ن لیگ کا ایجنڈا اِن ہاؤس تبدیلی نہیں، مڈٹرم انتخابات ہیں

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ن لیگ کا ایجنڈا اِن ہاؤس تبدیلی نہیں، مڈٹرم انتخابات ہیں، اے پی سی میں استعفوں کا فیصلہ ہوا تو ن لیگ تیار ہے، حکومتی اتحادیوں سے رابطے ہیں، وہ کچھ شرائط پر ہمارے ساتھ چلنے کو تیارہیں۔ عمران خان نے عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور نہ کرکے اپنی لئے مشکل کھڑی کرلی
نجی ٹی وی چینل میں ایک پروگرام کے دوران گفتگو کرتے پوئے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں اسمبلیوں سے مسعتعفی ہونے سمیت تمام فیصلوں پر عمل کیا جائے گا. پیپلز پارٹی ان ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن ملک میں عام انتخابات کیلئے کوشاں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اتحادی کچھ شرائط پر ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ ق لیگ، ایم کیوایم اور مینگل گروپ سے مسلم لیگ ن کے رابطے ہیں۔ میں نام لوں گا تو حکومت اتحادیوں سے جواب ما نگے گی۔ اس لیے ان کیلئے مشکل پیدا ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف علاج کی غرض سے لندن گئے ، مکمل صحتیابی کے بعد وطن واپس آجائیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہاں پر ہوں تو اچھا ہو گا لیکن جیل میں انہیں صحت کی سہولیات ملنا ممکن نہیں اس وجہ سے نواز شریف کسی حادثے سے دوچار بھی ہو سکتے ہیں۔ مشاورتی اجلاس میں نوازشریف نے کہا کہ پارٹی واپسی کا فیصلہ کرے تو آنے کو تیار ہیں۔رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ یہاں جیل میں نوازشریف کو ہارٹ اٹیک ہوا تو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا، ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر نوازشریف کو پلیٹ لٹیس کا ٹیکہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان نے عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور نہ کرکے اپنی لئے مشکل کھڑی کرلی اور ان کو بھی مشکل میں ڈالا ہے، جو گڑھا نوازشریف کیلئے کھود کر دھکا دیا گیا آج سب اس گڑھے میں گررہے ہیں۔
رانا ثنااللہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ سیاستدان یا آپکا نام نوازشریف ہے تو آپ کا کڑا احتساب ہوگا، اگر آپ کا نام کچھ اور ہے تو ہر جواب تسلی بخش اور کاروبار درست ہوگا، انھوں نے مزید کہا کہ اگر عاصم باجوہ کے انیس ہزار ڈالر اٹھارہ سال میں چھ ارب تہتر کروڑ روپے بن جائے تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ باہر بچوں کے کم وقت میں ترقی کو یہ تسلیم کرتے رہے آج اسی بات کا دفاع کررہے ہیں۔ عاصم باجوہ کا استعفیٰ دینا درست اور وزیر اعظم کا منظور نہ کرنا غلط عمل ہے۔ عمران خان کے پاس کوئی اصول نہیں صرف ہمارے خلاف بغض تکبر اور نفرت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button