جنرل باجوہ عمران خان کے کونسے راز چھپائے بیٹھے ہیں

پراجیکٹ عمران کے معمار سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلہ کیا ہے کہ انہوں نے عمران خان پر جتنے احسانات کئے اور انہیں اٹھا کر جہاں تک پہنچایا، اس کے بعد ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک کسی بھی صورت جائز نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ جواب دینے پر اتر آئے تو طوفان برپا ہو جائے گا۔ باجوہ عمران اور ان کی جماعت کی جانب سے خود کو میر صادق اور میر جعفر کے القابات دینے اور غداری کے طعنوں پر سخت رنجیدہ ہیں لیکن جواب نہیں دینا چاہتے۔ تاہم ان کو خدشہ ہے کہیں ان کی طرح نئے آرمی چیف کے خلاف بھی ٹرولنگ نہ شروع ہو جائے۔ باجوہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان سے اور فوج سے ماضی میں بہت غلطیاں ہوئیں جن سے دونوں نے سبق سیکھا ہے اور آئندہ ویسی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں۔ انکا کہنا ہے کہ بطور آرمی چیف انکے لیے بہت آسان تھا کہ وہ عمران خان کو سپورٹ کرتے رہتے، اپنی مدت پوری کرتے اور رخصت ہو جاتے لیکن ایسا کرنا پاکستان اور جمہوریت کے لیے خطرناک تھا چنانچہ انھوں نے اپنی قربانی دے دی۔ جنرل باجوہ ایکسٹینشن کو اپنی بڑی غلطی سمجھتے ہیں اور اس پر انھیں بہت افسوس ہے مگر انکا دعوی ہے کہ عمران خان نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کیا تھا، یہ اور بات کہ ان سے انکار نہ ہو پایا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری جنرل باجوہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تفصیلی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا دور اچھا تھا یا برا ‘ اس کا پاکستان اور فوج کو فائدہ ہوا یا نقصان یہ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ تاہم یہ حقیقت ہے ان کے چھ سال بہت ہنگامہ خیز تھے۔ ان کے دور میں بین الاقوامی تبدیلیاں بھی آئیں اور ملک بھی سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا چنانچہ مستقبل کی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں کوچین‘ بھارت‘ افغانستان‘ امریکا‘ یو اے ای‘ سعودی عرب اور روس سے ڈیل کرنے کے لیے بار بار جنرل باجوہ سے مشورے کی ضرورت رہے گی کیوں کہ ان تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات میں جنرل صاحب نے کام بھی کیا اور ان کی قیادت سے ذاتی تعلقات بھی استوار کیے۔
جاوید چودھری بتاتے ہیں کہ مجھے 22 دسمبر کو جنرل باجوہ کے ساتھ 6 گھنٹے گزارنے کا موقع ملا‘ وہ اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہو چکے ہیں‘ جو ان کی بیگم نے خود بنوایا ہے‘ جنرل باجوہ سے تقریبا ًہر موضوع پر گفتگو ہوئی، لیکن وہ عمران خان کی احسان فراموشی پر کافی رنجیدہ تھے۔ انکا کہنا تھا کہ سیاست فوج کا کام نہیں اور یہ جب بھی سیاست میں آئی اس سے پاکستان کا نقصان ہوا۔ جنرل باجوہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو سیاست سے باہر نکال کر انھوں نے اپنی قربانی دے دی لیکن فوج کو بچا لیا‘ انکے مطابق یہ ان کے لیے بہت آسان تھا کہ عمران خان کو سپورٹ کرتے رہتے‘ اپنی مدت پوری کرتے اور عمران سے اپنے حق میں الوداعی تقریر کروا کر گھر چلے جاتے لیکن یہ ملک اور جمہوریت کے لیے خطرناک تھا چنانچہ انھوں نے اپنی قربانی دے دی۔ تاہم جنرل باجوہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے کیا قربانی دی، اگر قربانی سے ان کا مطلب ایک اور ایکسٹینشن نہ لینا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ انہیں عمران خان کی جانب سے تجویز آنے کے باوجود توسیع دینے سے انکار کر دیا گیا تھا کیوں کہ نواز شریف اور آصف زرداری دونوں ہی ایسا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی فوج کے ادارے کو یہ تجویز قابل قبول تھی۔
