤثر احتساب، بروقت انصاف اور عوامی فلاح پر مبنی تبدیلی کا نام ہے۔ صرف ایک حکومت کے جانے اور دوسری کے آنے سے ریاستی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوتا جب تک اداروں کی کارکردگی، قانون کی بالادستی اور حکمرانی کے اصول بہتر نہ ہوں۔
مبصرین کے بقول اس پورے عمل میں نوجوانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کی بیشتر کامیاب عوامی تحریکوں میں نوجوانوں نے ہی تبدیلی کی قیادت کی، تاہم ان کی اصل طاقت صرف جوش و جذبے میں نہیں بلکہ سیاسی شعور، آئینی آگاہی، برداشت، مکالمے اور جمہوری رویوں میں ہوتی ہے۔ اگر نوجوان دلیل، قانون اور آئین کو اپنی جدوجہد کا محور بنائیں تو وہ معاشرے میں مثبت اور پائیدار تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، کیونکہ سوچ بدلتی ہے تو نظام بھی بدلنے لگتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی عوامی تحریک کا جائزہ لیتے وقت بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اقتدار کس کے پاس جائے گا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیا اس جدوجہد سے آئین مضبوط ہوگا، جمہوریت مستحکم ہوگی، ریاستی ادارے زیادہ جوابدہ ہوں گے اور عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے گی یا نہیں۔ اگر مقصد صرف اقتدار کی تبدیلی ہو تو اسے انقلاب کہنا شاید درست نہ ہو، لیکن اگر ہدف انصاف، بہتر حکمرانی، عوامی حقوق کے تحفظ اور مضبوط ریاستی اداروں کا قیام ہو تو یہی جدوجہد حقیقی معنوں میں انقلاب اور پائیدار تبدیلی کہلانے کی مستحق ہے۔
