پولیس اور عدلیہ پاکستان کے دو کرپٹ ترین ادارے قرار

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قانون نافذ کرنے والی پولیس اور انصاف دینے والی عدلیہ دونوں کرپٹ ترین ادارے بن چکے ہیں۔ ملک میں کرپشن کا پیمانہ جانچنے کے لیے کرائے گئے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2021ء کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر میں سب سے زیادہ کرپشن پولیس کے محکمے میں ہوتی ہے اور اس کے بعد عدالتوں میں۔ یعنی جناح کے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والا ادارہ اور انصاف دینے والا ادارہ دونوں ہی مکمل طور پر کرپٹ ہو چکے ہیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کروائے گئے سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت عمران خان حکومت کی نام نہاد خود احتسابی پر مطمئن نہیں ہے۔ سروے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی اہم ترین وجوہات میں پہلے نمبر پر کمزور احتساب، دوسرے نمبر پر طاقت ور لوگوں کی ہوس اور تیسرے نمبر پر کم تنخواہیں ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انصاف کا نعرہ لے کر برسراقتدار رہنے والی تحریک انصاف حکومت کے دور میں انصاف سے متعلقہ دونوں ہی محکمے کرپشن کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سب سے کرپٹ ترین ادارہ پولیس اور اس کے بعد عدلیہ کا نمبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹینڈر اور ٹھیکے دینے کا شعبہ تیسرا کرپٹ ترین شعبہ ہے جہاں رشوت کے بغیر نہ کوئی ٹینڈر کھلتا ہے اور نہ کوئی ٹھیکہ ملتا یے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دیگر کرپٹ ترین شعبوں میں محکمہ صحت کا چوتھا نمبر یے، اسکے بعد لینڈ ریونیو کا محکمہ، پھر بلدیاتی ادارے، اسکے بعد محکمہ تعلیم، پھر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور آخر میں این جی اوز کا سیکٹر آتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق، گزشتہ 20؍ سال کے دوران ادارے کی جانب سے پانچ مرتبہ (2002، 2006، 2009، 2010 اور 2011ء) کرپشن کے متعلق یہی سروے کرایا جا چکا ہے۔ حالیہ سروے 14؍ اکتوبر 2021ء سے 27؍ اکتوبر 2021ء تک ملک کے چاروں صوبوں میں کرایا گیا جس میں عوام نے گورننس سے جڑے اہم ترین معاملات پر اپنی رائے پیش کی ہے۔
 ٹرانسپیرنسی کے مطابق، سروے کے اہم نکات یہ ہیں: کرپشن میں پولیس پہلے جبکہ عدلیہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ٹھیکوں اور ٹینڈرز جاری کرنے کا شعبہ تیسرے، صحت چوتھے نمبر پر کرپٹ ترین شعبہ ہے۔ عدالتی اعداد و شمار کے حوالے سے نیشنل جوڈیشل (پالیسی سازی) کمیٹی کی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ میں 46؍ ہزار 698؍ کیسز جبکہ ضلعی عدالتوں میں 17؍ لاکھ 72؍ ہزار 990؍ کیسز زیر التوا ہیں۔ لوگوں کی اکثریت یعنی 85.9؍ فیصد نے حکومت کے خود احتسابی کے معاملے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ پاکستانی عوام کی اکثریت اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ سرکاری شعبے میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔  پولیس میں 41.4؍ جبکہ عدلیہ میں 17.4، ٹھیکوں اور ٹینڈرز میں 10.3؍ فیصد کرپشن ہے اور عوام کے مطابق یہ تینوں ادارے سب سے زیادہ کرپٹ ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں میں 59.8؍ فیصد، صفائی اور کچرا جمع کرنے کے ٹھیکوں میں 13.8؍ فیصد، پانی کی فراہمی میں 13.3؍ فیصد اور ڈرینج سسٹم کے شعبے میں 13.1؍ فیصد کرپشن ہوتی ہے اور پبلک سروس کے اہم ترین شعبہ جات میں عوام کو سہولتیں حاصل کرنے کیلئے رشوتیں دینا پڑتی ہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق کرپشن کی اہم ترین وجوہات کمزور احتساب، طاقتور لوگوں کی ہوس، اور کم تنخواہیں بتائی گئی ہیں۔ کرپشن کم کرنے کیلئے لوگوں نے جو اقدامات تجویز کیے ان میں 40.1؍ فیصد نے کہا ہے کہ سخت سزائیں دی جائیں، 34.6؍ فیصد نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے کرپشن کیسز کو ہینڈل کرنے میں بہتری لاکر سرکاری ملازمین کا احتساب کیا جائے، 25.3؍ فیصد نے کہا ہے کہ کرپشن میں سزا پانے والوں کو عوامی عہدوں سے ہمیشہ کیلئے نا اہل کر دیا جائے۔ 
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا وزیراعظم کے دورہ پشاور کا نوٹس
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سروے میں بلدیاتی حکومتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ان حکومتوں کی موجودگی سے پاکستان کورونا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بہترین انداز سے نمٹ سکتا تھا۔ 47.8؍ فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اگر بلدیاتی حکومتوں کے منتخب نمائندے اپنے عہدوں پر ہوتے تو کورونا کے حوالے سے آگہی مہم موثر انداز سے شروع کی جا سکتی تھی۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت 72.8؍ فیصد کی رائے ہے کہ نچلی سطح پر سرکاری شعبوں میں کرپشن بڑھنے کی وجہ بلدیاتی حکومتوں کی غیر موجودگی ہے۔ 89.1؍ فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ کورونا کے حوالے سے حکومت کی ریلیف کی کوششوں کے دوران انہوں نے کوئی رشوت نہیں دی۔ 81.4؍ فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ وہ اپنی مرضی سے رشوت نہیں دیتے اور واضح طور پر یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی کے معاملات میں جان بوجھ کر کام نہ کرکے زبردستی رشوت لی جاتی ہے۔ تین وفاقی حکومتوں کے تقابلے کے لحاظ سے پاکستانیوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی کے دور یعنی (2018 تا 2021) میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ نون لیگ کے دور یعنی (2013 تا 2018) میں یہ 4.6؍ فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کے دور یعنی (2008 تا 2013) میں یہ صرف 2.5؍ فیصد تھی۔  پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد یعنی 85.9؍ فیصد نے بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ان کی آمدنی سکڑ کر کم ہوگئی ہے۔

Back to top button