مریم اور حمزہ کے گانے پر کن لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے؟


مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف، ان کے بیٹے جنید صفدر اور مریم کے کزن حمزہ شہباز کی شادی کی تقریب میں گانے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے جن پر مریم نواز نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا ایک ذاتی معاملہ ہے لہذا اس پر بلاوجہ تبصروں سے پرہیز کیا جائے۔
جہاں مریم نواز اسے ایک ذاتی معاملہ قرار دے رہی ہیں وہیں سوشل میڈیا پر کوئی ان کے گانوں کی تعریف کر رہا ہے تو کسی کو یہ تکلیف ہے کہ سیاسی شخصیات ہونے کے باوجود حمزہ شہباز اور مریم نواز نے گانے کیوں گائے۔ حسب سابق کئی یوتھیے سوشل میڈیا صارفین یہ عجیب و غریب مطالبہ بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ مریم اور حمزہ کو گانے سے پہلے خود پر لگے الزامات کا حساب دینا چاہیے تھا۔ ایسی ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے نون لیگ کے متوالوں نے جواباً کہا ہے کہ مریم اور شہباز کے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز نیب میں برس ہا برس سے پڑے ہیں لیکن چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو اپنی قابل اعتراض ویڈیوز بنانے سے ہی فرصت نہیں۔
اس بحث کا آغاز تب ہوا جب مریم کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کے فنکشنز کی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوئیں جن میں نہ صرف حمزہ شہباز بلکہ مریم نواز بھی شادی کی خوشی میں گاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ وائرل ویڈیوز میں مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والی مریم نواز اور مفاہمتی بیانیے کے امین حمزہ شہباز کو سٹیج کے سامنے صوفے پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں حمزہ شہباز کو مریم نواز، اُن کے شوہر کیپٹن صفدر اور دیگر افراد کی موجودگی میں بھی گانا گاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد رنگ برنگے تبصرے شروع ہوئے تو مریم نواز نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اُن کے بیٹے کی شادی ایک نجی، خاندانی معاملہ ہے اور ایک ماں کے طور پر اُن کا بھی حق ہے کہ وہ سیاسی تبصروں کی زد میں آئے بغیر اس موقعے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ دوسری طرف سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خاندان کی ان ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جہاں ان ویڈیوز پر خوشی کا اظہار کیا، وہیں انھیں ’نارمل‘ اور نجی معاملہ قرار دیا، انکا کہنا تھا کہ شادی کے مواقع پر تمام گھروں میں اسی طرح کی محفلیں سجائی جاتی ہے اور اس میں کوئی بری بات نہیں، مگر وہ آخر میں اپنا سیاسی مؤقف بھی دے گئے۔ انکا کہنا تھا کہ اُنھیں تو یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا کیونکہ ایک نارمل پاکستان ایسا ہی ہونا چاہیے ہے۔ لیکن پھر اُنھوں نے یہ کہہ دیا کہ شریف خاندان کی نجی زندگی میں جو بھی خوشیاں آئی ہیں، وہ اُن کو مبارک ہوں، ہمارا تو ان سے صرف اتنا سا سیاسی اختلاف ہے کہ وہ۔پاکستان کے لوٹے ہوئے پیسے واپس کر دیں۔‘
دوسری جانب مریم نواز اور حمزہ شہباز کے گانے کی ویڈیوز مسلسل سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں اور لوگ تبصروں سے باز نہیں آ رہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کی بھی گانے کی ایک مختصر ویڈیو سامنے آ چکی ہے لیکن وہ شادی کے فنکشن کی نہیں۔ ٹی وی پروڈیوسر عدیل راجہ نے مریم نواز کے گانے کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مریم اچھا گا لیتی ہیں مگر وہ جنید صفدر کے قریب تر بھی نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ شریف خاندان میں گانے کا مقابلہ اُن کے خیال میں جنید صفدر نے جیتا۔ خاتون صحافی جویریہ صدیق نے لکھا کہ مریم نواز گانے میں بھی بہت اچھی ہیں۔ مریم کی ہم نام ٹوئٹر صارف نے کہا کہ حمزہ بہتر ہیں، مگر جنید دونوں سے بہت اچھے ہیں۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ باقی سب چھوڑیں، میاں صاحب کے علاوہ شریف خاندان میں سب ہی اچھی آواز رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ویسے یہ ان کے لیے اچھا کیریئر آپشن ہے۔ مرزا فرّخ نے لکھا کہ مریم کو اپنے بیٹے کی شادی میں گاتا سن کر اندازہ ہوا ہے کہ وہ کئی پروفیشنل گلوکاروں سے اچھا گاتی ہیں۔ خاتون صحافی عالیہ رشید نے لکھا کہ مریم نواز کی آواز بہت خوبصورت ہے۔ ساتھ ہی اُنھوں نے لکھا کہ دوستو، ایک لمحے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھو اور گانے کا مزہ لو۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ کھیلوں، کتابوں اور فنونِ لطیفہ سے مزاج بہتر ہو جاتا ہے، یہ بھی یاد رکھیں کہ سیاسی شخصیات اچھوت نہیں ہوتیں بلکہ اُن کا ایسا لطیف پہلو اُنھیں زیادہ نارمل بناتا ہے۔
تاہم کئی سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی تھے جنہوں نے اس معاملے پر سنجیدہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے گانے کی تعریف کرنے کی بجائے اس سارے معاملے کو سیاسی حالات کے تناظر میں ہی دیکھا۔ صارف کامران علی خان شیروانی نے مریم کی جانب سے اسے ایک خاندانی اور نجی معاملہ قرار دینے پر سوال کیا کہ جو لوگ ویڈیو بنا رہے تھے وہ آپ کے سامنے بیٹھے تھے، کیا آپ اُنھیں روک نہیں سکتی تھیں؟ ایک اور صارف ندیم احمد نے مریم کے جواب میں کہا کہ پرائیویٹ محفل کو پرائیویٹ ہی رکھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ کو خوشیاں منانے کا پورا حق ہے لیکن جب ایسی تقاریب سے ویڈیوز باہر آتی ہیں تو مہنگائی اور بھوک کے شکار لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔
کچھ ٹوئٹر صارفین نے مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ جب وہ وزیرِ اعظم عمران خان کی نجی زندگی کی رازداری کا خیال نہیں رکھتیں اور اُن کے مطابق خاتونِ اوّل کو بھی سیاسی مباحثے میں شامل کر لیتی ہیں، تو پھر وہ اپنے بیٹے کی شادی میں کس طرح رازداری کا تقاضہ کر رہی ہیں؟ صارف محمد ہارون نے لکھا کہ مریم نواز کی یہ بات درست ہے کہ اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے، مگر اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کا بھی حق ہے کہ اگر وہ پردہ کرتی اور مذہبی لگاؤ رکھتی ہیں تو اُن پر سیاسی تبصرے نہ کیے جائیں۔ اس تبصرے پر ایک لیگی متوالے نے جوابی ٹوئٹ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ آپ خان صاحب کی کونسی والی اہلیہ کی بات کر رہے ہیں؟ پہلی، دوسری، یا تیسری؟

Back to top button