تاہم جنرل باجوا کا اصرار تھا کہ انہیں پہلی ایکسٹینشن بھی عمران خان نے زبردستی دی اور انہیں آخری لمحے تک اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔ حالانکہ آج جنرل باجوہ ایکسٹینشن حاصل کرنے کے فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایکسٹینشن زبردستی نہیں دی گئی تھی اور وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر سکتے تھے۔ بقول جاوید چودھری جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن قبول کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان‘ بھارت اور داخلی معاملات اس وقت تک اتنے الجھ چکے تھے کہ وہ مجبور ہو گئے۔ لیکن اسکے باوجود وہ اسے اپنی غلطی سمجھتے ہیں۔
جنرل قمر باجوہ نے سینئر صحافی کو بتایا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں ہی رہیں گے اور کسی دوسرے ملک میں عارضی یا مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے۔ باجوہ میر صادق اور میر جعفر کے خطاب‘ غداری کے ٹائٹل اور سازش کے بیانیے پر کافی مغموم ہیں‘ کیونکہ انہوں نے عمران خان پر جتنے احسانات کئے تھے اس کے جواب میں وہ ایسے رویے کی امید نہیں رکھتے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ جو کچھ وہ عمران خان کے حوالے سے جانتے ہیں، اگر اس کا پانچ فیصد بھی بیان کر دیں تو موصوف کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی لیکن وہ جواب نہیں دینا چاہتے۔ باجوہ اپنے ٹوئن پوتوں کے ساتھ ریٹائر زندگی انجوائے کرنا چاہتے ہیں‘ انکے بقول وہ اپنا کیس اللہ پر چھوڑ چکے ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ماضی میں بہت غلطیاں ہوئیں‘ جو کہ دہرانی نہیں چاہییں۔
جنرل باجوہ اپنے سابقہ دست راست لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی بھی تعریف کرتے ہیں اور جنرل عاصم منیر کے پروفیشنل ازم کے بھی معترف ہیں‘ انکے مطابق جنرل عاصم عربی زبان جانتے ہیں‘ گلف کے تمام معاملات کواچھی طرح سمجھتے ہیں‘ انکے شاہی خاندانوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ وہ ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی ایس آئی رہے ہیں‘ مکمل سولجر ہیں اور ہر قسم کا پریشر برداشت کر لیتے ہیں لہٰذا وہ فوج اور اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے آسانی سے نمٹ لیں گے۔ تاہم ان کو خدشہ ہے کہیں ان کی طرح نئے آرمی چیف کے خلاف بھی ٹرولنگ نہ شروع ہو جائے۔ ان کے مطابق اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا‘ جنرل باجوہ گرینڈ ڈائیلاگ اور جمہوریت دونوں کے حامی بھی ہیں اور کھلے دل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن اتنے احسانات کے بعد انھیں عمران خان سے اس رویے کی ہرگز توقع نہیں تھی۔
فیض حمید سے اختلافات کے تاثر کو رد کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے بتایا کہ وہ فیض کے ساتھ مل کر ویلفیئر کا ایک پروجیکٹ بھی بنا رہے ہیں‘ نون لیگ رہنما ملک محمد احمد خان باجوہ کے سمدھی صابر مٹھو کے دوست ہیں اور انکے ذریعے ان سے انکا رابطہ بھی رہا لیکن ان ملاقاتوں کے دوران کبھی ملک محمد احمد خان نے عمران خان کے خلاف بات کی اور نہ جنرل صاحب نے انھیں کرنے دی۔ باجوہ صاحب نے بتایا کہ لیگی رہنما محمد زبیر انکے ماموں زاد انجم وڑائچ کے دوست اور کلاس فیلو ہیں‘ اور وہ انجم وڑائچ کے ریفرنس سے انھیں ملتے تھے‘ علیم خان کے سسر راجہ محمد صابر ان کے سسر جنرل اعجاز امجد کے دوست تھے اور اس تعلق سے ان کی علیم خان سے تین ملاقاتیں ہوئیں‘ جہانگیر ترین عمران خان کو لے کر پہلی بار ان ہی کے گھر آئے تھے‘ باجوہ عمران خان کی چند خوبیوں کے آج بھی معترف ہیں تاہم وہ بار بار ذکر کرتے ہیں کہ نواز شریف نے انھیں ہمیشہ عزت دی۔ ان کی میاں نواز شریف سے 2017 کے بعد صرف ایک بار ٹیلی فون پر بات ہوئی اور وہ بھی انھوں نے بیگم کلثوم کے انتقال پر تعزیت کے لیے میاں صاحب کو فون کیا تھا‘ باجوہ عمران کی کابینہ کے چند وزراء کی کارکردگی اور محنت کی تعریف کرتے ہیں بالخصوص حفیظ شیخ کی اپروچ کو یاد کرتے ہیں‘ وہ فروغ نسیم کی بھی تعریف کرتے ہیں‘ لیکن عثمان بزدار اور شہزاد اکبر کو عمران کی ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ بقول جاوید چوہدری، جنرل باجوہ سمجھتے ہیں کہ ملک صرف جمہوریت‘ معاشی استحکام اور ڈائیلاگ سے چل سکتا ہے‘ اور سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے تاکہ فوج مکمل طور پر غیر سیاسی ہو کر سکیورٹی پر توجہ دے سکے۔
