کیا ماہا نے خودکشی نہیں کی؟ گھر والوں نے قتل کیا؟

ڈیفنس کراچی میں ڈاکٹر ماہا علی کی مبینہ خودکشی کی وجہ بننے کے کیس میں نامزد مرکزی ملزم جنید خان نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے متوفیہ کی زندگی کے آخری 30 منٹ کے حالات و واقعات کی تفتیش پر زور دیا ہے اور اس شک کا اظہار کیا ہے کہ ماہا کو اس کے گھر والوں نے گولی مار کر قتل کیا ہے۔ یاد رہے کہ معروف پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ نے بھی پچھلے ہفتے اسی خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ماہا نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے گھر والوں نے قتل کیا ہے۔ اشنا شاہ نے کہا تھا کہ اگر ماہا نے خودکشی کی تھی تو پھر گولی اس کے سر کے پچھلے حصے میں کیسے لگی۔ چنانچہ پولیس نے بھی اسی لائن پر تفتیش شروع کر رکھی تھی۔ اب جنید خان نے بھی سامنے آ کر آشنا شاہ والا الزام ہی دھرا دیا ہے۔
یاد رہے کہ جنید خان ماہا کی خودکشی کے بعد سے منظر عام سے غائب تھا۔ تاہم اب اس نے نے ثبوتوں کے ساتھ میڈیا اور پولیس کو رابطہ کیا ہے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنید خان نے ماہا علی سے گزشتہ چار سال سے قائم تعلقات کو اس کی موت تک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ جنید کے مطابق سال 2016 کے آخر میں اس کی ڈاکٹر ماہا علی سے ملاقات ہوئی، جو پہلے دوستی اور پھر محبت میں بدل گئی، اسکا کہنا ہے کہ ہم دونوں شادی کرنا چاہتے تھے مگر ماہا علی نے پیشہ وارانہ امتحان تک انتظار کرنے کا کہا تھا۔
ڈاکٹر ماہا علی کے والد پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے جنید خان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہا کو قتل کیا گیا، اس کی موت کا سبب اس کے گھریلو حالات ہیں۔ جنید نے اپنے واٹس ایپ پر موبائل فون چیٹنگ کے اسکرین شاٹس کا ریکارڈ بھی میڈیا کو فراہم کیا، جس کے مطابق 19 جولائی کو اس کی سالگرہ پر ماہا علی شاہ نے بہترین برتھ ڈے کارڈ بنا کر دیا اور ویلنٹائن ڈے پر ماہا علی نے اپنے ہاتھ سے تیار کردہ کارڈ بھیجے۔ جنید خان نے ماہا علی کے والد آصف علی شاہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے ماہا علی شاہ پر کبھی تشدد کیا اور نہ ہی اسے بلیک میل کیا۔
جنید خان کے مطابق ان پر ڈرگ ڈیلر ہونے کے من گھڑت الزامات لگائے گئے جبکہ موت سے ایک دن قبل ماہا علی شاہ نے اس کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی، اکٹھے ڈنر کیا اور میں نے رات کو اسے گھر چھوڑا۔ اسکاکہنا ہے کہ وقوعہ کے روز 18 اگست کو رات 9 بج کر 50 منٹ پر وہ ماہا کے گھر پر چاکلیٹ ڈراپ کرکے گیا، ماہا علی نے چاکلیٹ بھجوانے پر شکریہ کا میسج کیا، رات دس بج کر 24 منٹ پر ماہاعلی کو محبت بھرا پیغام بھیجا، جس پر اس نے آئی لو یو ٹو کہا، رات دس بج کر 34 منٹ پر ماہا علی نے وہ پیغام پڑھا مگر اس وقت تک کوئی خلاف ضابطہ بات نہیں تھی۔ جنید خان کے مطابق رات 11 بج کر 7 منٹ پر ماہا علی مبینہ طور پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئی، لیکن گھر کے سامنے تھانہ ہونے کے باوجود اسکے والد آصف علی شاہ نے مددگار 15 پر کال ہیںکی، پھر اسے تاخیر سے اسپتال بھیجا گیا، جنید کے مطابق ماہا کے بھائی نے فون کرکے اسے گولی لگنے کی اطلاع دی۔
جنید خان کا کہنا یے کہ آصف علی شاہ نے ماہا کا پوسٹ مارٹم کرنے سے منع کیا، ماہا کی خودکشی کی وجہ وہ نہیں بلکہ آخری آدھے گھنٹے کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات ہیں، جن پر پولیس کو اسکے گھر والوں سے تحقیقات کرنی چاہیے۔ جنید کے مطابق ماہا علی نے خودکشی کی یا اسے قتل کیا گیا پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کی قبرکشائی ضروری ہے، اس لیے مطالبہ کرتا ہوں کہ معاملے کی چھان بین کےلیے مشترکہ تفتیشی ٹیم بنائی جائے۔
