جہانگیر ترین نے نواز شریف سے رابطے کی تردید کردی


شوگر سکینڈل کے روح رواں اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے وزیر اعظم عمران خان اور اس کے کھلاڑیوں کو اپنے احسانات جتانے کے فوری بعد یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ کوئی موقع پرست سیاستدان نہیں ہیں کہ اختلافات پر کپتان کے مخالفین سے ہاتھ ملا لیں۔ انہوں نے کہا کی وہ اب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور کوشش کریں گے کہ اسی کے ساتھ رہیں۔
اس سے پہلے میڈیا پر اطلاعات آئی تھیں کہ جہانگیر ترین نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کی کوششوں کا آغاز کیا تھا تاکہ کپتان حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ تاہم ملاقات اس لئے نہ ہو سکی کہ نواز شریف نے یہ شرط رکھی تھی کہ ترین پہلے 2018 کے الیکشن میں ہونے والی تاریخی دھاندلی کے حوالے سے ایک اعترافی بیان جاری کریں۔
اس سے پہلے شوگر سکینڈل کا مرکزی ملزم قرار دیے جانے کے باوجود ترین کو کپتان حکومت نے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد سے عمران خان اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ اب ترین نے عمران خان کو ایک دفعہ پھر اپنی وفاداری کا یقین دلانے کیلئے لیگی قیادت سے ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کو یکسر مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ میں موقع پرست نہیں ہوں کہ اختلافات ہونے پر نواز شریف کے ساتھ جا کر بیٹھ جاؤں، میں اصولوں پر چلنے والا سیاستدان ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہ تو میاں نوازشریف سے ملاقات کی ہے اور نہ ہی کرناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں ن لیگ کا میڈیا سیل جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔ ترین نے کہا کہ عمران خان سے میرے اختلافات ہوگئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مفاد پرستوں کی طرح ان کے مخالفین کے ساتھ جاکر بیٹھ جاؤں جن کیخلاف میں ماضی میں جدوجہد کرتا رہا ہوں۔ یاد رکھیں کہ ن لیگ کیخلاف ہماری جدوجہد کی ایک تاریخ موجود ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ جہانگیرترین نے کہا کہ میں اصولی سیاستدان ہوں، پی ٹی آئی کے ساتھ جی جان سے چلا ہوں، اگر وہاں کوئی مسائل ہوگئے ہیں تواس میں میری غلطی نہیں ہے، میں الگ سے بیٹھا ہوں جو اللہ کو منظور ہوگا وہ ہی ہوگا۔ تاہم میری پوری کوشش ہوگی کہ میں تحریک انصاف کے ساتھ رہوں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین جتنی مرضی کوششیں کر لیں لیکن ان کی عمران خان سے دوبارہ قربت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی نہ تو جہانگیر ترین کو پسند کرتی ہیں اور نہ ہی ان کی فیملی کی خواتین کو اچھا سمجھتی ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ان سے متعلق بے بنیاد افواہیں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کی کچن کیبنٹ انھیں باور کروا چکی ہے کہ ترین کو دوبارہ حکومتی اور پارٹی فیصلہ سازی میں شامل کرنے سے نہ صرف ووٹرزاور سپورٹرز کا پارٹی پر سے اعتماد ٹوٹے گا بلکہ کئی پارٹی رہنماؤں کی ناراضی بھی مول لینا پڑے گی ۔ لہذا عمران خان مستقبل قریب میں ترین کو معاف کرتے نظر نہیں آتے۔
واضح رہے گزشتہ چند روز سے خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان سے ناراضگی اور شوگر اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین نے علاج کے بہانے لندن پہنچتے ہی دو مرتبہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جواب میں سابق وزیراعظم نے ملاقات کی مشروط آمادگی ظاہر کی۔ تاہم یہ ملاقات اس لیے نہ ہو سکی کہ نواز شریف نے جو شرائط رکھی تھیں وہ عملدرآمد کے قابل نہیں تھیں۔ بعد ازاں جہانگیر ترین اہنے بیٹے کے ہمراہ کاروباری معاملات دیکھنے سوئزر لینڈ روانہ ہو گئے جہاں سے واپسی پر دوبارہ نواز شریف سے ملاقات کیلئے تیسرا پیغام بھیجا گیا تاہم لیگی قیادت کی طرف سے ملاقات کیلئے دوبارہ شرائط سامنے آنے کی وجہ سے ملاقات کے حوالے سے پیشرفت سامنے نہ آ سکی۔
ان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات کی شرائط کے حوالے سے نواز شریف نے جہانگیر ترین سے مطالبہ کیا تھا کہ ملاقات کے بعد آپ لندن میں ایک میڈیا ٹاک کریں گے اور 2018 کے الیکشن میں کئے جانے والے تمام سیاسی جرائم کا اعتراف کریں گے۔ تاہم ترین نے ایسی کوئی بھی شرط ماننے سے معذرت کر لی جس وجہ سے تاحال ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین اور لیگی قیادت کے مشترکہ دوست دونوں سیاسی رہنماوں کی ملاقات کروانے کے حوالے سے تاحال کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم جہانگیر ترین نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button