حوض نور کو انتقام لینے کےلیے نشانہ بنایا، ملزم کا انکشاف

نوشہرہ میں بچی حوض نور کے قتل کیس کے مرکزی ملزم ابدار کے اعترافی بیان میں شرم ناک انکشاف کی ہے کہ اس نے اپنا بدلہ لینے کےلیے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
تفصیلات کے مطابق ملزم کا کہنا ہے کہ مقتولہ حوض نور کے ماموں نے حجرے میں مجھے دو مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ بیان کے مطابق ملزم ابدار کا کہنا ہے کہ حوض نور کے ماموں شہزاد نے مجھے دو دفعہ اپنے حجرے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اس نے انتقام لینے کےلیے حوض نور سے تعلق بنایا۔
ملزم نے بتایا کہ خواہش پوری کرنے سے انکار پر نور کو پانی کی ٹینکی میں پھینک دیا، نکلنے کی کوشش کے دوران اس نے نور کی گلا دبا دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ملزم نے مزید بتایاکہ لاش ملنے پر بچی کے والدین میرے گھر پہنچ گئے اور حجرے لے جا کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا پھر پولیس مجھے تھانے لے آئی۔
ڈی پی او نوشہرہ کاشف ذوالفقار کا کہنا ہے کہ حوض نور کے نمونے ڈی این اے کےلیے خیبر میڈیکل کالج بھیجے گئے اور مزید بہتر نتائج کےلیے نمونے پنجاب فرانزک لیب بھیج دیے گئے ہیں جب کہ ملزم کے خون کے نمونے بھی لاہور بھیجے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 20 جنوری کو 7 سالہ حوض نور کی لاش کھیت کے قریب ٹینک سے ملی، علاقہ مکینوں نے بچی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں دو ملزمان کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
