جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہونے سے پہلے ہی بند کر دیا گیا

ہر وعدے اور دعوے سے یوٹرن لینے والی کپتان سرکار نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے وعدے سے منہ پھیر لینے کے بعد اب وہاں قائم علیحدہ سیکرٹریٹ بھی فعال ہونے سے پہلے ہی بند کر دیا ہے اور وہاں تعینات سینئر افسران کو بھی واپس لاہور بلا لیا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی پہلے 100دن کے اندر جنوبی پنجاب صوبہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ حسب توقع جنوبی پنجاب صوبہ تو نہ بن پایا لیکن کچھ عرصہ پہلے جنوبی پنجاب محاذ کے حکومتی وزرا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ملتان میں جنوبی پنجاب کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا جہاں 20 محکموں کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر افسران کی تقرریاں بھی کر دی گئیں۔ تاہم اب اچانک ملتان میں قائم جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تعینات سات محکموں کے سیکرٹری لاہور واپس بلا لیے گئے ہیں جس سے یہ محکمے فعال ہونے سے پہلے ہی بند ہو گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق رولز آف پروسیجرز بنائے بغیر جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ میں سیکرٹریوں کی تقرریوں سے سرکاری افسران اپنے دفتری امور قانونی طور پر انجام نہیں دے سکتے تھے لہازا فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے اس حوالے سے قانون سازی کی جائے اور پھر دوبارہ تقرریاں کی جائیں۔
دوسری جانب جنوبی پنجاب محاذ سے وابستہ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک علیھدہ صوبہ بنانے کی بجائے اس خطے کے عوام کو ایک الگ سیکرٹریٹ کا ’لولی پاپ دیا گیا تھا‘ اور اب وہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ تمام اہم سیکرٹریوں کو جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ سے واپس بلانے کے عمل سے ثابت ہوگیا کہ یہ بھی ایک مذاق ہی تھا اور حکومت نے صرف گونگلوں سے مٹی جھاڑی۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا یے کے اس حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کو قانون سازی سے دور کرنے کے فوری بعد جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث سات محکموں کے سیکرٹریوں کو وزارت قانون نے واپس بلانےکی منظوری دی۔ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کی چیئرپرسن زینب عمیر کے مطابق حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں 20 محکمے قائم کر کے سیکرٹری تعینات کیے لیکن رولز آف پروسیجر نہ بننے کے باعث وہ سرکاری امور انجام دینے سے قاصر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا تجربہ تھا اس لیے پوری طرح قانونی ڈھانچہ نہیں بنایا جاسکا۔ اب وزارت قانون نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک اس بارے میں قانون سازی مکمل نہیں ہوتی سات محکموں کے سیکرٹریوں کو واپس سول سیکرٹریٹ لاہور بلا لیا جائے۔ جب تک نئی قانون سازی نہیں ہوتی تب تک یہ افسران یہاں اپنے فرائض انجام دیں گے بعد میں وہاں تعیناتیاں کی جائیں گی۔
دوسری طرف جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کا مطالبے لیکر چلنے والی والی سرائیکی پارٹی کے رہنما ظہور دھریجہ نے شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کو پی ٹی آئی نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ان کا کہنا تھا عمران خان نے سیاسی شعبدہ بازی کے طور پر پہلے علیحدہ صوبہ بنانے کا اعلان کردیا پھر بہاولپور اور ملتان کے لوگوں کو مرکز بنانے کی بنیاد پر تقسیم کردیا تاکہ یہ متحد نہ ہوسکیں۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے لوگوں کو لالی پاپ دینے کے لیے یہاں ایک غیر سنجیدہ اور بے اختیار سیکرٹریٹ بنایا۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، خزانہ، ثقافت اور اطلاعات جیسے اہم محکمے تو بنائے ہی نہیں گئے مگر جو 20 بنائے گے ان میں سے بھی سات محکموں کے سیکرٹریوں کو واپس بلا لیا گیا اور جواز یہ دیا گیا کہ قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی حکومت ہے جسے سیکرٹریٹ بنانے کی جلدی تھی اور قانونی ڈھانچہ بنایا ہی نہیں؟ ظہور دھریجہ کے مطابق اس ’سیکرٹریٹ کے فعال ہونے سے پہلے ہی اسے خود غیر فعال کیا جارہا ہے جو خطے کے لوگوں سے مذاق ہے۔‘ ان کے مطابق: ’حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی کوئی ایک بھی سنجیدہ کوشش کی ہے تو ثبوت پیش کرے کیونکہ عوام کے سامنے تو کچھ آیا ہی نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پہلے ہی اسمبلیوں میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے قراردادیں پیش کر چکی ہیں لہذا حکومت کیسے دعویٰ کرتی ہے کہ اپوزیشن علیہدہ صوبے کے قیام پر حکومت کا ساتھ نہیں دیتی؟ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا مطالبہ جنوبی پنجاب کا علیحدہ اور بااختیار صوبہ بنانے کا ہے، اسے ایک بے اختیار اور برائے نام سیکرٹریٹ بنانے سے اس مطاکبے کو دبایا نہیں جاسکتا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف حکومت نے جنوبی پنجاب میں سیکریٹیریٹ کے قیام کو علیحدہ صوبہ بنانے کی طرف پہلا قدم قرار دیا تھا اور 15 اکتوبر 2020 تک سیکرٹریٹ کو فعال کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم سیکرٹریٹ کے قیام کے بعد ہی افسران وہاں پوسٹنگ لینے سے انکاری تھے. حالات یہ تھے کہ جون 2020 میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کےلیے 385 سیٹوں کی منظوری دی تھی جس میں جنوبی پنجاب کے علیحدہ سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کی سیٹیں بھی شامل تھیں۔ 31 اگست 2020 کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے مختلف محکموں کے 12 سیکریٹریز کی منظوری دے کر جنوبی پنجاب کے انتظامی طور پر تین ڈویژنز پر مشتمل سیکریٹیریٹ کو کاغذوں میں مکمل طور پر فعال بنا دیا تھا۔ اس وقت حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ سیکریٹری مکمل طور پر بااختیار ہوں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں گے۔ صوبائی اور وفاقی وزرا نے اس اقدام کو جنوبی پنجاب کے الگ صوبہ بننے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ تاہم افسروں کے وہاں جانے سے انکار اور قانون سازی نہ ہونے کے باعث اکثر سیٹیوں پر تعیناتی ہی نہیں کی جا سکی تھی اور اب وہاں جو چند ایک افسران تعینات کئے گئے تھے ان کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔ یوں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہونے سے پہلے ہی اجڑ چکا ہے۔
