جمال خاشقجی قتل: پانچ ملزمان کی سزائے موت ختم، 8افراد کو جیل

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کی سزائے موت کی سزا تبدیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 افراد کو 7 سے 20سال کے درمیان قید کی سزا سنا دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالت نے قتل کے الزام میں پانچ افراد کو 20سال قید کی سزا سنائی جبکہ تین افراد کو 7 سے 10سال کے درمیان قید کی سزا سنائی گئی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق عدالت نے 5 افراد کو 20سال قید کی سزا سنائی جبکہ 3 افراد کو 7 سے 10سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالت کا حتمی فیصلہ مئی میں جمال خاشقجی کے بیٹوں کی جانب سے ملزمان کو معافی دیے جانے کے بعد سامنے آیا جس کے بعد اب ان افراد کو سزائے موت تو نہیں دی جائے گی البتہ انہیں قید میں رکھا جائے گا۔
سعودی عرب کی عدالت نے اس سے قبل قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کا دورہ کرنے والے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی لاپتہ ہو گئے تھے اور بعدازاں ترک حکام نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔صحافی کی لاش نہیں مل سکی تھی اور رپورٹس کے مطابق ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے نالے میں بہا دیا گیا تھا۔59سالہ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سعودی عرب کی پالیسیوں کے بڑے ناقد تھے اور ممکنہ طور پر اسی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا اور ان کے قتل کا الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کیا گیا تھا۔صحافی کے قتل کا حکم دینے کے حوالے سے محمد بن سلمان کے کردار پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے کیونکہ سی آئی اے سمیت دنیا کی مختلف خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد کو قتل کے اس منصوبے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔
سعودی حکومت نے ابتدائی طور پر اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا لیکن بعدازاں دباؤ پڑنے پر ذمے داری آپریشن کرنے والوں پر ڈال دی ہے۔ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی ایگنس کیلامرڈ نے کہا تھا کہ اس بات کے معتبر ثبوت ملے تھے کہ ولی عہد براہ راست اس قتل میں ملوث تھے اور ان کی ایما پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی محمد بن سلمان پر انگلیاں اٹھائی تھیں جس سے سعود ولی عہد کی عالمی سطح پر ساکھ کو کافی دھچکا لگا تھا۔اس قتل کے بعد سعودی عرب اور اور ترکی کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے اور رواں سال مارچ میں ترکی نے صحافی کے قتل کے الزام میں ولی عہد کے دو قریبی ساتھیوں سمیت 20 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔اس فرد جرم کے مطابق سعودی عرب کے سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد ال اسیری پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قتل کے لیے ہٹ ٹیم قائم کر کے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کو انجام دیا۔
سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2017 سے امریکا میں مقیم تھے۔تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔
سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔
علاوہ ازیں امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔رواں برس جنوری میں ریاض کی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم اقوام متحدہ نے ٹرائل کو ‘ناکافی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ٹرائل کی شفافیت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔
بعدازاں اپریل میں ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس میں جن 11 افراد کے خلاف ٹرائل چل رہا ہے ان میں سعودی ولی عہد کے شاہی مشیر سعود القحطانی شامل نہیں ہیں۔اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔بعدازاں جون میں اقوام متحدہ نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔اس دوران سعودی عرب کی جانب سے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے 4 بچوں کو ‘خون بہا’ میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دینے کا انکشاف بھی سامنے آیا تاہم جمال خاشقجی کے خاندان نے سعودی انتظامیہ سے عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کی تردید کردی تھی۔رواں سال مئی میں جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح خاشقجی نے کہا تھا کہ ان کے اہلخانہ نے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔
