کپتان نے بزدار کو فارغ کیا تو اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟

سینیٹ الیکش میں یوسف رضا گیلانی کی غیرمتوقع جیت کے زلزلے نے کپتان حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اسکے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑا بلکہ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کپتان پہلی مرتبہ سنجیدگی سے وزیر اعلی عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ اس سوچ کی بڑی وجہ سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کے حوالے سے دیا گیا ٹاسک حاصل کرنے میں عثمان بزدار کی ناکامی ہے جس وجہ سے یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوگے۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیہ میں کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کے متبادل کا نام فی الحال فائنل نہیں ہو سکا۔ پہلے کہا گیا تھا کہ راجہ بشارت کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے، پھر اطلاع آئی کہ نہیں علیم خان اور راجہ بشارت دونوں کے نام زیر بحث ہیں، پھر یہ خبر آئی کہ ایک ادارے نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ اگر شاہ محمود یا چودھری فواد کو یہ عہدہ دیا جائے تو وہ اسے ذیادہ بہتر انداز سے چلا سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ پنجاب کے اراکینِ اسمبلی اسلم اقبال، راجہ یاسر ہمایوں اور مراد راس کے نام بھی بطور وزیر اعلی زیر غور آ چکے ہیں۔
لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں جب تک متبادل نام پر اتفاق نہیں ہو جاتا، میری ذاتی رائے میں تب تک بزدار کا ہی طوطی بولتا رہے گا۔ انکے مطابق اس وقت پنجاب میں تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی متبادل ڈھونڈنا ہے۔ فائنل چوائس عمران خا کے پاس ہے انہیں فی الحال بزدار ہی پسند ہے، تاہم ان پر دبائو ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ خود یہ فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں، سہیل وڑائث کے خیال میں یہ وقت گزر گیا تو پھر حالات ان پر اپنا فیصلہ تھوپیں گے اور ہو سکتا ہے کہ تب اگلا وزیراعلیٰ ان کی مرضی کا بھی نہ ہو اور انہیں اسے تسلیم بھی کرنا پڑ جائے۔
دوسری طرف بلاول بھٹو کا متبادل پلان یہ ہے کہ نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور ق لیگ مل کر پنجاب کی بزدار حکومت بدل دیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق بلاول چاہتے ہیں کہ نواز لیگ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر قبول کرلے تاکہ دوسری طرف چودھری اپنا اتحاد تحریک انصاف سے توڑ کر پی ڈی ایم کے ساتھ کر لیں۔ بظاہر اس سیاسی پلان کی کامیابی کا فوری امکان نہیں لیکن فرض کریں کہ اگر پی ٹی آئی حکومت نے عثمان بزدار کی بجائے کسی اور کو چیف منسٹر بنانے کی کوشش کی، چاہے وہ چودھریوں کے سابق اتحادی راجہ بشارت ہی کیوں نہ ہوئے، تو چودھری اس پر ناراض ہو جائیں گے۔ یہی وہ مرحلہ ہو گا جب بلاول بھٹو کی سیاسی حکمت عملی پر عملدرآمد کا وقت شروع ہو گا۔
پنجاب میں سیاسی تبدیلی صرف اہلِ سیاست کے بس کی بات نہیں، یہ تبدیلی اتنی بڑی اور اہم ہے کہ اس میں ریاستی اداروں کی ’’ان پٹ‘‘ کے بغیر آگے نہیں چلا جا سکتا۔ لہذا سہیل وڑائچ کے خیال میں عمران کو یہ تبدیلی، ریاستی اداروں کے ساتھ صلاح مشورے اور ان کی مکمل اشیر باد کےبعد ہی لانی چاہئے وگرنہ ایسا نہ ہو کہ تبدیلی کہیں الٹی پڑ جائے۔ موجودہ صورت حال میں عمران خان کو ایک جانب تبدیلی لاتے وقت اداروں کی ناراضی کا خدشہ ہے تو دوسری طرف اپنے اتحادی چودھریز آف گجرات سے بھی کشیدگی کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں فتح کے حوالے سے بھی کئی اندرونی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ سہیل وڑاچ کا کہنا ہے کہ سیاسی ذرائع کے مطابق صرف 16 افراد نے پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ نہیں دیے بلکہ انکی تعداد تین درجن کے قرئب تھی۔ نواز لیگی رہنمائوں کو شک ہے کہ ان کے چار ارکان نے جبکہ اپوزیشن کی صفوں میں سے 6 مزید افراد نے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو ووٹ دیے جبکہ حکومت کی طرف سے تقریباً 25، 26 افراد نے پارٹی لائن سے ہٹ کر خفیہ طور پر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیے
گویا دونوں اطراف سے بغاوت کرنے والے افراد کی تعداد 36 کے قریب تھی۔ اتنی بڑی تعداد کا اپنی جماعتوں سے ناراض ہونا بذاتِ خود ایک بڑا سوال ہے اور ایک سیاسی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پارٹی قیادت اور ایم این ایز کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور بظاہر اس بحران کو پُر کرنے کے لئے کوئی کوشش ہوتی بھی نظر نہیں آرہی۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں حکومتی سائیڈ کے حوالے سے ایک بڑی کمزوری پنجاب حکومت کی طرف سے ممکنہ امداد پہنچانے میں ناکامی تھی۔ 1985کے بعد سے بننے والے نظام میں وزیراعظم کو اگر وزیراعلیٰ پنجاب کی بھر پور حمایت نہ حاصل ہو تو اس وزیراعظم کا حال مغل بادشاہ شاہ عالم جیسا ہو جاتا ہے، جس کے عہدِ اقتدار کا مشہور قول ہے کہ ’’سلطنت شاہ عالم، ازدلی تا پالم‘‘۔ سینیٹ الیکشن میں حکومتی سائیڈ کے ہارنے کی وجہ جہاں ایم این ایز کی ناراضی تھی وہاں ایک اہم شخصیت کا مڈل ایسٹ کا دورہ بھی تھا، اگر وہ شخصیت موجود ہوتی تو شاید حکومت کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ اس شکست کی تیسری اہم وجہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا بےاثر ہونا ہے۔ یاد کیجئے جونیجو کے زمانے میں نواز شریف، محترمہ کے زمانے میں وٹو اور نکئی اور پرویز مشرف کے زمانے میں پرویز الٰہی اس قدر طاقتور وزیر اعلی ہوتے تھے کہ انہیں ایک ایک ایم این اے کے دل کا حال معلوم ہوتا تھا۔
لیکن سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس دفعہ سینٹ الیکشن کے موقع پ لگتا تھا کہ پنجاب حکومت وہ کنٹرول کھو بیٹھی تھی، اور شاید کسی نے اس بار ایم این ایز کو ہینڈل ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی سائیڈ کو سینیٹ میں شکست ہوئی، اگر پنجاب کا بھرپور ساتھ ہوتا تو ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ 12 مارچ کے روز چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں ایک زبردست معرکہ آرائی ہو گی، یہ اداروں کے نیوٹرل ہونے کا امتحان ہوگا اور اگر ادارے واقعی نیوٹرل رہتے ہیں تو گنتی اور اعدادوشمار واضح طور پر یوسف رضا گیلانی کے حق میں ہیں، ایسا ہوا تو طاقت کا توازن بدل جائے گا۔
چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کا آگیا تو یہ آفٹر شاک دھماکہ خیز ہوگا اور اس سے مزید تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوتی رہے گی۔ امکان یہ ہے کہ نیوٹرل ہونے کے دعوئوں کے باوجود سینیٹ میں حکومت کے لئے ہزیمت فی الحال پالیسی کا حصہ نہیں ہے، اس لئے حکومت کی فتح کے لئے پورا زور لگے گا۔ عمومی توقع تھی کہ سینیٹ الیکشن کے بعد سیاسی لہریں پُرسکون ہو جائیں گی مگر ہوا اس کے بالکل الٹ ہے، سیاسی سمندر میں طوفان در طوفان آ رہے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اور پھر پنجاب میں ممکنہ تبدیلی اور اس کے علاوہ اپوزیشن کا لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد یہ سب وہ اہم واقعات ہیں جو آنے والے دنوں میں ہونے ہیں، اس لئے سیاست کے سمندر میں جوار بھاٹا کی سی کیفیت رہے گی۔
