جج کو بغیر انکوائری ہٹانے سے غلط مثال قائم ہو سکتی ہے
سابق جج شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت عظمیٰ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کسی بھی جج کی برطرفی سے قبل الزامات کی تحقیقات کو لازمی قرار دیتا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق جج شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ نے فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلے میں لکھا کہ تحریک لبیک ٹی ایل پی بھی مدعی تھی تو تحریک لبیک کا مدعا کیا تھا۔
سابق جج شوکت صدیقی کے وکیل نے کہا کہ ٹی ایل پی کی شکایت تھی کہ الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم واپس لی جائیں ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یعنی پٹیشن دھرنے کے دوران 27 نومبر 2017 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے کہا کہ آپ نے کہا یہ اہم فیصلہ تھا جس میں فیض آباد دھرنا ختم کرنے کے معاہدے کا ذکر بھی ہے۔حامد خان نے کہا کہ اس معاہدے کے حوالے سے جسٹس شوکت صدیقی نے دو نکات اٹھائے تھے ، معاہدے پر جنرل فیض کے دستخط بھی تھے ، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے حاضر سروس افسران پر آبزرویشنز بغیر نوٹس کے دیں، کس طرح فاضل جج نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا؟
وکیل حامد خان نے کہا کہ جج نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا، جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا جب فوج اور اس کے حاضر سروس افسران کے خلاف شکایت نہیں تھی تو کیا جج نے ازخود نوٹس لیا تھا۔
حامد خان نے بتایا کہ اگر کوئی غیر قانونی بات سامنے آئے تو عدالت اس پر نوٹس لے سکتی ہے، جسٹس سردار طارق کا کہنا تھا کہ فاضل جج نے حکم میں کہا کہ جو عمل کیا گیا وہ غیر قانونی ہے جس حاضر سروس افسر کے بارے میں کہا کہ غیر قانونی عمل کیا، پھر فوج کا وہی افسر آپ کے گھر میں بیٹھا تھا، کیوں؟
یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن کا وزیراعظم کے دورہ پشاور کا نوٹس
حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الزامات کی انکوائری ضروری ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ انکوائری کے بغیر جج کو نکالنے کی مثال بن گئی تو کسی بھی جج کو کسی بھی بنیاد پر کبھی بھی برطرف کر دیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔
