حفیظ شیخ کو سلیکٹرز نے فارغ کیا یا سلیکٹڈ نے؟

آئی ایم ایف کے امپورٹڈ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی اچانک چھٹی ہو جانے کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر وزارت خزانہ حاصل کرنے والے حفیظ شیخ کو وزیراعظم عمران خان نے فارغ کیا ہے یا ان سلیکٹرز نے جو عمران کو بھی اقتدار میں لائے تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ہٹائے جانے کی بنیادی وجہ مہنگائی کو قرار دیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں سینٹ الیکشن ہارنے کے بعد وہ آئینی طور پر اس عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ قانون کے مطابق کوئی بھی غیر منتخب وزیر چھے مہینے سے زائد اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ یاد رہے کہ حفیظ شیخ اس سے پہلے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ تھے، جنھیں بعد میں عمران خان نے باقاعدہ وفاقی وزیر تعینات کر دیا تھا۔ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بھی آیا گیا کہ غیر منتخب اشخاص حکومتی کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کر سکتے۔

پاکستانی آئین کے تحت وزیرِ اعظم کسی بھی غیر منتخب شخص کو صرف چھ ماہ کے لیے وزیر تعینات کر سکتے ہیں۔دسمبر 2020 میں وفاقی وزیر تعینات ہونے والے عبدالحفیظ شیخ کے لیے یہ حد جون 2021 تک تھی۔
حفیظ شیخ کو اس عہدے پر برقرار رہنے کے لیے انتخاب میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنی تھی، چنانچہ تحریکِ انصاف نے مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخاب میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے امیدوار سابق وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں اُنھیں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ لیکن وہ تین مارچ کو ہونے والے اس انتخاب میں ہار گئے تھے حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے ذاتی طور پر ان کی کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ بعدازاں شکست کے بعد جب حفیظ شیخ نے وزیراعظم سے ایک ملاقات میں استعفے کی پیشکش کی تو انہیں کام جاری رکھنے کے لیے کہا گیا لیکن پھر اچانک آئی ایم ایف سے تازہ ترین قرضہ حاصل کرنے کے فوری بعد عمران خان نے ان کو دودھ کی مکھی کی طرح فارغ کر دیا۔

ان کی جگہ میاں محمد اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر کو وفاقی وزیر خزانہ بنا دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے تقریباً پونے تین سالہ دورِ حکومت میں ملک کے سب سے بڑے مالیاتی عہدے پر یہ تیسری تعیناتی ہے۔ اس سے قبل اسد عمر کو وفاقی وزیرِ خزانہ بنایا گیا تھا، جنھیں ہٹا کر عبدالحفیظ شیخ کو تعینات کیا گیا، اور اب اُنھیں ہٹا کر حماد اظہر کو لایا گیا ہے۔ مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ عملی سیاست سے دور رہتے ہیں لیکن گزشتہ 19 برسوں میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوئی اور وہ قلمدان جن کے کئی سیئنر سیاست دان اور ٹیکنو کریٹ خواب دیکھتے ہوں انہیں مل گیا ہو۔ لیکن ہر مرتبہ ان کی چھٹی بھی اچانک ویسے ہی ہوتی ہے جیسے ان کی تعیناتی ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے حفیظ شیخ کی پیدائش پیپلز پارٹی کے بانیوں میں شامل غلام نبی شیخ ایڈووکیٹ کے ہاں ہوئی تھی، جن کا تعلق جیکب آباد سے تھا، لیکن اس کے برعکس حفیظ شیخ جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے علاوہ اب تحریک انصاف کے ساتھ بھی تعلق جوڑنے میں کامیاب رہے۔ انگریز فوجی جنرل جان جیکب کے بسائے ہوئے شہر جیکب آباد میں حفیظ شیخ کے والد نبی شیخ پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اور سرگرم سماجی رہنما رہے جبکہ ان کے والد عبدالحکیم شیخ کی شناخت ایک استاد کی تھی، شہر میں ان کے نام سے آج بھی ایک ہائی سکول موجود ہے۔ حفیظ شیخ ابتدائی تعلیم سندھ میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہوگئے، جہاں بوسٹن یونیورسٹی کے شعبے اکنامکس میں داخلہ لیا اور وہاں سے پہلے ایم ایس اور بعد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ امریکہ میں ہی ہارورڈ یونیورسٹی میں درس و تدریس سے منسلک ہوگئے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کو انہوں نے 1990 کی دہائی کے آخر میں خیرآباد کہا اور عالمی بینک کی ملازمت اختیار کرلی اور کچھ عرصے کے بعد انہیں سعودی عرب میں عالمی بینک کے پروگرام کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ سعودی عرب کے علاوہ وہ دنیا کی ابھرتی معشیتوں سری لنکا، ملائشیا، کویت اور بنگلادیش سمیت 25 ممالک میں عالمی بینک کے مشیر رہ چکے ہیں، وہ ارجنٹینا میں نجکاری پر کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

حفیظ شیخ نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں سیاست میں قدم رکھا۔ 2000 میں انہیں سندھ کا وزیرِ خزانہ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں اس وقت کے وزیرِاعظم کا مشیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری مقرر کیا گیا اور بعد میں وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے۔ 2006 میں حفیظ شیخ نے حکومت کو خیرباد کہہ دیا اور اگلے چار سال تک سیاسی میدان سے غائب رہے اور 2010 میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے استعفیٰ دے دیا تو حفیظ شیخ کی دوبارہ سیاست میں واپسی ہوئی اور انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان دینے کے ساتھ سینیٹر بھی منتخب کرایا گیا۔ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ بیرون ملک منتقل ہوگئے اور تقریباً 5 سال کے بعد ان کا سیاست میں تب دوبارہ ظہور ہوا جب عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں کو انکی ضرورت پڑ گئی۔

دراصل حفیظ شیخ کی تعیناتی کے ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بحث کا آغاز ہو گیا تھا کہ ہر دور حکومت میں اس اہم عہدے کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے جو عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آتی اور ہمیشہ تب ہی پاکستان آتی ہے جب انہیں بلایا جاتا ہے۔ حفیظ کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ وہ عمران خان کی چوائس نہیں تھے بلکہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی چوائس تھے اور جس طرھ عمران کو اقتدار میں لایا گیا اسی طرح شیخ کو بھی وزارت خزانہ سونپی گئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلم لیگ نواز کے سوا پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں یہ ایک بڑا مسئلہ پایا جاتا ہے کہ ان کے پاس صف اول کے معاشی ماہرین نہیں ہوتے۔
اسی کمزوری کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں کو بھی ’بریف کیس‘ وزیر خزانہ کی طرف دیکھنا پڑا اور عمران دور۔ میں بھی وہی ہوا۔

سینیئر صحافی محمد ضیا الدین بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ حفیظ شیخ عمران خان کا نہیں بلکہ ’کسی اور‘ کا انتخاب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ دور دور تک عمران خان کے ریڈار پر نہیں تھے‘ اور ان کے خیال میں ان کے آپس میں کسی قسم کے تعلقات بھی نہیں رہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ندیم ملک کا بھی کہنا ہے کہ ’جب معیشت پر مشکل وقت آتا ہے تو پاکستان سے باہر ایسے پاکستانیوں سے مدد مانگی جاتی ہے جو کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے یا کسی بڑے بینک کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔‘ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ جس تیزی سے اچانک حفیظ شیخ اقتدار میں آئے تھے اسی تیزی کے ساتھ اچانک فارغ بھی ہو گے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آیا حفیظ شیخ کو عمران خان نے فارغ کیا ہے یا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button