حادثے میں بچ جانے والے ظفر مسعود کا مینا کماری سے کیا تعلق ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ کراچی طیارہ حادثے میں 97 مسافروں کے مارے جانے کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے دو افراد میں سے بینک آف پنجاب کے خوش قسمت سربراہ ظفر مسعود کس کے بیٹے اور کس کے نواسے ہیں؟اور کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کی ماضی کی معروف بھارتی فلمی اداکارہ میناکماری سے کیا رشتہ داری ہے؟
ظفرمسعود دراصل پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف اور لیجنڈری اداکار منور سعید کے صاحبزادے ہیں جو ماضی میں سینکڑوں پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں کام کرچکے ہیں۔ 45 سالہ ظفر مسعود اداکار منور سعید کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں، منور سعید کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے پر انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ ملیر منتقل کیا گیا ہے جہاں ایکسرے کے بعد پتہ چلا کہ ان کے کے بائیں بازو کی ہڈی تین جگہ سے فریکچرڈ ہے۔ بعدازاں آپریشن کے ذریعے انکے بازو کی ہڈی کو جوڑ دیا گیا۔
دنیا بھر میں طیاروں کے حادثہ میں کسی کے بچ جانے کی مثالیں بہت ہی کم موجود ہیں۔ ان حادثات میں بچ جانے والوں کو انتہائی خوش قسمت سمجھا جاتا ہے۔ ظفر مسعود اور محمد زبیر ایسے ہی دو خوش قسمت افراد میں شامل ہیں۔ محمد زبیر پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ وہ تو اتنے خوش قسمت ثابت ہوئے کہ ایک روز ہسپتال میں رہنے کے بعد ان کو اگلے روز گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ طیارہ گرنے کے بعد محمد زبیر کو ہوش آئی تو وہ بھاگ کر جہاز سے باہر نکلے اور یوں ان کی جان بچ گئی۔ محمد زبیر کو کوئی بڑی چوٹ نہیں لگی صرف ان کے جسم کے کچھ حصے آگ سے متاثر ہوئے۔
دوسری طرف جہاز گرنے کے بعد ایک نمبر سیٹ پر موجود ظفر مسعود چونکہ مرکزی دروازے کے ساتھ بیٹھے تھے اس لئے جب دروازہ ٹوٹ کر باہر گرا تو جھٹکے سے وہ بھی اپنی سیٹ اور بیلٹ سمیت جہاز سے باہر جا گرے جس دوران انہیں بایئں بازو پر فریکچرز تو آئے لیکن جان بچ گئی۔ ظفر مسعود کے خاندانی ذرائع کے مطابق بازو کے دو آپریشنز ہونے کے بعد ان کی حالت ابھی بہت بہتر ہے۔
ظفر مسعود بینک آف پنجاب کے صدر ہیں۔ حادثے کے ایک روز بعد ان کے بازو کا آپریشن ہوا۔ ان کے بھائی علی مسعود نے بتایا کہ انھیں ڈاکٹروں نے آئندہ چند دن تک بات کرنے سے منع کیا ہے اور ساتھ میں تمام لواحقیقن کو ہدایت کی ہے کہ ان سے اس حادثہ سے متعلق کوئی بھی بات نہ کی جائے کہ اس سے مریض پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ علی کے بڑے بھائی نے ان کو حادثہ کے متعلق بتایا کہ جب جہاز گرا تو ان کے بھائی کو اس وقت صرف اتنا یاد ہے کہ انھیں کسی چیز کا دھکا لگا اور وہ جہاز سے باہر جا گرے۔ غالباً وہ کسی کار کی چھت کے اوپر جا گرے تھے۔ اسوقت ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ پھر وہ بے ہوش ہوگئے لیکن لوگوں نے انھیں اٹھایا اور فی الفور ہسپتال پہنچا دیا اور یوں ان کی جان بچ گئی۔
ظفر مسعود کے بھائی علی کے مطابق ان کے خاندان کا تعلق بنیادی طور پر بھارت کے شہر امروہا سے ہے اور وہ معروف ادبی شخصیات جون ایلیا، رئیس امروہوی اور مشہور بھارتی فلم پاکیزہ سے شہرت پانے والے کمال امروہی کے خاندان سے ہیں۔ یاد رہے کہ فلم پاکیزہ کی ہیروئن میناکماری نے 1952 میں کمال امروہوی سے شادی کرلی تھی۔ تاہم 1964 میں دونوں کے مابین علیحدگی ہو گئی لیکن طلاق نہ ہوئی اور مینا کماری 1972 میں کثرت مے نوشی کی وجہ سے اپنی وفات تک کمال امروہوی کے نکاح میں رہیں۔
یاد رہے کہ کمال امروہوی کراچی کی تین مشہور ادبی شخصیات رئیس امروہوی، سید محمد تقی اور جون ایلیا کے چھ زاد بھائی تھے۔ رئیس امروہوی کو ستمبر 1988 میں کرچی میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ظفر مسعود کےنانا سید محمد تقی امروہوی، اور انکے بھائی ریئس امروہوی اور جون ایلیا کا خاندان قیام پاکستان کے 5 برس بعد 1952 میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ رئیس امروہوی اور جون ایلیا پاکستان کے معروف شاعر اور ادیب تھے جبکہ سید تقی امروہی معروف اخبار جنگ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ مسعود ظفر کے دادا مسعود حسن ایک وکیل تھے اور ان کے والد منور سعید پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کے معروف اداکار تھے۔
آج بھی مسعود ظفر کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ کبھی بھارت جائیں اور اپنے آباؤ اجداد کے گھروں کو دیکھ پایئں۔ مسعود کی والدہ نے 2014 میں بھارت کا سفر کیا تھا اور وہ وہاں ایک ماہ تک قیام کیا۔ تاہم پاک بھارت تعلقات خراب ہونے کے باعث ان دونوں خاندانوں کا آنا جانا رک گیا۔ دونوں خاندان مشہور صوفی سید حسین شرف الدین شاہ ولایت کی اولادیں ہیں جن کی درگاہ امروہہ میں ہے اور بچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button