جسٹس بندیال ٹرک والے جج کیخلاف کارروائی سے گریزاں کیوں؟

سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف شکنجہ کستا نظر آتا ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس دبائے جانے کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور درخواست دائر کر دی ہے۔جس کی نقول چیف جسٹس پاکستان عمر عطابندیال سمیت سپریم جوڈیشل کمیشن کے دیگر ممبران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی مالی بدعنوانیوں، عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کے ذریعے اپنے اور فیملی کے اثاثوں میں غیرقانونی اضافے کیخلاف درخواست گزار نے 23 فروری 2023 سے ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کر رکھا ہے جس میں اہم اور مصدقہ معلومات اور ناقابل تردید ثبوت فراہم کئے ہیں تاہم 4 مہینے کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس پرکوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔ درخواست میں اہم صورتحال کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو مختلف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان عدالتی تاریخ کے سب سے کرپٹ جج جسٹس مظاہر نقوی کو مسلسل تحفظ فراہم کر رہے ہیں اورانہیں بچانے کیلئے ریفرنس کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کر رہے ہیں۔ درخواست میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف کرپشن ریفرنس کی فوری سماعت کر کے فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور مبینہ مالی بدعنوانی سے متعلق پاکستان بار کونسل وغیرہ کی شکایات پرباقاعدہ کاروائی کا آغاز کیا تھا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف دائر متعدد شکایات پر جسٹس سردار طارق مسعود سے رائے طلب کی تھی۔ تاہم بعد ازاں پھر اس کیس کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس ،عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ،جسٹس سردارطارق مسعود،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد احمد علی شیخ ،اورلاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی جسٹس مظاہر نقوی کی آمدن اور اثاثوں بارے تحقیقات کر رہی ہے۔پی اے سی نے ایف بی آر، ایف آئی اے، نیب سے جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں، جسٹس مظاہر نقوی کی آمدن اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کا معاملہ قومی اسمبلی نے پی اے سی کے سپرد کیا تھا۔

پی اے سی نے ایف بی آر میں جسٹس مظاہر علی نقوی کی ریٹرن میں شامل اثاثوں کی تفصیلات اور ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ بھی مانگ رکھا ہے۔کمیٹی نے جسٹس مظاہر علی نقوی کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات بھی سیکرٹری ہاؤسنگ سے طلب کرنے کے علاوہ جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے بیچی گئی زمینوں یا پلاٹس کا ریکارڈ بھی مانگ رکھا ہے۔کمیٹی نے جسٹس مظاہر نقوی کے بیرون ملک سفر کرنے کا ریکارڈ بھی طلب کر رکھا ہے اور ہدایت کی ہے کہ آڈیٹر جنرل مظاہر علی نقوی کے پلاٹس کی کیٹگریز کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرائیں جبکہ نادرا جسٹس مظاہر علی نقوی کے خاندان میں شامل افراد کے نام کی لسٹ فراہم کرے۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے شکایات میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جسٹس سردار طارق مسعود اِس وقت چیف جسٹس اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے تیسرے سینیئر ترین جج ہیں اور 5 رکنی سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں۔جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات مسلم لیگ (ن) لائرز فورم، پاکستان بار کونسل ، سندھ بار کونسل، لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل ایڈووکیٹ میاں داؤد اور ایڈووکیٹ غلام مرتضیٰ خان سمیت دیگر نے دائر کی ہیں۔جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف بلوچستان اور خیبرپختونخوا بار کونسل کے علاوہ سندھ بار کونسل بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزامات کی تحقیقات کی درخواست جمع کروا چکی ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش تین آڈیو ٹیپس میں بظاہر چوہدری پرویز الہٰی مختلف افراد سے گفتگو کر رہے ہیں، جن میں اپنے کیسز جسٹس مظاہر نقوی کے پاس لگوانا بارے گفتگو کر رہے ہیں۔ بعد ازاں تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چودھری کی گفتگو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ جسٹس مظاہر نقوی بارے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر ٹرک کھڑے ہونے کا اشارہ دے رہے تھے جس پر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ٹرک کو پیسوں کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ چودھری پرویز الٰہی کے دست راست اور پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے سامنے آنے والے ویڈیو اعترافی بیان میں بھی انھوں نے تصدیق کی تھی  کہ تحریک انصاف کے سپریم کورٹ کے کیسز اور لاہور ہائیکورٹ کے کیسز جسٹس مظاہر نقوی مینج کرتے تھے اور اس کے بدلے انھیں نوازا بھی جاتا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دائر کردہ 7 شکایات پر کارروائی کرنے اور سامنے آنے والی آڈیوز اور ویڈیوز بارے تحقیقات کئے بغیر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال آڈیوز اور ویڈیوز کو غیر اہم قرار دے کر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اب بھی جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف درج شکایات پر کوئی کارراوائی کرتے ہیں یا یا ماضی کی طرح جسٹس مظاہر نقوی کو کسی اور اہم کیس کی سماعت کے لئے ساتھ بٹھا کر خاموش پیغام دیتے ہیں کہ میں تمام تر الزامات اور ثبوتوں کے باوجود اب بھی جسٹس مظاہر نقوی کے ساتھ کھڑا ہوں

Back to top button