جیل یاترا نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو آئرن لیڈی کیسے بنایا؟

نواز شریف نے الیکشن کے بعد وفاق میں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے اورپنجاب اپنی صاحبزادی مریم نوازکے حوالے کرنے کا سرپرائز دیا ہے نواز شریف نے اپنے آخری دور حکومت میں مریم نواز کو نہ صرف رموز سیاست سکھائے بلکہ پارٹی کو ان کے تابع بھی کر دیا۔ نواز شریف کے آخری دور اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی مریم نواز کو بھی ’’ناکردہ گناہوں‘‘ کی سزا دی گئی اور انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا، اس دوران اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کرنے والوں کو جہاں نواز شریف کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے وہاں انہوں نے مریم نواز کو مظبوط اعصاب کی حامل’’آئرن لیڈی‘‘ پایا۔ مریم نواز نے جرات سے جیل کاٹی اورخود کو نواز شریف کی کمزوری نہ بننے دیا، جیل یاترا نے انہیں کندن بنا دیا جس کے بعد مریم نواز کے لئے اس منصب کا انتخاب کیا گیا ہے جس پران کے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف فائز رہ چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی نواز رضا نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ مریم نواز کو نواز شریف کا ’’سیاسی جانشین‘‘ بنائے جانے کی پیشگوئی چھ برس قبل ہی کر دی گئی تھی اس فیصلے کے خلاف پہلی بغاوت چوہدری نثار علی خان نے کی جنہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا، چوہدری نثار علی خان مریم نواز کیمپ کا پہلا ٹارگٹ بنے۔ نواز شریف در اصل مریم نواز کے سیاست میں آنے کے سخت مخالف تھے وہ مشرقی روایات کے علمبر دار تھے وہ یہ سمجھتے تھے پاکستانی معاشرے میں عورت کو سیاست میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بیگم کلثوم نواز نے، مریم نواز کی ملکی سیاست میں دلچسپی کے باعث میاں نواز شریف کو قائل کر ہی لیا، انہوں نے مریم نواز کو محدود پیمانے پر سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دے دی مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم کا سربراہ بنایا گیا تو کئی حلقوں میں ان کی ٹیم کی جارحانہ مہم کی تپش محسوس کی گئی اس وقت مریم نواز سے پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہو جاتا تھا کہ ان کے اندر ’’چھپا سیاست دان‘‘ ایک دن پوری آب و تاب سے آسمان سیاست پر چمکے گا۔ نواز رضا بتاتے ہیں کہ مریم نواز کو مسلم لیگ نون کے جلسوں میں ملنے والی پذیرائی کے پیش نظر نواز شریف نے انہیں پارٹی کا چیف آرگنائزر و سینئر نائب صدر بنایا تو خلاف توقع پہلا استعفیٰ شاہد خاقان عباسی کا آیا، عام انتخابات سے قبل ہی ان کی مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا ہو گئیں،چوہدری نثار علی خان نے جو راستہ 6 سال پہلے اختیار کیا تھا وہ شاہد خاقان عباسی نے بعد میں اختیار کرلیا۔ لال حویلی کا ’’مکین‘‘ مسلم لیگ ن سے ش نکلنے کی پیشگوئی کرتے کرتے خود کہیں کھو گیا۔ اگر چہ 2024کے انتخابات میں نواز شریف اور مریم نواز کو کامیابی حاصل ہوئی ہے تاہم وفاق میں مسلم لیگ (ن) واحد اکثریتی جماعت بن کر نہ ابھری لیکن اسے پنجاب میں اکثریت حاصل ھو گئی ھے یہی صوبہ مسلم لیگ (ن) کی طاقت کی بنیاد ھے ہے ۔ 1947ء سے لے کر اب تک 20 وزرائے اعلیٰ ’’تخت لاہور‘‘ پر براجمان ہوئے ہیں۔ ان میں افتخار حسین ممدوٹ، ممتاز دولتانہ، ملک فیروز خان نون، عبدالحمید دستی، معراج خالد، غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، صادق حسین قریشی، نواز شریف ، غلام حید وائیں، منظور وٹو ، شیخ منظور الٰہی، عارف نکئی، میاں افضل حیات، شہباز شریف ، چوہدری پرویز الہٰی، شیخ اعجاز نثار، دوست محمد کھوسہ، نجم سیٹھی، حسن عسکری، عثمان بزدار، حمزہ شہباز اور محسن رضا نقوی کے نام قابل ذکر ہیں، پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت ملنے سے اہم فیصلے کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت سے صوبائی حکومت کو ’’کمفرٹ‘‘ ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے گا
نواز رضا کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی صفوں میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان مسلم لیگی حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیں گے وہ ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیواں گے‘‘ کی سوچ سے پنجاب اسمبلی میں آرہے ہیں۔چناچہ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک بڑا امتحان ہو گا وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ’’جارحانہ مزاج ‘‘ جاتی امرا میں چھوڑ کر ایوان میں آنا ہو گا اور انہیں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر ’’برداشت اور صلح جوئی‘‘ کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے غریب آدمی کو 200یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم کر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ مار ختم کی جائے، مفت علاج کےپروگرام کو یقینی بنایا جائے، در حقیقت عام آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لانا حکومت کا ایجنڈا ہونا چاہیے،پنجاب اسمبلی کے ارکان کو جہاں وزیر اعلیٰ تک رسائی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے وہاں انہیں ہفتہ میں ایک بار عام لوگوں کی براہ راست فون پر شکایات کو سننا چاہیے کرپشن پر ’’زیرو ٹالرنس‘‘ ہونی چاہیے۔ مریم نواز ایک پر عزم اور باصلاحیت خاتون ہیں انکی گڈ گورننس سے مسلم لیگ (ن) کا Come back ہو سکتا ہے،چند سال قبل کی بات ہے پنجاب میں پیپلز پارٹی کا طوطی بولتا تھا کسی کو پیپلز پارٹی کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں ہوتی لیکن بیڈ گورننس نے پیپلز پارٹی کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اسے امیدوار تلاش کرنا پڑ رہے ہیں مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ آخری چانس ہے ذرا بھی کوتاہی برتی گئی تو اس کا حال بھی پیپلز پارٹی جیسا ہو جائے گا۔
